پولیس کا طریقہ تفتیش،انصاف کے تقاضےاور فرمان شیرخدا

Spread the love

(تجزیہ:….ابو رجا حیدر)

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے چند روز قبل جوڈیشل

اکیڈمی میں بینکنگ کورٹس کے ججوں اور پولیس افسروں سے خطاب کرتے

ہوئے کہا ہمارے پولیس نظام کی بدقسمتی ہے 99.9 فیصد تفتیشی افسروں کو

بنیادی طریقہ کار ہی کا علم نہیں،تفتیشی افسر یہ تک نہیں جانتے کون سے شواہد

عدالتوں کو قابل ِ قبول اورکون سے نہیں ، تفتیشی کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اگر

کسی وقوعہ میں عینی شاہد موجود ہوں تو معاملہ حل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔اگر

کسی وقوعہ میں مجرم کا پتہ نہ ہو تو تفتیشی افسر کا امتحان شروع ہو جاتا ہے،

مگر ہمارے ہاں ایک عام پریکٹس ہے اگر پولیس کو ملزم کا علم ہو بھی جائے تو

مدعی سے ایک ضمنی بیان لکھوا لیا جاتا ہے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ

یہ جرم فلاں نے کیا اس طرح کے بیانات عدالتوں میں کسی اہمیت کے حامل نہیں

رہے، گناہ گار چھوٹ جاتے ہیں اور سارا ملبہ عدالتوں پر آ جاتا ہے کہ عدالتیں

ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا جتنی اچھی تفتیش ہو گی

اتنا ہی جج کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو گا، گناہ گار کو گناہ گار اور بے گناہ کو

بے گناہ قرار دلانے میں سب سے اہم کردار تفتیشی افسر کا ہوتا ہے۔ اگر پولیس

انوسٹی گیشن ہی درست نہ ہو تو بہت سے بے گناہوں کو سزا ہو جاتی ہے اور گناہ

گار بچ جاتے ہیں، دورِ حاضر میں پولیس کے تفتیشی عمل کو درست اور جدید

تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

فاضل چیف جسٹس نے پولیس افسروں کے طریق ِ تفتیش پر جو رائے دی ہے اس

سے تو پولیس کی تفتیش کا سارا ڈھانچہ ہی دھڑام سے زمین بوس ہو گیا ہے،

کیونکہ اگر99.9 فیصد تفتیشی افسروں کو تفتیش کے متعلق ہی کچھ علم نہیں تو

باقی کیا بچتا ہے؟ یہی پولیس افسر ہیں جو ہر نوعیت کے مقدمات میں تفتیش کر

کے اس کے نتائج عدالتوں کے روبرو پیش کرتے ہیں، تفتیش کا مرحلہ تو ایف آئی

آر درج ہونے کے بعد آتا ہے، عمومی رائے یہ ہے غلط بیانی، حقائق کو مسخ

کرنے اور جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کہنے کا آغاز ایف آئی آر ہی سے ہو

جاتا ہے، کوئی مدعی اگر تھانے میں مقدمہ درج کرانے جاتا ہے، تو وہ حقائق

مقدمہ کے سلسلے میں صرف وہی باتیں سامنے لاتا ہے جو اس کے مفاد میں ہوتی

ہیں اور آگے چل کر مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں اس کے حق میں جاتی ہیں،

قتل کے مقدمات میں جن افراد پر الزام لگا دیا جاتا ہے بسا اوقات وہ موقع واردات

سے ہزاروں میل دور ہوتے ہیں اور ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ بعد کے

حالات سے ثابت ہوا کہ قتل کے مقدمے میں ایسے شخص کو نامزد کر دیا گیا، جو

اس روز ملک کے اندر ہی موجود نہ تھا اور اس کا نہ صرف مقدمہ درج کرانے

والوں کو علم ہوتا ہے،بلکہ پولیس بھی بعض صورتوں میں اس سے باخبر ہوتی

ہے،لیکن ایف آئی آر اِس لئے درج ہو جاتی ہے کہ مدعیوں نے پولیس کے ساتھ مل

کر ایسی کہانی بنائی ہوتی ہے جو بالآخر ملزموں کی سزا یابی پر منتج ہو،اس

مقصد کے لئے جھوٹے گواہ بھی بنائے جاتے ہیں،جن میں پولیس اہلکار بھی شامل

ہوتے ہیں، ابھی پچھلے دِنوں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ایک زیر سماعت

