0

پوپ فرانسس کا تاریخی دورہ متحدہ عرب امارات

Spread the love

تحریر:۔۔چوہدری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ
رومن کیتھولک مسیحوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے گزشتہ اتوار کو متحدہ عرب امارات (یو ای اے ) کا تین روزہ دورہ کرکے تاریخ ر قم کردی ،پوپ فرانسس 800 سال کے بعد جزیرہ نما عرب کا دورہ کرنےوالے پہلے پاپائے روم ہیں۔ ان سے پہلے ان ہی کے ہم نام سینٹ فرانسس السیسی نے تیرہویں صدی میں مصر کے سلطان سے ملاقات کی تھی۔

متحدہ عرب امارات ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیا ن نے ” رواداری کے سال 2019‘ ‘کے تحت پوپ فرانسس کو دورے کی دعوت دی تھی۔پوپ فرانسس کا یہ دورہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو قریب لانے کی تحریک کا نقطہ آغاز بھی ہوسکتا ہے ۔اپنے دورے کے دوران پوپ فرانسس نے ابوظہبی کے زید سپورٹس سٹی میں ایک بین المذ اہب کانفرنس سے خطاب اور دعائیہ تقریب کی امامت کی جس میں مسلمانوں کے سنی فرقے کے جید عالم اور جامعہ الازہر قاہرہ کے سر بر ا ہ شیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی شرکت کی ،پوپ فرانسس شیخ ڈاکٹر احمد الطیب سے پر تپاک انداز میں ملے ۔

پوپ یہ دورہ ایسے وقت میں تھا جب متحدہ عرب امارات میں رواداری کا سال منایا جارہا ہے۔متحدہ عر ب امارات کی کل آبادی کا 13فیصد حصہ یعنی تقریباً دس لاکھ کے قر یب رومن کیتھولک پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق انڈیا اور فلپائن سے ہے۔بین المذاہب کانفرنس میں مسلمان ممالک سے 4ہزار وفود جبکہ تقریباً400مسیحی وفود سمیت دنیا کے 22عقیدوں کے مذہبی قائدین سمیت سات سو سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی ۔ ان میں علماءکرام ، دانشور، محققین اور ماہرین تعلیم بھی شامل تھے۔

پاپائے روم پوپ فرانسس اور جامعہ الازہر قاہرہ کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب نے ابو ظہبی میں ایک مشترکہ تاریخی سمجھوتے پر دستخط کئے جس میں انتہا پسندی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔ اس سمجھوتے کی تین نقول پر دستخط کئے گئے ہیں ایک نقل ویٹی کن، ایک جامعتہ الازہر اور ایک متحدہ عرب امارات کےلئے تھی۔یاد رہے ویٹی کین اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات 2006 ءمیں اس وقت کشیدہ ہوگئے تھے جب پوپ بینی ڈکٹ نے بظاہر اسلام کو دہشتگردی سے منسلک کر دیا تھا۔

پوپ فرانسس نے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقات میں یمن اور شام میں جاری جنگ پر سخت تحفظات کا اظہار کیا جس میں متحدہ عرب امارات بھی شریک ہے۔پوپ کا کہنا تھا ’یمن میں لوگ طویل لڑائی سے تھک چکے ہیں اور بچے بھوک کا شکار ہیں انہیں خوراک تک رسائی نہیں ان بچوں اور ان کے والدین کی آہیں خدا تک پہنچ رہی ہیں۔اقوام متحدہ بھی متعدد مرتبہ خبردار کر چکا ہے یمن میں جاری خانہ جنگی سے انسانی بحران جنم پانے کا خدشہ ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائی کی ضرورت ہے۔
اطالوی تارکین وطن کے بیٹے جارج برگوگیلو یا پوپ فرانسس جنہوں نے ارجنٹائن میں پرورش پائی،

انہوں نے اپنے دور میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ پوپ فرانسس مذہبی پیشوائیت پر فائز ہونے کے بعد سے اسلام اور عیسائیت کو ایک دوسرے کے قریب تر لانے کےلئے کوشاں ہیں اور وہ اپنے پیغامات میں مذہبی رواداری، انصاف اور امن کے اصولوں پر زور دیتے رہتے ہیں۔ ابو ظہبی کے تاریخی دورے کے موقع پر انسانی برادری کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میںپوپ فرانسس کا کہناتھاکسی بھی دین کے .

نام پر تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور اس کی کسی تردد کے بغیر مذمت کی جانی چاہیے۔ انسانی برادری کو جنگ کے ہر نعرے اور ہر لفظ کو مسترد کردینا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہمیں مل جل کر مستقبل کی تعمیر کرنا ہوگی یا پھر ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہوگا اب وقت آگیا ہے کہ مذاہب زیادہ حوصلے اور دلیر ی کےساتھ اپنا فعال کردار ادا کریں اور وہ کسی لاگ لپٹ کے بغیر انسانی خاندان کی مدد کریں، مصالحت، امید کے وژن اور امن کی ٹھوس راہوں کےلئے اس کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔

پاپائے روم نے اپنی تقریر میں کہا انسانی برادری ہم سے دنیا کے مذاہب کے نمائندوں کی حیثیت سے یہ تقاضا کرتی ہے اور ہمارا یہ فرض بھی ہے کہ ہم لفظ جنگ کے کسی بھی معنی اور استعارے کو مسترد کر دیں ،انہو ںنے میں بالخصوص یمن، شام، عراق اور لیبیا کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت میں سرمایہ کاری سے نفرت میں کمی کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے اس سے تہذیب اور خوشحالی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ تعلیم اور تشدد ایک دوسرے کے باہم مخالف ہیں، کیتھولک سکولوں کو اس ملک اور خطے میں سراہا گیا ہے اور وہ تشدد سے بچاو¿ کےلئے امن کی تعلیم دے رہے ہیں۔

پوپ فرانسس نے کہا ”میں آج بہت خوش ہوں کہ خدا نے مجھے آپکی عزیز زمین پر یہ موقع دیا ہے کہ میں بین المذاہب تعلقات کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ لکھوں۔خدا پر یقین متحد کرتا ہے، تقسیم نہیں۔ یہ تمام تر اختلافات کے باوجود ہمیں قریب لاتا ہے، ہمیں عداوت اور نفرتوں سے دور کرتا ہے“۔انہوں نے متحدہ عرب امارات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ زمین ہم آہنگی، انسانی بھائی چارے کی مثال اور مختلف تہذیبوں و ثقافت کے ملاپ کی جگہ بننے کی کوشش کر رہی ہے“۔

لبنان سے تعلق رکھنے والے دانشور رضوان السیّد نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں علماءکرام اور دانشوروں پر زور دیا کہ وہ مصالحت کی اس صلاحیت کو مزید وسعت دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 100سال سے جاری ایک جنگ عظیم ہار چکے ہیں اور یہ مغرب کا ہمارے بارے میں نقطہ نظر اور ہمارا مغرب کے بارے میں نقطہ نظر ہے۔ ہم یہ ثابت کرنے کیلئے جنگ آزما ہیں کہ ہم ان ہی کی طرح ہیں اور صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ تہذیب میں بھی ان کے ساجھی ہیں۔ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے ہار گئے ہیں۔ اب دانشوروں اور سکالروں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس پر کام کریں۔

رضوان السیّد نے پاپائے روم کے نقطہ نظر کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ متعدد کیتھولک، عرب اور مسلم ممالک نے پہلے ہی ویٹی کن کےساتھ مل کر غربت، عالمی حدت اور بیماریوں کے خلاف جنگ کے منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یورپ والے اسلام کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرلیں گے یا وہ پوپ کے مو¿قف اور سوچ کی وجہ سے مہاجرین کے بارے میں اپنا نقطہ نظر تبدیل کرلیں گے لیکن مجھے یقین ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران پوپ کے الفاظ یورپیوں پر ضرور اپنا اثر دکھا کررہیں گے۔

دوسری طرف پوپ کے دورے سے متحدہ عرب امارات میں چرچوں کی بہتری کیلئے بھی گمان کیا جارہاہے کیونکہ اس سے قبل ویٹی کن کے اہلکاروں نے کہاوہ امید کر رہے ہیں کہ اس دورے سے متحدہ عرب امارات میں کیتھولک برادری کی روحانی رہنمائی کیلئے چرچ کی بہتر موجودگی کیلئے راہ ہموار ہو گی کیونکہ ہمیں مزید چرچ اور پادری چاہئیںلیکن جگہوں کی قلت کیوجہ سے کافی مشکلات ہیں۔

Leave a Reply