پاکستان بنے عرصہ ہو گیا، ڈاکوﺅں سے جان نہیں چھڑوا سکے، چیف جسٹس

پورا کراچی گند سے بھرا ہواہے، سندھ حکومت کو شرم آنی چاہیئے ، چیف جسٹس

Spread the love

پورا کراچی گند سے

کراچی (جے ٹی این آن لائن نیوز) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے شہر میں نالوں کے

اطراف تجاوزات کے خاتمے سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران سندھ حکومت پر شدید برہمی

کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیم آن سندھ حکومت’، پورا کراچی گند سے بھرا ہے، گڑ ابل رہے

ہیں، تھوڑی سے بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے،س بلڈنگ کو اٹھاؤ اس کا برا حال ہے، سٹرکیں خراب،

بچے مریں، کچھ بھی ہو، یہ کچھ نہیں کرنے والے، یہی حال سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کا ہے،

سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں، سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کام تو کریں۔ تفصیلات

کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ

سندھ حکومت میں کچھ نہیں ہو رہا،سندھ میں سردرد صورتحال ہے ،ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے

ہیں مگر کچھ نہیں ہو رہا، وزرا اور باقی سب کے لیے فنڈز ہیں ، باقی سارے امور چلا رہے ہیں،

صرف عوام کے لیے پیسے نہیں، یہ سپریم کورٹ کو طے کرنا ہے کہ پیسے کہاں خرچ کرنا ہیں،

جب تک متاثرین کو گھر نہیں دیتے، وزیراعلی اور گورنر ہاس الاٹ کر دیتے ہیں، جنہوں نے یہ

زمینیں الاٹ کیں، ان کے خلاف کیا ایکشن لیا۔ چیف جسٹس کے استفسار پر سلمان طالب الدین نے کہا

کہ یہ تو چالیس سال پرانا مسئلہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس

دیئے کہ آپ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں، شیم آن سندھ حکومت۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ جس بلڈنگ کو اٹھا ؤاس کا برا حال ہے، کراچی میں ایک

انچ کا بھی کام نہیں ہوا ، یہ ہے سندھ حکومت، اور پھر کہتے ہیں پیسے نہیں۔دریں اثناسپریم کورٹ

نے نسلہ ٹاور سے متعلق نظر ثانی درخواستیں مسترد کر دیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے عملدرآمد

رپورٹ طلب کرلی ہے۔ سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو ایک ماہ میں نسلہ ٹاور خالی کرانے کا

حکم دے دیا۔ نسلہ ٹاور نظرثانی کیس کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت ہوئی۔ جسٹس

اعجاز الاحسن نے منیر اے ملک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دلائل سے مطمئن نہیں۔ چیف

جسٹس نے کہا کہ نقشہ دیکھیں، سروس لین نسلہ ٹاور میں شامل ہے، سروس لین تو وہاں سے بالکل

غائب کر دی گئی۔ اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ عدالت نے پورے نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ نسلہ ٹاور کو جزوی طور پر گرا سکتے ہیں ؟ اگرآپ

جزوی قبضے والی جگہ گرا سکتے ہیں تو گرا دیں، اب آپ بلڈنگ بنا کر یہ سارے دلائل دے رہے

ہیں۔ منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہی کریں گے تو پورا کراچی گرانا پڑے گا۔ جس پر

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تو آپ کو کیا تکلیف ہے پھر ؟ منیر اے ملک نے کہا میرا اور آپ

کا گھر بھی اسی شہر میں ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا ایسا ہے تو میرا گھر جب دل چاہیں گرا

دیں، اگر میرا گھرغیر قانونی سمجھتے ہیں تو وہ بھی گرا دیں۔ منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا

کہ وزیراعلی سندھ نے ایک زمانے میں یہ زمین دی۔ جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے

کہ یہ مغلوں کا زمانہ تو نہیں، وزیراعلی کچھ بھی کرے۔

پورا کراچی گند سے

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply