0

پنجاب اسمبلی کے پی ٹی آئی ارکان کا اپنی ہی حکومت کو جھٹکا

Spread the love

پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے انتخاب کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والے فارمو لے پر تحریک انصاف کے بیشتر اراکین نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی قیادت کو واضح کردیا کہ قائمہ کمیٹیوں کے انتخاب میں اپوز یشن کو ووٹ نہیں دیں گے جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نیا تنازع شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے،

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے شدہ فارمولے کے تحت حکومت کو 21 اور اپوزیشن کو 19 قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی ملے گی اور ہر قائمہ کمیٹی 11 ارکا ن پر مشتمل ہو گی جن میں حکومت کے 6 اور اپوزیشن کے 5 ممبران شامل ہوں گے
تاہم حکومت کو ہر قائمہ کمیٹی میں واضح برتری حاصل ہو گی.

قابل ذکر امر یہ ہے کہ ہر قائمہ کمیٹی اپنے چیئرمن کا انتخاب ووٹنگ کی بنیاد پر کرتی ہے اگر حکومتی اراکین مخالف ووٹ دیدیں تو اپوزیشن کو ایک بھی قائمہ کمیٹی کی سربراہی نہیں ملے گی ،

حکومتی ارکان کی حمایت کے بغیر اپوزیشن کوئی ایک کمیٹی کی بھی سربراہی حاصل نہ ہوگی ۔

ذرائع کا کہنا ہے ممکنہ طور پر اس صورتحال کے سامنے آنے پرحکومت نے اپنے ارکان کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اگر حکومت اپنے ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی توجہاں صوبائی حکومت اور اپوزیشن میں معاملات خراب ہونگے وہیں پنجاب اسمبلی کا ماحول ایک مرتبہ پھر تہہ و بالا ہونے کا خدشہ ہے.

اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر آنیوالے اسمبلی کے اجلا س کا ماحول بھی کشیدہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply