افغانستان ٹی ٹی پی
Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) پٹرول ڈیزل بجلی سستی

وزیراعظم عمران خان نے پٹرول ، ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لٹر اور بجلی

کی قیمت میں پانچ روپے فی یونٹ کمی کا بڑا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم نے

فیصلہ کیاہے کہ آئند ہ چارماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے

ہر مہینے پٹرول پر 70 ارب سبسڈی دیتے ہیں، اگر یہ نہ دیں تو پٹرول کی قیمت

220 روپے لیٹر ہوجائے گی ، آئی ٹی سٹارٹ اپ پر کیپٹل گین ٹیکس 100 فیصد

ختم کر دیا ہے،80 لاکھ خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ملنے والی رقم 12

ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، انٹرن شب کرنے والے نوجوانوں

کو 30 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، جو بھی ملک میں انڈسٹری لگائے گا اس

سے آمدن کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا، آزاد صحافت کوپیکا ترمیمی

آرڈیننس سے کوئی خطرہ نہیں، مجھے اپنے ملک میں بھی تین سال سے انصاف

نہیں ملا ، اپوزیشن مہنگائی کے طوفان کا شور مچارہی ہے ، مانتاہوں افراط زر

بڑھی لیکن یہ عالمی مہنگائی کی لہر کا نتیجہ ہے، ہمیشہ کہا دہشتگردی کیخلاف

جنگ میں امریکا کا ساتھ دینا درست نہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 80 ہزار

پاکستانی شہید ہوئے، ہمیں اس جنگ میں 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، سابقہ

جمہوری حکومتوں میں 400 سے زائد ڈرون حملے ہوئے، سابقہ حکومتوں نے

ڈرون حملوں پر احتجاج تک نہیں کیا، ایسی فارن پالیسی نہیں ہونی چاہیے جو اپنے

ملک کو نقصان پہنچائے،چین اور روس کا دورہ کرچکا ہوں، دنیا میں صورتحال

تیزی سے بدل رہی ہے، دنیا کی بدلتی صورتحال کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے،

چین، روس کا بڑا اہم دورہ کیا ملک کوعزت ملی، آنے والے وقت میں بڑے اچھے

نتائج آئیں گے، روس سے 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنی ہے، روس سے گیس بھی

امپورٹ کریں گے، چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اہم معاہدے

ہوئے۔ وہ پیر کو ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے

کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا

میں تیزی سے صورتحال بدل رہی ہے ، اس کے پاکستان پر بہت سارے اثرات ہیں

، میرے ماں باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے ، میری پیدائش پر انہوں نے

مجھے احساس دلایا کہ تم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہو ۔ سیاست میں آنے سے

پہلے میری خواہش رہی کہ خارجہ پالیسی آزاد ہو جو اپنے لوگوں کے لئے بنائی

جائے نا کہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو

دہشتگردی کے خلاف جنگ امریکہ کے کہنے پر حصہ لیا وہ ہماری جنگ نہیں

تھی اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا اس وقت سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں اس

جنگ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ اس پالیسی کے شروع سے خلاف تھا بد

قسمتی سے یہ خارجہ پالیسی پاکستان کے حق میں نہیں تھی ۔ دہشتگردی کے خلاف

جنگ میں شامل ہونے سے ہماری 80 ہزار شہادتیں ہوئیں ،35 لاکھ لوگ نقل مکانی

پر مجبور ہوئے ، ہمارا قبائلی علاقہ تباہ ہوا ، 150 ارب ڈالر نقصان ہوا ۔ وزیر

اعظم نے کہا کہ ایک ملک کسی کی حمایت میں جنگ لڑ رہا ہے اور وہ اس پر

حملے کر رہا ہے ۔ 400 ڈرون اٹیک ہمارے ملک پر کیے گئے ۔ ڈکٹیٹر پرویز

مشرف ، نواز شریف اور آصف زرداری کے دور میں ۔آزاد خارجہ پالیسی تو یہ

ہونی چاہیے تھی کہ ان جمہوری حکمرانوں کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اس جنگ میں

ہماری بچے مر رہے ہیں ، عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں ، ہماری معیشت تباہ ہو رہی

ہے ۔ ایک صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ آصف زرداری نے کہا کہ ڈرون

اٹیک سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ جب حکمرانوں کی

جائیدادیں ملک سے باہر پڑی ہوں تو وہ ملک کے لئے نہیں اپنے پیسے بچانے کے

لئے یہ سب کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی آزاد ہو ہی نہیں سکتی ۔ آپ

جب ووٹ ڈالیں تو اس جماعت یا اس حکمران کو ہرگز ووٹ نہ ڈالیں جن کی

جائیدادیں باہر پڑی ہوں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین کے دو دورے کیے وقت ثابت

کرے گا کہ ہم نے زبردست طریقے سے ملک کی بات کی ۔ روس اس لئے جانا

ضروری تھا کہ ہم نے 20 لاکھ گندم درآمد کرنی ہے ، دنیا کے انرجی کے ذرائع کا

30 فیصد روس میں ہے ۔ وزیر اعظم نے پیکا قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہا

جا رہا ہے کہ پیکا قانون کے ذریعے آزادی صحافت پر پابندی لگائی جا رہی ہے ۔

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں پیکا قانون 2016 میں بنا ،ہم اس میں صرف ترمیم کر

رہے ہیں، وزیر اعظم نے کہا کہ جو سربراہ مملکت ملک کے قانون نہیں توڑتا اس

کو آزادی صحافت سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا دنیا میں کسی بھی مہذب معاشرے

میں اس طرح کی چیزیں نہیں آتی جو ہمارے سوشل میڈیا پر آرہی ہیں ۔ سوشل میڈیا

پر آنے والی خبروں کے حوالے سے ابھی تک 94 ہزار کیسز میں سے صرف 38

کیسز کا فیصلہ ہوا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان نے بنی

گالہ میں کوئی غیر قانونی کام کیا تین سال ہو گئے مجھے انصاف نہیں مل رہا, وہی

صحافی لکھتا ہے جس نے جب کرپشن پر لکھا تھا تو اس کو تین دن سابقہ

حکمرانوں نے جیل میں بند کرکے ڈنڈے مارے تھے ۔۔ وزیر اعظم نے کہا کہ

انہوں نے شوکت خانم پر لکھا کہ شوکت خانم ہسپتال کو ملنے والا زکوۃ کا پیسہ

تحریک انصاف کو جا رہا ہے ۔ انہوں نے شوکت خانم انتظامیہ کا موقف لینا بھی

گوارہ نہ کیا اب شوکت خانم انتظامیہ برطانیہ میں اس نجی اخبار کے خلاف کیس

دائر کرے گی ۔ یہ ہمیں بلیک میل کر رہے ہیں ان کے ایجنڈے کچھ اور ہیں ۔مجھے

پتاہے کہ جس طرح کی غیر ذمہ دارانہ چیزیں یہاں ہو رہی ہیں آزادی صحافت کے

نام پر، یہ کسی اور جمہوری معاشرے میں ممکن نہیں ،اس کا آزادی صحافت سے

کوئی تعلق نہیں ہے ، اچھے صحافی فیک نیوز ختم ہونے پر خوش ہونگے ۔ وزیر

اعظم نے کہا کہ جب آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو نامزد کیا تو ملک کے تین

بڑے نامی گرامی اخبارات میں شہ سرخیاں لکھیں جادو ٹونے کا حوالے دیا گیا ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا

اندرونی اور بیرونی خسارہ تھا ۔ صرف تین ہفتے کے زرمبادلہ کے ذخائر رہ گئے

تھے ۔ مشکل وقت سے نکلتے ہوئے کورونا آگیا ۔ سو سال میں ایک دفعہ اتنا بڑا

کرائسسز آتا ہے ۔ دنیا کی بڑی معیشتیں تباہ ہوئیں ، برطانیہ ، بھارت جن کی

معیشت بہت اوپر جا رہی تھی وہ اپنی معیشت کو سنبھال نہ سکے ۔ ہماری گروتھ

ریٹ 0.2 فیصد بھی نہیں تھی اس وباء سے جس طرح ہم نے ڈیل کیا ساری دنیا نے

ہماری تعریف کی ۔ جب لاک ڈاؤن ختم ہوا تو سپلائی لائن متاثر ہوئی ، تاریخی

مہنگائی دنیا کے اندر آئی ہم دنیا سے ععلیحدہ نہیں ہیں ۔ کئی چیزیں مثلا گھی ، تیل

، دالیں ہم 70 فیصد درآمد کرتے ہیں ۔ 60 فیصد بجلی درآمدی آئل سے بناتے ہیں ۔

امریکہ کی اکانومی چالیس سال میں سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ہوئی ۔ چالیس

