پیرس،ایرانی خاتون باکسر نے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا

Spread the love

پیرس(سپورٹس رپورٹر)فرانس میں باکسنگ کے مقابلے میں شرکت کرنے والی

ایرانی خاتون باکسر نے وطن واپس جانے سے انکار کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے

کہ ایران میں کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔صدف خادم

نے فرانسیسی باکسر اینی چان کو سنیچر کو ہونے والے مقابلے میں شکست دی

تھی۔کھیلوں سے متعلق ایک اخبار نے صدف کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا

خیال ہے کہ انھوں نے ایران میں خواتین کے لباس کی شرائط کی خلاف ورزی کی

ہے۔ایرانی حکام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم باکسنگ فیڈریشن کے سربراہ

کی جانب سے اس امکان کو مسترد کیا گیا ہے کہ صدف کی گھر واپسی پر انھیں

گرفتار کر لیا جائے گا۔ایرانی خبر رساں ادارے نے باکسنگ تنظیم کے سربراہ

حسین سوری کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے مطابق صدف ایران کی باکسنگ

تنظیم کی رکن نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے باکسنگ فیڈریشن کی نظر میں ان

کے اقدامات ذاتی ہیں۔مغربی فرانس کے دیہی علاقے رویان میں کھیلے جانے والے

میچ میں صدف نے ایرانی جھنڈے میں موجود رنگوں کے کپڑے پہن رکھے تھے۔

انھوں نے سبز شرٹ، سرخ شارٹس اور کمر کے گرد سفید پٹی باندھ رکھی تھی۔

اگرچہ ایران میں کھیلوں سے متعلق ادارہ موجود ہے لیکن خواتین کے کھیل کے

لیے اس کی شرائط کو پورا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جس میں یہ شامل ہے کہ

مقابلے میں ریفری اور جج بھی خاتون ہی ہو۔مقابلہ جیتنے کے بعد صدف کو امید

تھی کہ ملک میں واپسی پر ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ تاہم پیرس کے ہوائی

اڈے ہر انھیں پتہ چلا کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں۔صدف خادم

کی تربیت سابق ایرانی نژاد ایرانی باکسر ماہیار مونسی پور نے کی ہے اور وہ بھی

ایران جانے کے لیے ان کے ہمراہ موجود تھے۔فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں

صدف نے کہا کہ میں ایک ایسا میچ کھیل رہی تھی جس کی قانونی طور پر اجازت

دی گئی تھی لیکن میں نے ٹی شرٹ اور شارٹس پہن رکھی تھی جو پوری دنیا کی

نظر میں تو ایک عام سی بات ہے لیکن میرے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی

ہے۔میں نے حجاب نہیں لیا تھا اور میرا نگران کوچ ایک مرد تھا اس کی وجہ سے

میں کچھ لوگوں کی نظر میں ناپسندیدہ ہوں۔پیرس میں ایرانی سفارت خانے کے

ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس پر کوئی

تبصرہ نہیں کر سکتے کہ صدف کو واپس لوٹنے پر گرفتار کر لیا جائے گا اور نہ

ہی وہ ان کے ایران واپس نہ جانے کے فیصلے پر کچھ کہہ سکتے ہیں۔

Leave a Reply