توپک زما قانون، انکار پر دوشیزہ، ناراضگی پر بیوی قتل اور3 چور خواتین 0

پشاور میں 26 دنوں میں 45 قتل اور کیا کیا ہوا۔۔؟

Spread the love

پشاور(بیورو چیف/عمران رشید خان) پشاور میں 26 دنوں

Journalist Imran Rasheed

امن امان کی ابتر صورتحال شہری پریشان

صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں امن وامان کی ناقص صورتحال انتہائی

تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے نواحی علاقوں میں تو قتل و غارت گری اور دیگر چھوٹے بڑے

جرائم کی روک تھام تو درکنار پشاور شہر کے سٹی سرکلز میں بھی پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے

سکھ حکیم سمیت پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ

جس کے باعث شہری، تاجر اور دیگر کاروباری طبقات شدید خوف و ہراس کا شکار دکھائی دے

رہے ہیں یکم اکتوبر کو پشاور شہر کے تھانہ فقیر آباد سے تھوڑے ہی فاصلے پر دن دیہاڑے مسلح

ٹارگٹ کلرز نے دن دیہاڑے گولڈ میڈلسٹ سکھ حکیم سردار ستنام سنگھ کے دوا میں گھس کر

اسے موت کے گھاٹ اتار دیا اور اطمینان سے فرار ہو گئے جس کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے دیگر تین

حملوں میں پولیس کے اے ایس آئی اور پولیو ڈیوٹی سے واپس آنیوالے پولیس اہلکار کو ہدف بنا

کر شہید کردیا تیسرے واقعے میں ٹارگٹ کلرز کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، یکم

اکتوبر سے شروع ہونے والے ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت گری کے سلسلہ میں 26 دن کے دوران پشاور

کے مختلف مقامات پر تقریبا 45 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں 3 خواتین بھی شامل

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

ہیں قتل کے زیادہ تر واقعات درینہ دشمنی جائیداد تنازعات اور معمولی تکرار کی بنا پر رونما ہوئے

لڑائی جھگڑوں درجنوں افراد کے زخمی ہوئے ہیں ، اس دوران تین مختلف مقامات سے معمر شخص

اور ایک نوجوان سمیت تین افراد کی لاشیں ملی ہیں اسی طرح سربند اور پہاڑی پورہ میں دو

چوکیداروں کو قتل کیا گیا ہے، خود کشی کے واقعات میں متھرا کی رہائشی خاتون، شاہ قبول

کے نوجوان سمیت تین افراد نے اپنی زندگی کے چراغ گل کردیئے جبکہ ایک خاتون اقدام خودکشی

کی کوشش میں زخمی ہوگئی پشاور میں روڈ حادثات کے دوران فقیر آباد میں میاں بیوی زخمی

جبکہ شیر خوار بچہ جاں بحق ہوا اسی طرح بڈھ بیر اور دیگر سڑکوں پر حادثات میں متعدد افراد

جاں بحق اور زخمی ہوئے پشاور کے دو مختلف مقامات پر دستی بم حملے اور گند سے ملنے والے ہ

ینڈ گرنیڈ کے پھٹنے کے واقعات میں بھی متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں_

پشاور غیر مقامی افراد کیلئے مقتل گاہ بن گیا

رواں ماہ اکتوبر میں جہاں قتل و غارت گری میں درجنوں مقامی افراد قتل کئے گئے وہیں پر باہر

سے پشاور آنیوالے 5 افراد فائرنگ کرکے ابدی نیند سلا دیا گیا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں

میڈیا ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کے ہسپتال کی نرس اور مہمند ایجنسی کی رہائشی خاتون سمیت

کراچی کے مغوی نوجوان عمر فاروق ، راولپنڈی اور نوشہرہ کے رہائشی و دیگر ایک کو قتل کیا گیا

سٹی سرکلز کے رہائشی مجموعی طور پر 65 لاکھ روپے سے ہاتھ دھو بیٹھے

26 ایام کے دوران چوری ڈکیتی و رہزنی کی وارداتیں پشاور کے مختلف علاقوں میں کی گئی

جن میں شہریوں کو نقدی ، سامان اور زیورات سے محروم کردیا گیا تاہم کینٹ سرکلز میں ان

دنوں جرائم کی شرح کم رہی، میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور شہر ناپرساں کے علاقے میں نجی

کمپنی کے ٹاور سے 8 لاکھ روپے مالیت کی یٹریاں اور لاکھوں روپے کی نقدی چڑالی گئی ، اندرون

شہر لاہوری گیٹ کے قریب راہزنی کی دلیرانہ واردات کے دوران ایک شخص سے اسلحہ کی نوک

پر 15 لاکھ روپے چھین لئے گئے، جبکہ دوسرے شہری علاقے مدینہ کالونی میں بھی نامعلوم افراد

نے پراپرٹی ڈیلر سے گن پوائنٹ پر 24 لاکھ روپے اڑا لئے دریں اثناء افغان مہاجر تین بھائیوں کو

اسلحہ کی نوک پر گاڑی سے نیچے اتار کر ان سے 12 لاکھ روپے چھین لینے کے بعد مزاحمت پر ایک

بھائی کو قتل کردیا جبکہ دیگر دو زخمی ہوئے تاہم یہ واقعہ بھی پولیس کیلئے تاحال معمہ بنا ہوا ہے

پوش علاقوں گلبہار، فقیرآباد اور حیات آباد میں رہزنوں کے ناکے

فقیرآباد میں رہزنوں نے ناکے لگا کر ایک ہی رات میں ایک ہی رات میں کم از کم پانچ افراد کوملکی

و غیر ملکی کرنسی سمیت متعدد موبائل فون گھڑیوں اور انگوٹھیوں و دیگر قیمتی اشیاء سے

محروم کر دیا پورا اسی طرح اور بھی شہری علاقوں میں تسلسل کیساتھ وارداتیں رونما ہونے

کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں تاہم شہر کا پوش علاقہ گلبہار تو کافی عرصے سے لٹیروں کا گڑھ بن

چکا ہے جہاں چند روز قبل ایک صحافی سےاسلحہ کی نوک پر دو عدد موبائل فون ہزار روپے کی

نقدی اور موٹر سائیکل چھین لیا ادھر پوش علاقے حیات آباد میں رہزنوں نے ناکے لگا کر 24 گھنٹوں

کے دوران ایک خاتون سمیت 8 افراد کو لوٹا دوسری طرف شہر میں خواتین کے گروہ سے بھی

شہری عاجز آچکے ہیں مذکورہ ڈکیت گروہ نے ایک گھر میں گھس کر 12 تولے کے طلائی زیورات اور

سات لاکھ روپے کی نقدی و دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لیں پشاور میں چوری ، ڈکیتی اور راہزنی کی

وارداتوں میں نقدی طلائی زیورات اور دیگرقیمتی اشیاء کا ایک اندازہ کے مطابق شہریوں کو صرف

26 دنوں کے دوران ایک کروڑ روپے سے زائد روپے کا چونا لگا چکا ہے جبکہ نیرو بانسری بجاتا رہا

چار صحافی بھی بنے چوروں رہزنوں کا شکار

صوبائی دارالحکومت پشاور میں یکم اکتوبر سے اب تک ان 26 ایام کے دوران جہاں

عام شہریوں تاجروں و دیگر کاروباری حضرات جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں

رہے وہیں اس دوران اخبار اور نجی چینل کے چار صحافیوں کو بھی شہر کے دو

پولیس اسٹیشنز پہاڑی پورہ اور گلبہار میں موٹر سائیکلوں ، نقدی ، موبائل فونز اور

دیگر اشیا سے محروم کردیا گیا ہے پہاڑی پورہ کی حدود میں واقع اخبار کے دفتر

کے باہر کھڑی صحافی کی موٹر سائیکل چوری کرلی گئی تاہم تاحال نہ کوئی ایف

آئی آر کی گئی اور نہ ہی چوروں کا معلوم ہوسکا دوسرا واقعہ بھی اسی تھانے

کی حدود رنگ روڈ پر رونما ہوا جہاں نامعلوم رہزنوں نے نجی میڈیا چینل کے

رپورٹر اور کیمرہ مین سے اسلحہ کی نوک پر نقدیاں اور موبائل فونز چھین لئے

جبکہ پولیس اسٹیشن گلبہار کے علاقے میں بھی رہزنوں نے ایک صحافی سے گن

پوائنٹ پر موٹر سائیکل، نقدی دو عدد موبائل فونز اور قیمتی اشیاء چھین لی اور فرار ہوگئے_

خواتین کے اغوا و جنسی جسمانی تشدد کے واقعات

رواں ماہ کے دوران پشاور کے مختلف علاقوں سے چار خواتین اور نوجوان سمیت 6 افراد کو اغواء

کر لیا گیا ہے پشاور کے نواحی علاقے سے تین بہنیں اور دوسرے واقعے میں دوشیزہ اغواء کرلی

گئی جبکہ ورسک روڈ سے سرکاری ملازم کے بیٹے سمیت 2 افراد کو اغواء کیا گیا ادھر نواحی علاقے

اڑمر میں دوستی نہ کرنے پر لڑکی پر تشدد کے واقعے سمیت دس سالہ طالبعلم سے بدفعلی کی گئی

مسلح جتھوں کے گشت کیا ٹی ٹی پی متحرک۔۔؟

پشاور میں ایک طرف تو قتل و غارت گری سمیت ڈکیتی اور سرے راہ لوٹ لینے کی وارداتوں نے

عوام میں عدم تحفظ کی فضا قائم کر رکھی ہے تو دوسری جانب پشاور سٹی اور رورل سرکلز کے

علاقوں بشیر آباد بیرون کوہاٹی گیٹ ، بڈھ بیر اور دیگر مقامات پر مسلح افراد کا گشت جس کی

خبریں اخبارات میں بھی شائع ہوچکی ہیں نے بھی مہنگائی بے روزگاری اور عدم تحفظ جیسی

صورتحال سے پریشان عوام اپنے سروں پر ایک انجانے خوف کو منڈلاتا دیکھ رہے ہیں دوسری

پڑوسی ملک افغانستان میں حالات معمول پر آنے کی بجائے آئے روز نت نئی خبروں سے باخبر رہنے

والے عوام کو پشاور میں اسلحہ بردار جتھوں کے گشت کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے دوبارہ متحرک

اور شدت پسند نظریے کے افراد کی شمولیت غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے لیکن ایک نجی چینل پر

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء ایمل ولی خان کے اس انکشاف پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے

نیشنل ایکشن پلان میں تیزی لانا ہوگی، ایمل ولی خان

جبکہ عام عوام اپنے سروں پر ایک انجانے ڈر کا سایہ منڈلاتے دیکھ رہے ہیں اے این پی کے رہنما نے

چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے مختلف مضافاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی

کمیں گاہیں موجود ہیں اور صوبے میں ایک مرتبہ پھر ماضی جیسی امن امان کی خرابی جیسے

حالات کا سامان ہونے کے خدشات بھی بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں ایمل ولی نے ٹی وی پروگرام

میں بات چیت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں نیشنل ایکشن پلان میں تیزی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیف کیپٹل پولیس پشاور کے ترجمان عالم خان کے مطابق پشاور پولیس نے 9 ماہ اور 26 دنوں کے

دوران چوری ڈکیتی راہزنی نوسر بازی اور اغوا کی وارداتوں سمیت دیگر جرائم میں ملوث 6 سو

افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے، غیر ملکی کرنسی جو کہ

پاکستانی روپے کے حساب سے لاکھوں روپے بنتے ہے، 150 تولے سونا، مختلف اقسام کے 2 سو

موبائل فونز، پانچ عدد لیپ ٹاپ ،موٹر سائیکلیں گاڑیاں اور لاکھوں روپے مالیت کی دیگر اشیاء جن

میں گھریلو سامان الیکٹرانک سامان وغیرہ شامل ہیں برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کیا ہے

صوبائی دارالحکومت پشاور پولیس کے چیف عباس احسن کی سربراہی میں ایسے جرائم کی

روک تھام اور ان میں ملوث افراد کو نکیل ڈالنے کیلئے خصوصی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے

جس کی نگرانی ایس ایس پی آپریشن کر رہے ہیں ،امن امان کی صورتحال یقینی بنانے کے لئے سی

سی پی او پشاور نے تمام ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے سرکلز میں گشت

کرنے کے علاوہ پولیس ناکہ بندیوں پر نظر رکھیں اور ٹربل پوائنٹس کا تعین کریں جبکہ جیلوں سے

رہا ہونے والے افراد کی جرائم کے مطابق فہرستیں تیار کر کے ان کے روابط اور نقل و حرکت پر بھی

پشاور پولیس کے ترجمان عالم خان

کڑی نظر رکھیں پشاور پولیس کی ترجمان عالم خان نے مسلح گروہوں کے گشت اور مضافاتی

علاقوں میں شر پسندوں کمیں گاہ کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پشاور

پولیس کے سربراہ کی ہدایات پر ضلع کے تمام مضافاتی علاقوں میں قیام کے لئے تھانہ ایس ایچ

اوز ڈی ایس پیز نے اپنے علاقوں میں رابطہ مہم میں مزید تیزی لائی ہے مضافاتی علاقوں کی

پولیس اپنی حدود کی آبادی اور پشاور کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے ان

علاقوں میں پولیس کو عمائدین علاقہ مشران کا بھی تعاون حاصل ہے اس کی وجہ ان علاقوں میں

کھلی کچہریوں کا انعقاد اور عوام پولیس دوستی مہم ہے تاہم ان علاقوں میں شدت پسندوں کی

کمین گاہ ہی موجود نہیں البتہ اگر کسی جگہ پر اس قسم کی اطلاع ملتی ہے تو پولیس فوری

کاروائی عمل میں لائے گئی انکا کہنا ہے کہ پولیس افسران کی سخت ہدایات ہیں کہ اسلحہ نمائش

خواہ کوئی ایک فرد ہو یا پھر کسی گروہ کی شکل میں مسلح گھومنا اور خوف و ہراس پھیلانا

کسی صورت قبول نہیں کیا جائے جبکہ ایسے عناصر کیخلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے

پولیس ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر صورت قائم رکھنا پولیس کے اہم فرائض میں شامل ہے

پشاور میں 26 دنوں ،پشاور میں 26 دنوں ،پشاور میں 26 دنوں

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply