پشاور ہائیکورٹ کے عوامی فلاح، پولٹری اور لائیوسٹاک سے متعلق اہم احکامات

پشاور ہائیکورٹ کے عوامی فلاح، پولٹری اور لائیوسٹاک سے متعلق اہم احکامات

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید خان) پشاور ہائیکورٹ

Journalist Imran Rasheed

پشاور ہائیکورٹ نے چوزے، چکن اور گوشت کی برآمد کی اجازت دیدی، عدلیہ

نے یکم جون کو چکن اورجانوروں کی افغانستان برآمد پر پابندی کا حکم دیا تھا ،

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو پشاور ہائیکورٹ میں پولٹری اورلائیو سٹاک کی

قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت عدالت نے

چوزے، چکن اور گوشت پرسے پابندی ہٹا دی، دوران سماعت عدالت نے دودھ

میں کیمیکل کے استعمال پر بھی برہمی کا اظہار کیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا

دودھ میں کیمیکل ملایا جاتا ہے، ان کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟ جس پر لائیو

سٹاک حکام نے بتایا ہم نے دکانوں کو سیل اور دودھ تلف کیا ہے، چیف جسٹس

قیصر رشید خان نے کہا ایسے لوگوں کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کرکے

کیمیکل استعمال کرنے والی دکانوں کو مکمل بند کیا جائے، عدالت نے لائیو سٹاک

حکام کو کیمیکل ملا دودھ فروخت کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی کا حکم دیدیا۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

بعدازاں پشاور کے تاریخی پارکوں کی تعمیر و مرمت کے حوالے سے دائر کیس

کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید خان

نے پارکوں میں منشیات کے عادی افراد کی موجودگی پر پولیس حکام پر برہمی

کا اظہار کرتے ہوئے صوبے کے باغات کو لاہور کی طرح خوبصورت بنانے

کی ہدایت کردی۔ تفصیلات کے مطابق پشاور کے تاریخی پارکوں کی تعمیر و

مرمت کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائی

کورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے ایس ایس پی سٹی عتیق شاہ سے استفسار

کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کچھ ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیر باغ میں نشئی

افراد کے ڈیرے ہیں، پولیس کیا کررہی ہے؟۔ ایس پی سٹی نے عدالت کو بتایا کہ

ہم اقدامات کر رہے ہیں جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس

دیئے کہ پارک کو نشئی افراد کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے، وہاں کے ایس ایچ او کیا

کر رہے ہیں؟ اگر ایس ایچ او کام نہیں کر سکتا تو اس کو تبدیل کریں اور ایسے

افسر کو تعینات کریں جو کام کر سکتا ہے۔

=-،-= شہر کے پارکوں کو لاہور کے پارکس کی طرح بنایا جائے، چیف جسٹس

سماعت کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ جنگلات طارق شاہ، ٹان میونسپل آفیسر

وقاص، ایس پی کینٹ اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سکندر حیات شاہ بھی پیش

ہوئے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات طارق شاہ نے عدالت کو بتایا کہ شاہی باغ میں 70

فیصد سول ورک مکمل ہو گیا ہے، پارک کی خوبصورتی کا کام بھی جلد مکمل

کر لیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات کو ہدایت کی کہ آپ

لاہور کا دورہ کریں اور وہاں کے تاریخی پارکوں کو دیکھ کر یہاں کے پارکوں

کو اسی طرح خوبصورت بنائیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ

وزیر باغ میں نئے پودے لگائے ہیں، اگر کچھ وقت کے لئے پارک کو بند کیا

جائے تو پودوں کی صحیح طور پر نشوونما ہو جائے گی کیونکہ پارک میں بچوں

کی موجودگی سے نئے پودوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

=-،-= پودوں کے تحفظ کیلئے وزیر باغ کوایک ماہ کیلئے بند کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے کہا کہ نئے پودے لگائے ہیں تو پھر ایک مہینے کے لئے پارک

کو بند کیا جائے اور پولیس اس کو یقینی بنائے تاکہ نئے پودوں کو نقصان نہ ہوں،

عدالت نے ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات اور دیگر فریقین سے آئندہ سماعت پر تفصیلی

رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

پشاور ہائیکورٹ ، پشاور ہائیکورٹ ، پشاور ہائیکورٹ ، پشاور ہائیکورٹ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply