0

پنجاب اسمبلی،ذیشان کے دہشتگردوں سے روابط تھے، ساہیوال آپریشن میں غلطیوں کا بھی اعتراف

Spread the love

پنجاب اسمبلی میں حکومت کی ساہیوال واقعہ پران کیمرہ بریفنگ میںذیشان کے دہشتگردوں سے روابط کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔تفصیلات کے مطابقپنجاب اسمبلی کو گزشتہ روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ فضیل اصغر نے ان کیمرہ سیشن میں بریفنگ دی ،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سپیکر چودھری پرویز الٰہی اجلاس میں شریک نہیں تھے۔ ایوان کو سانحہ ساہیوال آپریشن اور جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ سے آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق سیکرٹری داخلہ نے ایوان کوشدت پسندوںسے ذیشان کے ٹیلیونک رابطوں اور ماضی کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ذرائع کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ذیشان نے مانگا منڈی سے آگے جا کر اپنے فون سے دہشت گردوں کے ساتھ رابطہ کیا تھا جبکہ سی ٹی ڈی کو فوری اطلاع دی گئی کہ شایددہشت گرد اپنا علاقہ یا منصوبہ بدل رہے ہیں لہٰذا فوری چیک کریں، جس پرسی ٹی ڈی نے سفید آلٹو کار کا پیچھا شروع ہو گیا اور ساہیوال کے قریب پہنچ کر آپریشن کیا۔ ذرائع کے مطابق ان کیمرہ بریفنگ میں ساہیوال آپریشن میں غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران گاڑی کو روکنے کا طریقہ کار درست نہ تھا ، اراکین کو یہ بھی بتا یا گیا کہ سی ٹی ڈی کو یہ معلوم نہ تھا کہ کار میں خلیل کی فیملی بھی سوار ہے، سی ٹی ڈی کو اگر فیملی کا معلوم ہو جاتا تو شاید اس آپریشن کو موخر کر دیا جاتا، ساہیوال سانحہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے، تحقیقات اور رپورٹ میں جو لوگ قصور وار ہوں گے وہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ اپوزیشن ارکین کی پنجاب اسمبلی سے قبل میڈیا کو بریفنگ دینے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ،پنجاب اسمبلی ان کیمرہ بریفنگ میں قائد ایوان کی غیر حاضری پر اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے احتجاج کیا اور کہا کہ اہم ترین بریفنگ پر قائدایوان کی غیر حاضری تشویشناک ہے ، سابق سپیکر رانا اقبال نے اس صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو اسمبلی اجلاس سے پہلے بریفنگ دے کر سپیکر کی رولنگ کی خلاف ورزی کی گئی۔اپوزیشن ارکان نے ان کیمرہ بریفنگ کے دوران ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا جبکہ چونگی امرسدھوسے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی نے مقتول ذیشان کے کردار کو مشکوک کرنے کی شدید مذمت کی، اپوزیشن اراکین نے موقف اختیارکیا کہ سی ٹی ڈی واقعہ میں مارے جانے والوں کو باآسانی حراست میں لے سکتی تھی۔بعدازاںڈپٹی سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج صبح 9 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔

Leave a Reply