پیٹرولیم مصنوعات 9 روپے تک مہنگی، قیمتوں کے اطلاق کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ کی توثیق سے مشروط

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن) ماہ رمضان المبارک سے قبل مہنگائی کا ایک نیا

طوفان آگیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی

منظوری دیدی، جس کے تحت پیٹرول9 روپے 35پیسہ اضافے کے ساتھ 108.42

روپے فی لٹرجبکہ ڈیزل 4.89 روپے اضافہ کے ساتھ 122.32 روپے فی لٹرہو

گئی ہے، تاہم نئی قیمتوں کا اطلاق وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری سے

مشروط ہوگا۔ اوگرا نے مئی 2019 ء کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں

اضافے کی سمری وزارت پٹرولیم کو ارسال کی تھی اورپٹرول کی قیمت میں 14

روپے فی لٹراضافہ تجویز کیا گیا تھا۔ بعدازاں وزیراعظم نے قیمتوں کے تعین کا

معاملہ ای سی سی کو بھیج دیا تھا۔ جمعہ کے روزمشیرخزانہ حفیظ شیخ کی زیر

صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں یہ منظوری دی گئی۔ جس کے مطابق

لائٹ ڈیزل 6.40 روپے اضافہ کے ساتھ 86.94 روپے، مٹی کا تیل 7.46 روپے

اضافہ کے ساتھ 96.77 روپے فی لٹرہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی

مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت پیٹرول کی مد میں

پانچ ارب روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔ دریں اثنا مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ

نے ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا مہنگائی ایک مسئلہ ہے جس پر

حکومت پریشان ہے۔ حکومت نے اخراجات میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے

ہیں، دستیاب وسائل سے بھرپور استفادہ کے لیے کوشاں ہیں، معاشی حالات کی

بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پریس کانفرنس میں انکا کہنا تھا دنیا میں

کوئی ملک اکیلے ترقی نہیں کرسکتا، مل کر ساتھ چلنا ہو گا، چین اور بھارت

سمیت دیگر ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے راستے نکالے، باہمی

شراکت داری کیے بغیر ملکوں کی اقتصادی ترقی ممکن نہیں، حکومت اکیلے

اقتصادی ترقی نہیں کرسکتی، ہمیں کامیاب ممالک کو دیکھنا ہو گا انہوں نے کیسے

ترقی کی، لوگوں کو ترقی دیے بغیر ہم اقتصادی ترقی نہیں کرسکتے۔ شروع سے

ہی پاکستان نے برآمدات کے فروغ اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مؤثر

اقدامات کیے، حکومت آئی تو ایکس چینج ریٹ زیادہ ہونے کے باعث برآمدات کم

تھی، درآمدات میں کمی کی جائے گی۔ چند ہفتوں میں بجٹ آنے والا ہے، معاشی

فریم ورک تشکیل دینا ہو گا اور مالی خسارے کو کم کرنا ہے، ریونیو کا شعبہ

مستقبل کے تقاضوں کے مطابق لانا ہوگا، گزشتہ 13 سال میں کسی کمپنی کی نج

کاری نہیں کی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے پرحکومت کا کنٹرول نہیں، عام

لوگوں کی فلاح و بہبود اورمعاشرے میں پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سوشل

پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذکرات چل رہے ہیں،

مناسب پروگرام طے ہو جائے گا۔ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت میں تبدیلی لائے

ہیں، وزیراعظم عمران خان چین کے صدر کے ساتھ معاہدہ کر بھی لیں تونجی

شعبے کے تعاون کے بغیر مؤثر نہیں، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پہلے

سے موجود سرمایہ کاروں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کرنا ہو گا۔

Leave a Reply