Correct change in Afghan policy

پیپلز پارٹی کا نسخہ کیمیا اور تحریک انصاف

Spread the love

(تجزیہ:..قدرت اللہ چودھری)
دو خبریں بیک وقت گردش کر رہی ہیں یہ تو نہیں کہا جاسکتا ان میں صداقت کتنی اور جھوٹ کی آمیزش کتنی، کیونکہ خلق خدا کو سچی خبروں میں نہیں فسانہ طرازیوں میں زیادہ دلچسپی ہے۔ اس لئے جس خبر میں حقیقت کی بجائے فسانہ حاوی ہوگا وہ لوگوں کا دامنِ دل زیادہ تیزی سے کھنچتی ہے،

ایک خبر تو یہ ہے کہ من پسند قائمہ کمیٹی نہ ملنے پر ایم کیو ایم پاکستان حکومت سے روٹھ گئی ہے، ویسے تو یہ ضروری نہیں کہ یہ ناراضی حتمی ہو، وقتی بھی ہوسکتی ہے جیسے مسلم لیگ (ق) کئی ہفتے تک اپنی اتحادی حکومت سے ناراض رہی، ایک صوبائی وزیر نے استعفا بھی دیا، لیکن پھر یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا، اب مسلم لیگ (ق) نے ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کیا ہے کہ خبردار کسی نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ بزدار کی حکومت کی جانب کوئی نگاہ غلط انداز بھی ڈالی تو ہم سے برا کوئی نہ ہوگا۔ اتفاق سے مسلم لیگ (ق) کے رہنما سپیکر چودھری پرویز الٰہی اور وزیراعلیٰ اس وقت عمرے کے لئے گئے ہوئے ہیں وہاں ان کی ملاقات بھی ہوگئی ہے اور نئے عہد و پیمان بھی ہوگئے ہیں۔ فوری طور پر پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کوایک وزارت اور مل گئی ہے اور وفاق کی ایک وزارت بھی پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گرنے والی ہے، ایسے میں پرانے گلے شکوے ختم ہوگئے،

اتفاق ہے جونہی یہ خوش آئند صورتحال سامنے آئی، وفاقی حکومت کی ایک دوسری اتحادی جماعت کو بھی شکایت پیدا ہوگئی، اس جماعت کے پاس دو اہم وزارتیں تو پہلے بھی ہیں اب اس نے توانائی داخلہ اور انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی بھی مانگ لی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کو خصوصاً انسانی حقوق سے گہری دلچسپی ہے کیونکہ اس کی ساری تاریخ انہی حقوق کی نگہداشت کی گواہی دیتی ہے۔ اب اگر اس کمیٹی کی سربراہی اسے مل جائے تو وہ انسانی حقوق کی بہتر خدمت کر سکتی ہے لیکن شاید درمیان میں کہیں آپا زہرہ کا خون رنگ لے آیا ہے کہ حکومت یہ کمیٹی ایم کیو ایم کو نہیںدینا چاہتی، جس پر رابطہ کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آئندہ کیلئے حکومت کے ساتھ مل کر چلنا ہے یا نہیں۔ ویسے کوئی ہمارا مشورہ مانے تو ایم کیو ایم کو محض تین کمیٹیوں کی سربراہی کے معاملے پر تحریک انصاف کے ساتھ بگاڑ پیدا نہیں کرنا چاہئے۔

قومی اسمبلی میں اس کے ارکان کی تعداد سات ہے جس میں سے دو تو وزیر ہیں تھوڑا بہت دبائو ڈال کر کسی مناسب وقت پر ایک مزید وزارت اسی طرح حاصل کی جاسکتی ہے جس طرح مسلم لیگ (ق) نے انتہائی حکمت عملی اور دانشمندی سے حاصل کرلی۔ چند روزہ کشیدہ تعلقات کے بعد اب پرانے والا دور واپس آگیا۔ اس لئے ایم کیو ایم سے بھی امید ہے جلد بازی نہیں دکھائے گی، تحریک انصاف کو بھی اپنی اتحادی جماعت کی دل جوئی کے لئے ویسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہئے جیسا کسی زمانے میں پیپلز پارٹی روا رکھتی تھی۔ ان دنوں ابھی ایم کیو ایم کے ٹکڑے نہیں ہوئے تھے اور متحدہ صحیح معنوں میں ’متحد‘ تھی۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت میں حصہ دار تھی اس کے وزراء کے پاس دلکش وزارتیں تھیں، گورنر سندھ ان کا تھا پھر بھی کبھی کبھار ایسا ہو جاتا کہ ایم کیو ایم اچانک روٹھ جاتی اور اس کے وزراء ناراض ہو کر گھر بیٹھ جاتے۔ استعفے بھی دے دیئے جاتے، صلح صفائی کے لئے گورنر عشرت العباد کردار ادا کرتے اور اگر ان سے بات نہ بنتی تو رحمن ملک بنفس نفیس لندن جاتے وہاں ’’روٹھنے والو! مان بھی جائو‘‘ کا نغمہ گاتے اور خوشی خوشی واپس آکر یہ مژدہ سناتے کہ ایم کیو ایم کے وزراء مان گئے ہیں اور حسب سابق پرانی تنخواہ پر ہی ملک و قوم کی خدمت انجام دیتے رہیں گے۔

رحمن ملک کو اس کام میں اتنی مہارت حاصل ہوگئی تھی کہ انہیں کبھی لندن سے ناکام نہیں لوٹنا پڑا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ایم کیو ایم اس کا حصہ رہی، علیحدگی صرف اس وقت ہوئی جب انتخابات سے پہلے نگران حکومتوں کی تشکیل کا وقت آیا اس وقت ایم کیو ایم اس لئے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ گئی تاکہ اس کے قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے نگران حکومت تشکیل پاسکے۔ ایسی دانش کا مظاہرہ تمام جماعتیں تو نہیں کرسکتیں۔ لیکن سیاسی کامیابی کے لئے کامیاب ماڈل کی پیروی ہی کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم سے معاملہ کرنے کے لئے وہی سیاسی حکمت عملی اختیار کرے جو پیپلز پارٹی کرتی تھی یہ درست ہے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس وقت سخت بیان بازی کا معاملہ چل رہا ہے لیکن آخر دونوں جماعتیں سینیٹ کے الیکشن کے زمانے میں (مارچ 2018ء) میں ایک ہی صفحے پر آگئی تھیں تو اب یہ دور واپس کیوں نہیں لایا جاسکتا، کوئی ساقی گردش جام کا پرانا دور واپس بھی لاسکتا ہے۔

سیاسی اختلافات تو ہوتے رہتے ہیں خود تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے درمیان یہ اختلافات رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے رہنما اسی طرح ایک دوسرے کے خلاف بیان دیا کرتے تھے جس طرح آج فواد چودھری، آصف زرداری اور بلاول کے خلاف دیتے ہیں اور ان کی گرفتاری کی خبر بھی سناتے ہیں۔ آپا زہرہ کے قتل پر یہ بیان بازی تو اتنی بڑھی تھی کہ تحریک انصاف کے چیئرمین خود ثبوتوں کا اٹیچی کیس بھر کر لندن چلے گئے تھے وہاں کیا ہوا یہ ہماشما کو تو معلوم نہیں لیکن یہ قتل جس کے ثبوت لے کر وہ لندن گئے تھے بالآخر رزق خاک ہی ہوا اور اب حالات کا جبر دونوں جماعتوں کو اس مقام پر لے آیا ہے کہ وہ ایک ہی حکومت میں سٹیک ہولڈر ہیں۔ اس لئے ہمارے خیال میں جو ناراضی اس وقت ایم کیو ایم کو حکومت سے ہے وہ وقتی ہے اور جلد ختم ہو جائے گی۔ شرط صرف یہ ہے کہ دلوں کی رنجشیں ختم کرنے کے لئے باہم مشورے جاری رکھے جائیں۔ ایک دو کمیٹیوں کی چیئرمین شپ توکوئی ایسی بات نہیں جس پر حکومت اپنی ایک اہم اتحادی جماعت کو ناراض کرلے۔

ویسے بھی سیانے کہتے ہیں ’’سارا جاتا دیکھئے تو آدھا دیجئے بانٹ‘‘ اللہ نہ کرے ابھی سارا جانے کی نوبت تو نہیں آئی لیکن ایم کیو ایم حکومت کی اہم اتحادی ہے اس کی حمایت پر حکومت قائم ہے اس لئے اسے ناراض کرنے کی بجائے خوش رکھنا چاہئے۔ پارلیمانی نظام کی خرابی ہی یہ ہے کہ اس میں چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو بھی خوش رکھنا پڑتا ہے اس لئے جب تک ملک میں صدارتی نظام کی برکتیں سایہ فگن نہیں ہو جاتیں اس وقت تک بقول کسے ایسے ناز نخرے تو برداشت کرنے پڑیں گے اسی لئے تو ہمیں ہر چند برس بعد صدارتی نظام کی یاد آتی ہے۔

آج کل بھی اس کی یاد ستا رہی ہے اور بڑے بڑے دانشور اس کی حمایت میں دندان شکن دلائل لاکر قوم کو قائل کر رہے ہیں کہ پارلیمانی نظام پر تین حرف بھیج کر صدارتی نظام کی طرف لوٹ جائے، لیکن جب تک یہ نہیں ہوتا آبگینوں کو ٹھیس تو نہیں لگنی چاہئے۔

Leave a Reply