پشتو کے عظیم اور نامور شاعر امیر حمزہ خان شنواری کی 25ویں برسی

Spread the love

خیبر(خصوصی رپورٹ،جے ٹی این آن لائن) پشتو کے عظیم اور نامور شاعر، ادیب اور دانشور امیر حمزہ خان شنواری کی پچیسویں برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی،

بابائے غزل امیر حمزہ شنواری نے اپنی شاعری ، ڈراموںاور تحریروں میں پشتو زبان کو عالمی حیثیت دلائی ، وہ اس صدی کے عظیم علمی اور ادبی شخصیت ہیں جن کی زندگی اور شاعری کے ہر پہلو پر ریسرچ اور تحقیق کی ضرورت ہے،

لنڈی کوتل جرگہ ہال میں پشتو زبان کے عظیم شاعر و ادیب اور دانشورامیر حمزہ شنواری کی پچیسویں برسی تقریب کا اہتمام حمزہ بابا ادبی جرگہ اور شلمان ادبی ٹولنہ نے مشترکہ طور پر کیا

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران خان، پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم، لائق زادہ لائق ، پروفیسر ڈاکٹر علی آفریدی ،ڈاکٹر مسعود ،پروفیسر ڈاکٹر حنیف خلیل اور ڈاکٹر کلیم شنواری سمیت دیگر مقامی اور غیرمقامی شعراء اور مقامی لوگوں سمیت میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے ،

اس موقع پر مقررین نے امیر حمزہ بابا کی سادہ زندگی،خدادادصلاحیتوں، ذہانت، شاعری، ڈراموں اور افکار پر روشنی ڈالتے ہو ئے کہا حمزہ بابا نہ صرف بابائے غزل تھے بلکہ ان کی شاعری ہمہ جہت تھی ،

حمزہ بابا نے پشتو زبان کو ایک نئی زندگی اور روح عطاء کی اور ان کی شاعری کی وجہ سے پشتو زبان عالمگیر حیثیت حاصل کر گئی جس پر بجا طور پر وہ فخر محسوس کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان نسل ان کی زندگی اورشاعری کے مختلف پہلوئوں پر پی ایچ ڈی کرتے ہیں لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے والے با بائے غزل کی زندگی میں پوری طرح داخل ہو کر ہر پہلو کو نمایاں کریں حمزہ بابا نے اردو، فارسی اور پشتو میں بیک وقت اعلیٰ پائے کی شاعری کی اور سینکڑوں ڈرامے لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کیا جو ان کی صلاحیتوں کا مظہر ہے

حمزہ بابا نے اپنی شاعری کی بدولت صدی کے پشتونوں کو نہ صرف اپنی طرف متوجہ کیا بلکہ اس پوری صدی کو اپنی طرف کھینچ لانے میں کامیاب ہو ئے حمزہ بابا ایک فکری سمندر تھے ، اپنی شاعری میں تصوف، پشتون قومیت، پشتون ولی، جرگہ ننواتے، بدرگہ اور حجرہ کو نمایاں طور پر پیش کیا ، خوشحال خان خٹک کے علمی ساتھی تو نہیں تھے البتہ ان کے سیاسی ساتھی جیسے دریا خان آفریدی اور ایمل خان مہمند تھے

خوشحال خان خٹک قبیلوں کی تقسیم کے خلاف تھے اور پہلی بار انہوں نے پشتون قومیت کا تصور پیش کیا جبکہ ان کے مقابلے میں امیر حمزہ خان شنواری کے علمی ساتھی بہت زیادہ ہیں اور آج کے دور میں جتنے بھی پشتون شعراء ہیں ان کی شاعری میں با بائے غزل کی شاعری کے اثرات ضرور موجود ہونگے

حمزہ شنواری ، رفیق شنواری اور خیال محمد ایک ہی پیر عبدالستار شاہ باچا کے مرید تھے اور با بائے غزل کی شاعری اور افکار کو عام پشتوں میں متعارف کرانے میں رفیق شنواری ، خیال محمد اور میڈیا نے اہم کر دارادا کیا. مگروقت کے پشتون حکمرانوں نے پشتو زبان کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت ہے.

برسی کے موقع پر جمال شلمانی نے ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا کہ با با کے مزار کی لائبریری کے لئے متعلقہ سٹاف تعینات کیا جائے اور حمزہ بابا کے نام سے ایک آڈیٹوریم اور میوزم بنایا جائے اس موقع پر دیگر شعراء نے اپنے خیالات اور شاعری پیش کی ۔

امیر حمزہ خان شنواری کا صوفیانہ کلام سننے کیلئے (کلک) کریں

Leave a Reply