pak china

پلوامہ حملہ پر حقیقت پسندانہ اورمعقول تحقیقات ہونی چاہئیں، چین

Spread the love

چین نے کہا ہے کہ امید ہے پاکستان اور بھارت خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوشش کریں گے، سلامتی کونسل کے علامیہ میں کسی تنظیم کا ذکر کیا گیا ہے ،یہ صرف ایک معمولی بیان ہے جوکہ کسی فیصلے کے مترادف نہیں ہو سکتا ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ متعلقہ فریقین کو بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں حملے کے واقعے پر حقیقت پسندانہ اور معقول تحقیقات کرنی چاہئیں تاکہ واقعے کی سچائی سامنے لائی جا سکے ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل اطلاع کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اکیس فروری کو اس واقعے سے متعلق اطلاعاتی بات چیت میں اس بات کا ذکر کیا کہ جیش محمد نامی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم جیش محمد نے اس بات کی تردید کی ہے۔ اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں گنگ شوانگ نے کہا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے جاری اطلاعاتی بات چیت کے مواد میں کسی تنظیم کا ذکر کیا گیا ہے ،یہ صرف ایک معمولی بیان ہے جوکہ کسی فیصلے کے مترادف نہیں ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین نے دیکھا ہے کہ پاکستانی حکومت بھارت کے ساتھ تحقیقات کے معاملے میں تعاون کرنے اور بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے باہمی اختلافات سے نمٹنے کو تیار ہے ۔ چین کو امید ہے کہ بھارت اور پاکستان صبرو تحمل سے کام لیتے ہوئے بات چیت کریں گے اور علاقائی امن و استحکام کا مشترکہ طور پر تحفظ کریں گے ۔

Leave a Reply