اسلام آباد، پولیس اورسرکاری ملازمین کے درمیان جھڑپیں ،شیلنگ

Spread the love

پولیس اورسرکاری ملازمین

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) اسلام آباد میں تنخواہوں مین اضافے کیلئے

احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس دھاوا بول دیا

اور آنسو گیس استعمال کی جواب مین سرکاری ملازمین نے پولیس پر پتھراؤ کیا

جس سے شاہراہ دستور میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگی ۔ پتھراؤ اور شیلنگ

کے بعد کئی ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا۔ احتجاج کے دوران پاک سیکرٹریٹ کے

دروازے بند کر دیئے گئے جبکہ پولیس نے متعدد ملازمین کو گرفتار کیا تو

مظاہرین نے پتھراؤ شرو ع کر دیا۔ پولیس شیلنگ سیمتعدد سرکاری ملازم زخمی ہو

گئے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن تک احتجاج

جاری رہے گا۔ دوسری جانب صوبوں سے آئے ملازمین کا نیشنل پریس کلب کے

باہر احتجاج شروع کر دیا۔اس سے قبل پولیس نے رات گئے سرکاری ملازمین کے

رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیکر تھانے

منتقل کر دیا۔ احتجاج کے باعث وفاقی سیکرٹریوں سمیت سینکڑوں سینئر افسران

دفاتر نہ پہنچ سکے، سرکاری امور ٹھپ رہے،کیبنٹ بلاک کا مرکزی داخلی

دروازہ توڑ دیا گیا، مظاہرین نے سینیٹر شبلی فراز کو بھی دفتر جاتے ہوئے روک

لیا۔،بدھ کو ملازمین کے احتجاج میں صوبوں سے آنے والے ملازمین نے شرکت

کرنا تھی اور اعلان کیا گیا تھا کہ سرکاری امور ٹھپ کرتے ہوئے بھرپور احتجاج

کیا جائے گا،دوسری جانب پولیس نے گزشتہ رات گئے ملازمین تنظیموں کے

عہدیداران کے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتاریوں کا عمل شروع کیا،جس میں

سی ڈی اے مزدور یونین کے مرکزی عہدیداروں کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ پاک

سیکرٹریٹ میں احتجاج کرنے والے ملازمین کے خلاف علی الصبح کارروائی

کرتے ہوئے گرفتاریاں شروع کیں، چند سو ملازمین پاک سیکرٹریٹ کے باہر

شاہراہ دستور پر سیکرٹریٹ چوک کے مقام پر احتجاج کرتے رہے اور ان مظاہرین

نے پاک سیکرٹریٹ کے تمام بلاکس کے مرکزی دروازے بند کر دیئے،جس پر

سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد پاک سیکرٹریٹ کے اندر محصور ہو کر رہ گئی،

ملازمین کی طرف سے احتجاج میں شدت آتے ہی پولیس نے دھاوا بول دیااور

سینکڑوں ملازمین کو گرفتار کرلیا، اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے

آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں سمیت ہوائی فائرنگ بھی کی گئی جس

سے کچھ دیر کے لئے مظاہرین منتشر ہوئے لیکن دوبارہ مظاہرین سڑکوں پر آ

گئے اور نعرے بازی شروع کر دی، اس دوران آنسو گیس کی شیلنگ کے جواب

میں مظاہرین پولیس پر پتھراؤ بھی کرتے رہے، چار گھنٹے سے زائد وقت تک

شاہراہ دستور میدان جنگ بنی رہی،سینئر پولیس افسران بھی موقع پر موجود رہے،

مظاہرین نے کیبنٹ بلاک کا مرکزی دروازہ تھوڑ دیا جبکہ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی

فراز کو دفتر جاتے ہوئے روک لیا گیا جس پر سینیٹر شبلی فراز نے ملازمین کو

یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے مطالبات سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کریں

گے، پولیس کی شیلنگ سے کئی ملازمین زخمی بھی ہوئے جبکہ مظاہرین کے

پتھراؤ سے بھی کچھ پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے ۔دریں اثنا حکومت کے

ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین نے وفاقی

سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا آج تک کیلئے موخر کر دیا ہے ۔ جس کے بعد

