پنجاب،خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کی ہڑتال، مریض خوار، کراچی میں نرسوں پر لاٹھی چارج

Spread the love

لاہور،پشاور،کراچی( سٹاف رپورٹرز) پنجاب کے مختلف شہروں میں ینگ ڈاکٹرز

کے احتجاج کے باعث سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں کام بند رہیں جس کی

وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خیبرپختونخوا میں بھی

ڈاکٹر تنظیموں نے ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کیخلاف احتجاج کیا اور کے

پی اسمبلی کے سامنے دھرنا بھی دیا جبکہ کراچی میں نرسنگ اسٹاف کا احتجاج

تیسرے روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے پریس کلب سے وزیراعلی ہائو س کی

جانب بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہر ین کے تصادم ہواجس پر پولیس

نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد مظاہرین کوگرفتارکرلیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور،

فیصل آباد ،ملتان اور راو لپنڈ ی کے ہسپتالوں کی او پی ڈیز میں مجوزہ ہیلتھ بل

کیخلاف ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی دی گئی کال کے بعد ڈاکٹرز احتجاجاً او پی

ڈ یز میں پیش نہیں ہوئے۔ نرسوں اور نیم طبی عملے نے کام بھی چھوڑ دیا جس

کے باعث علاج کی غرض سے ہسپتالوں کا رخ کرنیوا لے مریضوں کو شدید

مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مریض اور انکے لوا حقین مایوس ہوکر واپس لوٹ

گئے۔ مریض مسیحا اورعملے کی بے حسی سے پریشان دکھائی دیئے، مریض

اور لواحقین نے ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پرغم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا

حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا

نہ ہو اور ہڑتال کرنیوالے ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی عمل میں لانی چاہیے ۔ کے

پی کے میں ڈاکٹر جلوس کی شکل میں اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے اپنے

مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا۔ پشاور کے تمام بڑے شہروں میں ہڑتال

کے باعث مقامی اور دور دراز اضلاع سے آئے مریضوں کو شدید مشکلات کا

سامنا کرنا پڑا۔خیبرپختونخوا ڈاکٹرز کونسل کا کہنا تھا ہم حکومت کے کسی بھی

نمائندے کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ڈومیسائل کی بنیاد پر تبادلوں اور مجوزہ

ہیلتھ اتھارٹیز کیخلاف احتجاج میں مزید شدت لائیں گے۔ دوسری جانب حکومت

نے احتجاجی ڈاکٹرز کیخلاف ایکشن کی تیاری کرلی ہے،پشاورکے لیڈ ی ریڈنگ

ہسپتال میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جبکہ محکمہ صحت نے

ہڑتالی ڈاکٹروں کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔

Leave a Reply