Imran Khan Prim minister Pakistan 117

پھر کہتا ہوں گھبرانا نہیں ،،مشکل فیصلے کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں،عمران خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ای

گورننس ناگزیر ہے۔ اداروں میں اصلاحات کی کوشش کرتے ہیں تومزاحمت ہوتی ہے مگر اس پر قابو

پالیں گے۔پی ٹی آئی حکومت کیلئے معاشی حالات بہتر بنانا بہت بڑا چیلنج تھا۔ پاکستان کے تمام ادارے

خسارے میں تھے۔ حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پا لیا ہے۔ڈیجیٹل میڈیا ویڑن کانفرنس

سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری توجہ معیشت بہتر کرنے پر ہے۔

عالمی ادارے بھی اب پاکستان کی مثبت معاشی کارکردگی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ میری توجہ معیشت

بہتر کرنے پر ہے۔ ای گورننس سے عوام کی زندگیوں کوآسان بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب

ڈالر لندن منتقل ہو رہے ہوں تو روپے پر اثر پڑتا ہے۔ کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے۔ کرپشن

اوپر سے شروع کرنے والے بیرون ملک چلے گئے۔ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ای گورننس

ناگزیر ہے۔ ہمیں ڈیجیٹل پاکستان وڑن پر بہت پہلے توجہ دینی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں

پیسوں کی خاطر دوسروں کی جنگیں لڑی گئیں لیکن آج کا پاکستان امن کے لیے دوسرے ممالک کے

مابین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم مسلم اْمہ کو اکٹھا کرنے میں ہم اپنا رول ادا کریں گے۔عمران

خان نے ایک مرتبہ پھر قوم کو اعتماد دلاتے ہوئے کہا کہ عوام گھبرائے نہ، ملک کا مستقبل روشن

ہے۔ زندگی کا مقصد طے کرنے والے لوگ ترقی کرتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے والے کامیاب

ہوتے ہیں۔ آسان راستے ڈھونڈنے والوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ زندگی کا ہر روز آگے بڑھنے

کا زینہ ہے۔ جس دن چیلنج ختم اس دن آپ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ میں

نے عمر کا زیادہ تر حصہ بیرون ملک گزارا، میںسمندر پار پاکستانیوں کے مثبت رجحانات سے

بخوبی واقف ہوں، زندگی کا مقصد طے کرنے والے لوگ ہی ترقی کرتے ہیں،مشکل فیصلے کرنے

والے لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں،آج باہر کے ادارے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کہہ

رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں استحکام آ گیا ہے، اب ہماری پوری توجہ ڈیجیٹل پاکستان

پراجیکٹ پر ہو گی، ڈیجیٹل پاکستان پراجیکٹ ہماری یوتھ کو ہماری طاقت میں تبدیل کر سکتا

ہے،خواتین بھی اس میں شامل ہوسکتی ہیں ،ہمیں اس منصوبے سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ، ای

گورننس سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا، کرپشن ختم کرنے کا یہی سب سے بہترین طریقہ ہے،اداروں میں

ای گورننس لانا چاہتے ہیں لیکن اس کے خلاف بڑی رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔،پاکستان کا آنے والا

دور خوش آئند ہے،بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اسی لئے تبادلوں کا بلڈ باتھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلم امہ

کو اکٹھا کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے، دنیا بھی پاکستان کے کردار کو تسلیم کر رہی

ہے۔،جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول

کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر اعلیٰ سطحی اجلاس

ہوا جس میں وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی مخدوم خسرو بختیار،

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان، مشیر تجارت

عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، صوبائی چیف

سیکرٹری صاحبان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ۔ صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے اشیائے

ضروریہ کی قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق کیے جانے والے

انتظامی و دیگر اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔ ان اقدامات میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی

مانیٹرنگ، منڈیوں میں اشیاء کی بولی کو شفاف بنانے کے حوالے سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا

استعمال، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے تدارک کے حوالے سے اقدامات، کسانوں

کواجناس کی فروخت میں سہولت فراہم کرنے کے لئے کسان مارکیٹوں کا قیام، اسلام آباد کی طرز پر

منڈی سے گھرکی دہلیز تک اشیائے ضروریہ کی فراہمی کا نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ

وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی میں اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کو مد نظر رکھتے ہوئے بروقت

حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے خصوصی سیل کا قیام شامل تھا۔ چیف سیکرٹری پنجاب

میجر (ر) اعظم سلیمان نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق صوبائی حکومت کی خصوصی

توجہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تعین اور

تعین شدہ قیمتوں کے اطلاق پر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ صنعت کی سربراہی میں قیمتوں پر

کنٹرول کے حوالے سے قائم کی جانے والی ٹاسک فورس کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیا جا رہا

ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ آٹااور چینی

صوبے بھر میں یکساں قیمت پر دستیاب ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں