پی آئی سی پر حملہ کرنیوالے 32 وکیلوں کو جیل بھیج دیا گیا،پنجاب بھر میں ہڑتال

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ،نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عبدالقیوم خان نے پی آئی

سی پر حملہ کرنے کے مقدمہ میں پیش کئے گئے 32وکلا ء کو 14روز ہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل

بھجواتے ہوئے سرکاری وکیل کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی ،عدالت نے ان وکلا ء

کوشناخت پریڈ کے لئے جوڈیشل لاک اپ منتقل کرنے سے قبل ان کامیو ہسپتال سے طبی معائنہ

کرانے کاحکم بھی دیاہے۔پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار وکلا ء کی جانب سے ضمانت کی

درخواستیں دائر کردی گئی ہیں ،یہ درخواستیں سپریم کورٹ کے نائب صدر چودھری غلام مرتضیٰ

کی وساطت سے دائر کی گئی ہیں،جن کی سماعت آج 13دسمبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت

کرے گی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پی آئی سی حملہ کیس میں ملوث وکلاء کوپولیس نے

سخت سکیورٹی حصار میں کپڑے سے چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں پیش کیا،کیس کی سماعت شروع

ہوئی تو سرکاری وکیل نے گرفتاروکلاء کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا

کہ گرفتار وکلاء توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی ،دہشت گردی اور اقدام قتل کے الزام کا سامنا کررہے ہیں،

ملزموں کا15روزہ جسمانی ریماند دیا جائے جس پرسپریم کورٹ بار کے نائب صدر غلام مرتضی

چودھری اورسینئر وکیل مقصود بٹرنے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی

جانب سے بے گناہ وکلا ء کو گرفتار کیا گیا ہے ، پولیس نے وکلا ء کو تشد کا نشانہ بنایا ہے ،عدالت

سے استدعاہے کہ تمام وکلا ء کا میڈیکل کرایاجائے،عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد

سرکاری وکیل کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے مذکورہ وکلاء کو 14روزہ جوڈیشل

ریمانڈ پر جیل بھجوا نے کا حکم دے دیاجبکہ وکلا ء کو شناخت پریڈ کے لئے جوڈیشل لاک اپ منتقل

کرنے قبل ان کامیوہسپتال سے میڈیکل کرانے کاحکم دیتے ہوئے انہیںآئندہ سماعت پر عدالت میں پیش

کرنے کا حکم دیاہے ،انسداد دہشت گردی کی عدالت میں وکلاء نے ضمانت کی درخواستیں دائر کرتے

ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی سی پر حملہ کا الزام غلط ہے ،پرامن احتجاج پر وکلاء کو

گرفتارکیا گیا،جن وکلاء کوانسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ان میں عدنان بھٹی ، بشارت

عباس، سجاد رشید، محمد عمران ،محمد عظیم ، سید ذیشان، مدثر رشید، ملک محمد ارشد، جونید

ارشد،رانااسلام، محمد اسد سلیمان، عمران نعیم، ارشد، علی عمران، حسن مرزا، حافط عمیر، فہیم

شوکت، شیخ عرفان، علی بن خالد، اسد ظفر، ملک فاروق، حافظ تنویر، دلاور، غیاث احمد، ارسلان

رضا، محمد تراب وڑائچ، مطیع الرحمن، رانا کوثر، ساجد حسین، مقصود احمد، حسن علی اورحافظ

محمد شکیل شامل ہیں،عدالتی سماعت سے قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اندر اور باہر پولیس

کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جاسکے،مذکورہ وکلاء

کے خلاف تھانہ شادمان پولیس نے مقدمہ درج کررکھاہے ۔پی آئی سی واقعہ میں وکلاء کی گرفتاریوں

اور ان پر مبینہ تشدد کے خلاف پنجاب بھر کی طرح لاہور ہائی کورٹ اور لاہور کی ماتحت عدالتوں

میں بھی وکلاء نے مکمل ہڑتال کی ،لاہور ہائی کورٹ بار میں وکلاء تنظیموں کا مشترکہ اجلاس ہوا،

جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اوراقدامات کے لئے وکلاء کے سینئر نمائندوں پر مشتمل وکلاء ایکشن

کمیٹی تشکیل دے دی گئی ،جس نے بعدازاں لاہور ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس مامون رشید

شیخ سے ملاقات کی ،وکلاء کی ہڑتال ،احتجاج اورسیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پنجاب اسمبلی میں

قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز سمیت متعدد اہم شخصیات کو جیل سے لاکر عدالتوں میں پیش نہیں کیا

گیا،وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس سے ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی اور سائلین

اگلی تاریخیں لے کر واپس چلے گئے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply