jtn jaiza1

پشاور کا نظامِ صفائی، سیاسی کرپشن کا شکنجہ اور حکومت وقت

Spread the love

پشاور( خصوصی رپورٹ، بیورو چیف عمران رشید خان) پشاور کا نظامِ صفائی

Journalist Imran Rasheed

پشاور شہر اور مضافاتی علاقوں میں صفائی کی ابتر صورتحال ہمیشہ سے ایک

ایشو رہی ہے، سابقہ حکومتوں پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے ہر یونین کونسل میں 10

گھوسٹ خاکروب بھرتی کئے، 92 یونین کونسلز میں جن کی مجموعی تعداد 920

بنتی ہے، الزام یہ بھی تھا کہ ان ملازمین کی تنخواہ ایک سپروائزر سے بلدیات کے

منسٹر تک تقسیم ہوتی تھی، علاوہ ازیں یہ بھی الزام تھا کہ بیشتر خاکروب دوسری

جگہ ملازمتیں کرتے تھے اور ڈیوٹی کے اصل مقام سے غائب رہتے مگر مہینے

کی پہلی تاریخ پر متعلقہ سپروائزر ان کی تنخواہ سے ایک معقول حصہ وصول کر

کے سب اچھا کی رپورٹ کرتا تھا- تیسرا بڑا الزام یہ تھا کہ خاکروبوں کی ایک

بڑی تعداد محکمے کے افسران کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران اور سیاسی

شخصیات کے گھروں پر متعین تھی، یہ وہ تمام وجوہات تھیں جو ہمیشہ صفائی کی

ابتر صورتحال کا موجب بنتی تھیں-

=-،-= یہ بھی پڑھیں، عملہ صفائی، شہری اور جتن کا آنکھوں دیکھا احوال

پشاور کا نظامِ صفائی
تحریک انصاف کی حکومت نے اس نظام کو یکسر بدلتے ہوئے ڈبلیو ایس ایس پی

کی بنیاد رکھی، ڈبلیو ایس ایس پی میں افسروں کو خلاف معمول بھاری تنخواہوں

پر تعینات کیا گیا، کارکنوں کو وردیاں، بوٹ دیگر ضروری ساماں میسر کیا، جن

کی قیمت مارکیٹ کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تھی، کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لئے

گاڑیوں کی بہت بڑی کھیپ دی گئی، جن میں رکشہ نما گاڑیاں بھی شامل ہیں جس

کا مقصد گلیوں میں ممکنہ حد تک اندر جا کر کوڑا کرکٹ اٹھایا جا سکے-

=-،-= تمام تر سہولیات کے باوجود ادارے کی تباہی کا بڑا سبب سیاسی کرپشن

پشاور کا نظامِ صفائی
پشاور کا نظامِ صفائی
اس قدر سہولیات کی فراہمی کے باوجود بدقسمتی سے صفائی کی ابتر صورتحال

اب بھی ویسی ہی ہے جیسی پہلے ہوا کرتی تھی، حالانکہ اب ہر طرف ایمانداری

اور میرٹ کے ڈنکے بجائے جا رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی میں

سیاسی مداخلت پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے، بیشتر کلیدی آسامیوں پر سیاسی

اثر رسوخ رکھنے والے یا پھر افسران کے چہیتے متعین ہیں جو من مانیاں کئے

جار ہے ہیں، ایک ایم این اے کے بھانجے کو ایک ہی وقت میں تین یونین کونسلوں

جن میں یونین کونسل کریم پورہ، یونین کونسل گنج و یونین کونسل اندر شہر شامل

ہیں کا ایم آئی ( سپروائزر) مقرر کیا گیا، ایک سروے کے مطابق یوسی کریم پورہ

گندگی کے لحاظ سے ان تینوں یونین کونسلوں میں سب سے زیادہ غلیظ صورتحال

پیش کر رہی ہے جبکہ یو سی گنج کا دوسرا نمبر ہے۔

=-،-= شہر میں صفائی کی صورتحال ابتر، شہریوں سے وصولیاں بلند تر

پشاور کا نظامِ صفائی
پشاور کو گندگی سے پاک ماحول کی فراہمی کیلئے قیام عمل میں لائے گئے ادارے

ڈبلیو ایس ایس پی میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ کئی ایک خامیاں بھی منظر عام پر

آنے لگیں لیکن دوسری جانب حکومت کی جانب سے چشم پوشی بھی دیدنی رہی

تاہم صفائی کی اس حکومتی مشینری کی ناکامی کے 8 برس گزرنے کو ہیں جس

کا اندازہ شہر کے گلی کوچوں میں صفائی کی ناگفتہ بہ صورتحال سے بخوبی لگایا

پشاور کا نظامِ صفائی

جا سکتا ہے، اور اگر یہ کہا جائے کہ صفائی کی حالت میں بہتر کے بجائے گزشتہ

حکومتوں کے ادوار سے کئی درجہ زیادہ خرابی واقع ہوئی ہے تو کسی صورت

بے جا نہ ہو گا- اسکے باوجود شہریوں سے پانی کے نلکے کے بلوں میں سیوریج

اور صفائی ستھرائی کی مد میں بھی پیسے بٹورے جا رہے ہیں، حالانکہ سابقہ

کسی بھی حکومت نے شہریوں کی جیب پر کبھی کسی ایسی مد میں ڈاکہ نہیں ڈالا۔

=-،-= حکومت ڈبلیو ایس ایس پی کی حالت زار پر خاموش کیوں؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی بھی صفر کے برابر

ہے، ادارہ شہریوں کی جیب اور حکومتی خزانے پر بھی بوجھ ثابت ہو رہا ہے تو

کے باوجود حکومت کی جانب سے ادارے کے کرتا دھرتاؤں کیخلاف کارروائی

کے بجائے مجرمانہ خاموشی کیونکر اختیار کی جا رہی ہے-؟

=-،-= ڈبلیو ایس ایس پی کی ابترکارکردگی کا سبب اقراباء پروری

باخبر ذرائع نے پشاور شہر میں صفائی ستھرائی کی بگڑتی صورتحال کی وجہ

سیاسی کرپشن بتائی ہے، جس کا واضح ثبوت یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ڈبلیو ایس

ایس پی میں ایک سیاسی رہنما نے اپنے قریبی رشتہ دار کو تین یونین کونسلز کا

سپر وائزر مقرر کر رکھا ہے، تو دیگر سپر وائزرز کی بھی سیاسی بھرتیاں بتائی

جا رہی ہیں جبکہ زیادہ تر خاکروب گلی محلوں میں نہیں بلکہ سیاسی شخصیات

اور سرکاری افسروں کے گھروں میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ڈبلیو ایس ایس پی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

میں گھوسٹ اہلکاروں کی موجودگی بھی اطلاعات زبان زد عام ہیں، جو کسی المیہ

سے کم نہیں، ایسے اہلکار کسی دوسری جگہ نوکری یا گھر بیٹھے تنخواہیں وصول

کر رہے ہیں جبکہ انکی تنخواہوں سے معمول کے مطابق سب کو حصہ پہنچ رہا

ہے، دوسری جانب ادارے کے اہلکار نفری میں کمی کا رونا روتے دیکھائی دیتے

ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں بلکہ نفری میں کمی کی وجہ کرپشن ہے اہلکاروں

کی کمی نہیں۔

=-،-= چراغ تلے اندھیرا، سب کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مگن؟

چراغ تلے اندھیرا کے مصداق کوئی پوچھنے والا نہیں، وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعلی محمود خان اور دیگر اعلیٰ حکام سے سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیا اندھے

بہرے اور گونگے رہنے کی وجہ لاعلمی ہے۔؟ یا پھر کرپشن کی اس گنگا میں سب

ہاتھ دھونے اور ذاتی مفادات کے تحفظ میں مگن ہیں؟، کسی کو تاریخی اعتبار

سے انتہائی اہم شہر اور اس کے باسیوں کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں-

پشاور کا نظامِ صفائی ، پشاور کا نظامِ صفائی ، پشاور کا نظامِ صفائی ، پشاور کا نظامِ صفائی

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

Leave a Reply