مقدمے میں ایک جھوٹے گواہ پولیس اہلکار کے خلاف ریمارکس دیئے جو وقوعہ

کے وقت کسی دوسرے شہر میں تھا،لیکن اس نے بطورِ موقع کے گواہ کے بیان

دیا۔

پولیس کے افسر اگر دیانتداری سے تفتیش کریں تو وہ درست نتیجے پر پہنچ سکتے

ہیں، لیکن اگر سارے ہی تفتیشی افسر تفتیش کے بنیادی طریقے ہی سے لاعلم ہوں

تو پھر اُن سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے فاضل چیف

جسٹس نے اگر تفتیشی افسروں کی صلاحیتوں پر اتنا بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے تو

سوال پیدا ہوتا ہے ان افسروں کی تفتیش کے نتیجے میں جو ہزاروں مقدمات اِس

وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں کیا ان میں بے گناہوں کو سزا ہو گی اور گناہ

گار بری ہو جائیں گے، عدالتیں اپنی بصیرت کی بنیاد پر مقدمات میں سے جھوٹ

اور سچ کو چھان تو لیتی ہیں،لیکن اگر مدعیوں نے پولیس کے ساتھ مل کر کسی

کہانی کے تانے بانے اس طرح بُنے ہوں کہ واقعات کی کڑیاں بالآخر ایک بے گناہ

کو گناہ گار ثابت کر رہی ہوں تو پھر عین ممکن ہے گناہ گار بچ جائے۔ یہی بات

فاضل چیف جسٹس نے عدالتی اور پولیس افسروں کے سامنے کہی تو پھر اس کی

بہتری کے لئے بھی ان کے سامنے کوئی خاکہ ہونا چاہئے،جو تفتیشی افسر اس

وقت تھانوں میں اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں اُن کے بارے میں تو جنابِ چیف

جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس سامنے آ گئے ہیں،لیکن وہ مروجہ نظام

میں تو اسی طرح شامل رہیں گے اور اپنے طریق کار کے مطابق تفتیش کرتے

رہیں گے جب تک وہ ریٹائر نہیں ہو جاتے۔

گناہ گاروں کو سزا دلوانے کے لئے بہت ضروری ہے ہنگامی بنیادوں پر ایسے

پولیس افسر بھرتی کئے جائیں جو جدید طریقہ ٔ تفتیش سے واقف ہوں، لیکن اس

کے لئے تو پولیس کے سارے نظام ہی کو اوور ہال کرنا پڑے گا جو سالہا سال کی

محنت کے بعد ممکن ہو گا۔ آج تک پولیس میں اصلاحات کی جو کوششیں کی گئیں

اور جو کمیشن بنائے گئے اُن سب کا نتیجہ مثبت نہیں نکلا یا بہت ہی معمولی تبدیلی

کی صورت میں سامنے آیا۔

ویسے تو پولیس اصلاحات حکومتوں کا کام ہے،لیکن لگتا ہے تحریک انصاف کی

حکومت نے بھی یہ بھاری پتھر چوم کر رکھ دیا ہے، کیونکہ پنجاب پولیس کی

اصلاح کے لئے صوبہ خیبرپختونخوا سے ایک افسر کو اِس مقصد کے لئے درآمد

کیا گیا تھا، جو ایک ماہ بعد ہی استعفا دے کر چلا گیا، اتنی تھوڑی مدت ہی میں

شاید اُسے اندازہ ہو گیا تھا اِن تلوںمیں تیل نہیں،حالانکہ یہ پولیس افسر وہ تھا جس

کے بارے میں وزیراعظم عام جلسوں میں یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ انہوں نے

صوبے کا پولیس کلچر تبدیل کر دیا۔اگر ایسا جادوگرکانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے

پنجاب سے بھاگ گیا ہے تو پھر اِس صوبے کا کلچر کون تبدیل کرے گا؟

جناب چیف جسٹس صاحب جیسے آپ نے پولیس کے غیر معیاری طریق ِ تفتیش

کی نشاندہی کردی ہے بعین ہی سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی کار گزاریوں کو

مدنظررکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پراس ضمن میں اصلاح کا بیڑہ بھی آپ خود

ہی اٹھائیں تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہو سکیں، ورنہ امیرالمومنین

حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ کفر پر مبنی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے

ناانصافی پر مبنی نہیں. خدا نخواستہ اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو

ہمارے معاشرے کا قائم رہنا کسی بھی طور ممکن نہیں.

Leave a Reply