سال میں وہاں سب سے زیادہ مہنگائی 1.5 فیصد سے بڑھ کر 7.5 فیصد ہو گئی ،

کینیڈا میں 30 سال میں سب سے زیادہ ، برطانیہ میں تیس سال میں سب زیادہ ،

ترکی میں بیس سال میں سب سے زیادہ مہنگائی آئی ۔ یہ سارے اعدادو شمار عوام

چیک کر سکتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں 1971

سے 77 تک تیرہ فیصد مہنگائی ہوئی ، دوسرے دور میں 8 فیصد ، نون لیگ کے

پہلے دور میں دس فیصد سے زائد مہنگائی ہوئی اور ہمارے تین سالہ دور میں

صرف 8 فیصد مہنگائی ہوئی ۔ ملک میں 100 بہترین کمپنیوں نے ریکارڈ 930

ارب روپے کا منافع کمایا میں بتانا چاہتا ہوں کہ لوگوں نے اس سے بھی زیادہ

پیسے کمائے اور زیادہ سرمایہ ملک میں آیا ۔ لوگ خوشحال ہوئے نجی شعبے نے

ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ 14 سو ارب قرضے لیے ، سب سے زیادہ ٹریکٹرز

فروخت ہوئے، 81 فیصد ٹرک اور بسیں فروخت ہوئیں ۔ ملکی تاریخ میں ٹیکسٹائل

سب سے زیادہ فروخت ہوئی ، تیل کا استعمال زیادہ ہوا ، تعمیرات کے شعبے میں

15 سو ارب گئے جس سے روزگار بھی بڑھا اور بیرون زرمبادلہ میں بھی اضافہ

ہوا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا خیال تھا کہ کورونا کی وجہ سے دنیا میں

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے مہنگائی ہوئی ۔ یوکرین جنگ شروع ہوئی

اب خوف ہے قیمتیں نیچے نہیں آئیں گی کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ جب جنگ

ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں اوپر ہی جاتی ہیں ، گیس اور گندم کی قیمتیں بھی اوپر

جا سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج بھی تیل اور پٹرول کی قیمتیں دنیا میں

سب سے سستی ہیں ۔ دنیا میں ایک سو نو ممالک سے 25 نمبرز پر ہیں ، اگر آج

حکومت پٹرول پر سبسڈی نہ دے تو ملک میں فی لیٹر پٹرول کی قیمت 220 روپے

بنتی ہے ۔ اوگرا کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل دس روپے مہنگا کرنے کی سمری

آئی تھی لیکن قوم کے لئے خوشخبری ہے کہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل میں دس

روپے مہنگا کرنے کے بجائے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بجلی کی قیمتوں میں

بھی تحریف کی گئی ہے حکومت کورونا سے لڑ رہی تھی ، ملک میں ایک بھی

پولیو کیس سامنے نہیں آیا ۔ پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پالیسی

کی تعریف کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے کرائسسز سے پاکستان کو

مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ افغانستان میں ڈالر کا بحران آیا اور لوگوں نے پاکستان

سے ڈالر خریدنا شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے اداروں نے پاکستان کی

کورونا کے حوالے سے اقدامات کے حوالے سے تعریفیں کی ۔ بل گیٹس جب

پاکستان آئے تو پوچھا کہ کیا خاص اقدامات کیے جو اتنے بڑے چیلنج سے باہر

نکلے اور باقاعدہ این سی او سی جا کر تعریف کی ۔ حکومت کے احساس پروگرام

کی بھی تعریف کی گئی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا میں ساری صورتحال میں