سیکرٹریٹ کے دروازے کھول دیئے گئے دوسری طرف وزیردفاع پرویز خٹک

اور شیخ رشید نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں

25 فیصد اسپیشل الاؤنٹس بڑھانے پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ

حکومت اور سرکاری ملازمین ایک ہیں ‘حکومت بیٹھ کے مسائل کو حل کرنے

کیلئے تیار ہے لیکن خزانے کی حالت ابھی اتنی اچھی نہیں ہے‘ملازمین اگر

مرضی کا مطالبہ منوانا چاہتے ہیں تو پھر تھوڑا انتظار کریں جون تک کمیٹی کی

رپورٹ آ جائے گی اور سارے ملک میں اس کو نافذ کر دیا جائیگا‘ملازمین کے

مسائل کی حکومت کو فکر ہے‘ امید ہے کہ یہ مسئلے جلد حل ہو جائیں گے

‘ملازمین سے 22گریڈ کی بجائے 16 گریڈ تک کی بات ہوئی تھی ‘ہمیں پہلے ہی

شک تھا کہ احتجاج کے پیچھے 22 گریڈ والے شامل ہیں‘ قانون کے دائرہ میں رہ

کر احتجاج کرنا سب کا حق ہے ، اگر سیاسی پارٹیاں ملوث ہو گئیں تو اس کا نقصان

ہو گا ‘ سرکاری ملازمین سیاست میں ملوث ہونگے تو نقصان میں ہونگے‘اگر

معاملات طے ہو جاتے ہیں تو وزیر اعظم فوری طور پر نوٹیفیکیشن جاری کر دیں

گے ‘صوبائی ملازمین کا معاملہ صوبائی حکومتیں دیکھیں‘پی ڈی ایم کے 26مارچ

کو لانگ مارچ پر وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ

ڈالی جائے ‘پی ڈی ایم پریکٹس کر رہی ہے اور دیگر شہروں میں جلسے کر رہی

ہے جس سے ان کے اپنے ہی لوگ تھک رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

وفاقی وزرا نے کہا کہ وفاقی سرکاری ملازمین کے حوالے سے کابینہ میں گفتگو

کی گئی تھی جس کے بعد کابینہ نے شیخ رشید احمد کے سربراہی میں کمیٹی بنائی

تھی جو مسئلے کودیکھے ۔ کمیٹی میں علی محمد خان بھی ممبرہیں۔ کمیٹی اجلاس

میں ملازمین کے ساتھ بہت سی باتوں پر اتفاق کیاگیا جن میں ان کی اپ گریڈیشن کا

مطالبہ بھی شامل تھا ۔ وفاقی حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ فی الحال

اسپیشل الاؤنس کی صورت میں کرنے کی خواہاں ہے جبکہ جو ن میں بجٹ کے

آنے کے بعد یہ معاملہ خودحل ہو جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین جن

کا مطالبہ ہے کہ بنیادی تنخواہ کے40 فیصد الاؤنس دیا جائے جبکہ حکومت25

فیصد الاؤنس دینے کو تیار ہیں۔ ان معاملات میں باتیں الجھ گئی ہیں اور اس پر

گفتگو جاری ہے ۔ ملازمین کی جانب سے پہلے ایک گریڈ سے16 گریڈ کی

تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ تھا لیکن گزشتہ روز اچانک سے انہوں نے 22گریڈ

تک کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیاہے ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ حکومت

بیٹھ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تیار ہے لیکن حکومت کی بھی اپنی ذمہ داری

ہوتی ہیں اور خزانے کی حالت بھی اتنی اچھی نہیں ہے، اگر ملازمین اپنی مرضی

کا مطالبہ منوانا چاہتے ہیں تو پھر تھوڑا انتظار کرلیں جون تک کمیٹی کی رپورٹ آ

جائے گی اور سارے ملک میں اس کو نافذ کر دیا جائے گا ، جبکہ اس سے قبل

حکومت اپنی طرف سے سپیشل الاؤنس دینے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر علی محمد

خان نے کہا کہ احتجاج کرنیوالے ریاست کے ذمہ دار ہیں اورریاست کے ملازمین

ہیں ، ملازمین کے مسائل پر حکومت کو فکر ہے ۔

اسلام آباد احتجاج

پولیس اورسرکاری ملازمین

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply