tipu nuqta e nazer jtnonline

پہاڑوں کا سپوت محمد علی سدپارہ، پورٹراور فکسر سے کوہ پیما بننے تک

Spread the love

پہاڑوں کا سپوت سدپارہ

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو( 2K ) کو سردیوں میں سر کرنیکی کوشش

کے دوران پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی

کے ہوان پابلو موہر کی 8 ہزار میٹر سے زائد بلندی پر لاپتہ ہونے کی خبر پانچ

فروری کو سامنے آئی تھی جس کے اگلے دن 6 فروری سے انکی تلاش کیلئے جو

کوہ پیمائی کی تاریخ کا طویل ترین سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اس کے

خاتمے کا اعلان 12 دن بعد جمعرات 18 فروری کو کیا گیا۔ اس عرصے میں جہاں

موسم کی خرابی کی وجہ سے ریسکیو کی کارروائی تعطل کا شکار رہی وہیں 15

فروری کے بعد سے اس میں عملی طور پر بھی کوئی پیشرفت نہ دیکھی گئی۔ اس

آپریشن میں جہاں پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا وہیں ایک ورچوئل بیس

کیمپ بھی قائم کیا گیا، ورچوئل کیمپ میں استعمال کی جانیوالی ٹیکنالوجی میں آئس

لینڈ کی سپیس ایجنسی کی خدمات بھی حاصل کی گئیں-

=-= تلاش کیلئے ” آئس آئی “ ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کی گئی

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دن ہو یا رات، بارش ہو یا ہوا، اوپر سے نیچے تک

دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں آئس لینڈ کے ریڈار سیٹلائٹ امیجنگ کی مستقل نگرانی

فراہم کرنیوالی ” آئس آئی “ ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کی گئی۔ آئس آئی سے

ایسی ہائی ریز سیٹلائٹ تصاویر موصول ہوئی ہیں جو آج سے قبل کسی ریسکیو

کارروائی میں استعمال نہیں کی گئیں۔ ان تصاویر سے وہ علاقے بھی دیکھنے میں

مدد ملی ہے جہاں موسم کی خرابی اور سرد ہواؤں کے باعث اب تک ہیلی کاپٹر

کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ خود علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی

تلاش کے عمل میں شامل رہے لیکن کسی کو بھی ان کی تلاش میں کامیابی حاصل

نہ ہو سکی۔ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی جہاں لاپتہ ہوئے تھے، ماہرین

کے مطابق وہاں کسی انسان کا دس سے بارہ گھنٹے سے زیادہ زندہ رہنا ناممکنات

میں سے ہے۔ ماہرین کہتے ہیں آج تک ایسا کوئی ریسکیو آپریشن کامیاب نہیں ہوا،

جس میں کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہو۔

کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ

سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو

جاتے ہیں، سردیوں میں کے ٹو پر جب درجہ حرارت منفی پچاس اور ساٹھ کے

قریب ہوتا ہے اور ساتھ تیز ہوائیں بھی چل رہی ہوتی ہیں، تو وہاں پر انتہائی

مضبوط کوہ پیما بھی 20 گھنٹے تک ہی حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ گرمیوں میں

وہاں پر درجہ حرارت منفی پانچ سے دس ہوتا ہے اس میں زیادہ وقت تک مقابلہ کیا

جا سکتا ہے۔ کے ٹو پر مشکلات کا شکار ہونیوالے کوہ پیما اگر کسی گلیشیر کے

تودے کی زد میں آ جائیں تو پھر ان کی لاش تک بھی نہیں ملتی۔

محمد علی سدپارہ ( پہاڑوں کا بیٹا ) کوہ پیمائی جس کے خون میں رچی بسی تھی

کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زائد بلندی پر چوٹی کے قریب آخری مرتبہ

انکے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ

سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ دونوں باپ بیٹا اس

مہم میں بطور ” ہائی ایلٹی چیوڈ پورٹر High Altitude Porter “ شریک تھے۔

اپنے والد سمیت تینوں کوہ پیماؤں کی موت کا اعلان بھی ساجد سدپارہ نے سکردو

میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا اورکہا کے ٹو نے میرے والد کو ہمیشہ

کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔

==-== ابو حوصلے کا پہاڑ تھے، ہنستے مسکراتے مل کر جاتے، مظاہر حیسن

محمد علی سدپارہ کے دوسرے بیٹے مظاہر حسین نے اپنے والد کی یادیں شیئر

کرتے ہوئے کہا ’میرے ابو حوصلے کا پہاڑ تھے۔ کوہ پیمائی کی ہر مہم پر جانے

سے پہلے امی اور ہم لوگوں سے ہنستے مسکراتے مل کر جاتے اور تسلی دیتے

سب ٹھیک ہو گا۔ وہ کہتے بس تم لوگوں نے پریشان نہیں ہونا بلکہ ہر صورتحال کا

سامنا کرنا ہے۔ کے ٹو کی اس آخری مہم پر جانے سے پہلے بھی انہوں نے ہم سے

یہی کہا تھا۔ ابو تو پہاڑوں کے عشق میں مبتلا تھے اور کوہ پیمائی تو ان کا جنون

تھا۔ وہ مجھے ہمیشہ کہتے تھے مزہ تو تب ہے جب تم تعلیم حاصل کرو اور کوئی

کارنامہ سرانجام دو۔ 45 سالہ علی سدپارہ کو موسم سرما میں نانگا پربت چوٹی سر

کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ کوہ پیمائی میں اپنی مہارت کی وجہ سے انہیں عالمی

سطح پر شہرت حاصل ہوئی۔

علی محمد، محمد علی سدپارہ کے قریبی دوست اور ساتھی ہیں۔ دونوں نے کوہ

پیمائی کا ایک ساتھ آغاز کیا تھا، تاہم علی محمد سدپارہ کے معاشی حالات اچھے

نہیں تھے، بچپن میں کھیتی باڑی کی، مال مویشی کو بھی سنبھالا، انہوں نے اپنے

خواب کو پورا کرنے اور کوہ پیمائی کی دنیا کے اس مقام تک پہنچنے کیلئے

انتھک محنت اور جدوجہد کی اور اپنی ٹوور آپریٹنگ ایجنسی چلانے لگے۔ انہوں

نے اپنے کیریئر کا آغاز ہائی ایلٹی چیوڈ پورٹر کی حیثیت سے کیا۔ اس وقت غیر

ملکی کوہ پیماؤں کا 25 کلو سامان اٹھانے کے یومیہ تین ڈالر ملا کرتے تھے۔ وہ

ایسے پورٹر بنے جو کوہ پیماؤں کیساتھ بلندی پر جاتے اور پہاڑ سر کرنے میں ان

کی مدد کرتے اور ان کا سامان اٹھاتے تھے۔

==-== کئی عالمی کوہ پیماؤں کی کامیابی محمد علی کی مرہنون منت

تھوڑے عرصے میں کوہ پیمائی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے خود

ناصرف نجی حیثیت میں کوہ پیمائی شروع کر دی تھی بلکہ وہ کوہ پیماؤں کیلئے

فکسر کی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔ علی محمد کے مطابق دنیا کے کئی بڑے

کوہ پیماؤں کی تاریخ ساز کامیاب مہموں میں علی سدپارہ کی محنت کارفرما تھی۔

علی سدپارہ ان کوہ پیماؤں کیلئے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر رسیاں باندھتے

تھے جن کی مدد سے کوہ پیما چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہوتے۔ محمد علی سد

پارہ کی زندگی میں پہلی بڑی تبدیلی پاک فوج کیلئے سیاچن تک ساز و سامان

پہنچانے کیلئے بحیثیت پورٹر خدمات فراہم کرنا تھا۔

==-== کارناموں اور ریکارڈز کی تعداد حاصل معلومات سے کئی گنا زیادہ

محمد علی سدپارہ صدی کے بہترین کوہ پیما تھے۔ شاید پاکستان میں دوبارہ کوئی

اور محمد علی سد پارہ پیدا نہ ہو سکے۔ اگر محمد علی سد پارہ کے پاس وسائل

ہوتے تو اس کے کارناموں اور ریکارڈز کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوتی جو

اب ہے۔ محمدعلی سدپارہ کیلئے مہم جوئی صرف شوق ہی نہیں جنون اور عشق تھا

شاید یہی جنون اور عشق ان کی جان لے گیا۔ میرے خیال میں مستقبل میں لوگ

محمد علی سد پارہ پر تحقیق کیا کریں گے۔

=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Must Read=> Another benefit of face masks has emerged

پہاڑوں کا سپوت سدپارہ
پہاڑوں کا سپوت سدپارہ

Leave a Reply