مشکلات آنے کے باوجود پاکستان کی ترقی کی شرح ورلڈ بینک کے مطابق 5.6

فیصد تھی اور یہ مسلم لیگ ن کے آخری سال میں تھی انہوں نے تاریخی قرضے

لیے اور ملک کو خسارے میں ڈالا جب کہ تحریک انصاف حکومت نے تیسرے

سال میں 5.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ

ترسیلات زر آئے جو 31 ارب ڈالر ہیں جو پچھلی حکومت میں 10 ارب ڈالر سے

زیادہ نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے 38 ارب کی

ایکسپورٹ کی ہے اور 6 ہزار ارب روپے سے زیادہ ٹیکس اکٹھاکیا ہے، جو 31

فیصد زیادہ ہے جبکہ جو بھی اعداد و شمار بتا رہا ہوں سب گوگل کر کے موبائل

سے دیکھ سکتے ہیں، ملک میں چار بڑی فصلوں کی ریکارڈ فصل ہوئی، کسانوں

کے پاس زیادہ پیسے گئے ہیں، وقت پر خریداری کی گئی، وزیر اعظم نے قوم سے

خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی یونٹ 5روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، ملک میں آئندہ

دس سالوں میں مزید 10 ڈیم بنا رہے ہیں، بجلی کی قیمتوں میں کمی سے 20 سے

50فیصد تک مہنگائی میں کمی ہو گی اور بجٹ تک پٹرول اور بجلی کی قیمتوں

میں اضافہ نہیں ہو گا جبکہ حکومت نے بڑی مشکل سے کہیں سے عوام کیلئے

سبسڈی نکالی ہے، احساس پروگرام 12 ہزار کے بجائے 14ہزار روپے دیئے

جائیں گے، بی اے اور 14سال پڑھنے والے نوجوانوں کو حکومت انٹرن شپ

کروائے گی اور 30 ہزار روپے ماہانہ دیا جائے گا، 26ہزار سکالر شپس دیئے جا

رہے ہیں، جن میں 38ارب دیئے جا رہے ہیں، آئی ٹی سیکٹر کیلئے 100فیصد

ٹیکس معاف کر دیا گیا ہے، فارن ایکسچینج پر چھوٹ دے دی گئی ہے، جہاں چاہیں

جائیں اور لائیں، سٹارٹ اپس کیلئے ٹیکس ختم کر دیا ہے، انڈسٹری پالیسی لا رہے

ہیں اور جو بھی انڈسٹری کیلئے پیسے لگائے گا اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو

گی، سمندر پار پاکستانیوں کیلئے پانچ سال ٹیکس کی چھوٹ دے دی ہے، سود کے

بغیر نوجوانوں اور کسانوں کو قرضے دیئے جا رہے ہیں گھروں کیلئے سود کے

بغیر قرضہ دیا جائے ،460 ارب کے کل قرضے دیئے جارہے ہیں،نجی بینک150

ارب روپے تک متوسط طبقے کیلئے گھروں کے لئے قرضے فراہم کر رہے ہیں،

ملک میں غریب گھرانوں کو صحت کارڈ کی فراہمی کی جا رہی ہے اور صوبوں

کو بھی اس کا پابند بنا رہے ہیں، صحت کارڈ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام

ہے، ہر خاندان دس لاکھ روپے تک تمام ہسپتالوں میں جا کر علاج کروا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ملک میں مشکل حالات ہیں اور تھے پہلے

کبھی پلوامہ ہوا تو کورونا آ گیا، پھر اب یوکرائن کا مسئلہ ہوا ہے لیکن اب ملک

اور معاشی صورتحال درست سمت گامزن ہو گئی ہے، مشکل وقت سے نکل کر

صحیح راستے پر نکل چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ آزاد صحافت

کوپیکا ترمیمی آرڈیننس سے کوئی خطرہ نہیں ،آزادی صحافت کے نام پر یہاں

مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔پیر کوقوم سے خطاب میں وزیراعظم نے پیکا آرڈیننس کے

بارے میں کہا کہ یہ ایکٹ پہلے کا ہے ہم صرف اس میں ضروری ترمیم کر رہے

ہیں۔آزاد صحافت کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ،آزادی صحافت کے نام پر یہاں

مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پیکا قانون 2016 میں بنا تھا، یہ کوئی

نیا قانون نہیں ہم اس میں صرف ترمیم کر رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ آزادی

صحافت پر قدغن لگانے کے لیے ہے لیکن ملک کا جو سربراہ کرپشن نہیں کرتا

اور اس کے پیسے باہر نہیں تو ان کو آزاد میڈیا سے فرق نہیں پڑتا۔

پٹرول ڈیزل بجلی سستی,پٹرول ڈیزل بجلی سستی,پٹرول ڈیزل بجلی سستی,پٹرول ڈیزل بجلی سستی,پٹرول ڈیزل بجلی سستی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: