پشاورمیں کینیڈین شہری پر قاتلانہ حملہ، ڈی آئی جی پر دعویداری 0

پشاورمیں کینیڈین شہری پر قاتلانہ حملہ، ڈی آئی جی پر دعویداری

Spread the love

پشاور(بیورو چیف/ عمران رشید خان) پشاور میں کینیڈین شہری

Journalist Imran Rasheed

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ڈپٹی انسپکٹرجنرل آف پولیس

اور حساس ادارے کے سابق افسر کی ایماء پر چلتی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے

میں کینیڈین شہری و کاروباری شخصیت بھائی سمیت زخمی ہو گئے- وجہ عناد

کروڑوں روپے کی لین دین کا شاخسانہ بتایا جا رہا ہے، تاہم پولیس اپنے اعلٰی

افسر سمیت دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرنے سے قاصر ہے-

فائرنگ واقعہ کی تفصیلات مجروح کی زبانی

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دو بھائیوں

عمران خان اور کامران خان نے میڈیا ویب سائٹ ” جتن ” جے ٹی این آن لائن

کو بتایا کہ منگل کے روز وہ اپنے قریبی رشتہ دار سلیم خان کے ہمراہ موٹر کار

جسے عمران خان خود چلا رہا تھا کے زریعے حیات آباد سے عدالتی تاریخ

بھگتنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے، جب وہ تھانہ پھندو کی حدود جمیل چوک

پہنچے تو مسلح افراد نے قتل کے ارادے سے ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع

کر دی، جس کے نتیجے میں وہ دونوں بھائی تین تین گولیاں لگنے سے شدید

زخمی ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ کار میں موجود قریبی رشتہ دار معجزانہ طور

پر محفوظ رہے، جنہوں نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی،انہوں نے ایمبولینس

بھجوائی اور ہیمیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا-

اعلیٰ افسران پر دعویداری کی اندرونی کہانی

پشاور میں کینیڈین شہری

پشاور کی کاروباری شخصیت عمران خان نے بتایا کہ 2009ء میں ڈی آئی جی

سید امتیاز الطاف، حساس ادارے کے افسر ایم نعیم خان نے بطور پارٹنرز شاہین

کیمسٹ کے نام سے فرنچائز کاروبار کا آغاز کیا، تو وہ تقریباً آٹھ سال بزنس

چلاتے رہے، تمام معاملات ٹھیک چل رہے تھے، جس کے بعد وہ اپنے امپورٹ

ایکسپورٹ کے بزنس میں مصروفیات کی وجہ سے 2018 کے آخر میں دبئی

چلے گئے، اس دوران ان کی غیر موجودگی میں مذکورہ مبینہ ملزمان نے کروڑوں

روپے کی ہیر پھیر کی، اور اس کا الزام کمپنی منیجر پر عائد کر کے ہم دونوں

کیخلاف تھانہ ٹاؤن میں بوگس ایف آئی آر کروا دی-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

متاثرہ تاجر نے ڈی آئی جی پر الزام عائد کیا کہ فروری 2021ء میں انہوں نے

اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی مقدمہ میں گرفتار منیجر کو

پولیس کسٹڈی میں تین سے زیادہ مرتبہ ٹارچر کیا، لیکن بالآخر سچ

کا بول بالا ہوا اور غبن کے ثبوت و شواہد نہ ہونے پر انہیں باعزت بری کر دیا

گیا، علاوہ ازیں مذکورہ مبینہ ملزمان نے عمران خان کی عدم موجودگی میں ان

کے چالیس فیصد شیئر، ایک صراف پر فروخت کر دئیے، مجروح نے یہ بھی

بتایا کہ اس ساری صورتحال کے پیچھے، ڈی آئی جی کے کچھ معاملات بھی

ایک وجہ بنے، اس کے علاؤہ فالکن انٹرپرائزز کے نام پر پچیس ملین قرضہ کی

اقساط دینی بھی بند کر دی، جس کیس میں وہ گزشتہ روز بینکنگ کورٹ پیشی

بھگت کر آرہے تھے کہ انہیں نشانہ بنا دیا گیا۔

=-،-= حصول انصاف کیلئے حکومتی عہدیداروں کو خطوط ارسال

مجروح عمران خان کے مطابق انہوں نے پولیس ڈی آئی جی امتیاز الطاف اور

حساس ادارے کے(ر) افسر محمد نعیم خان کیخلاف پرائم منسٹر پورٹل، آرمی چیف

جنرل باجوہ، سی ایم کے پی کے محمود خان، چیف سیکرٹری کے پی، آئی جی

پولیس معظم جاہ انصاری اور دیگر اعلیٰ حکام کو تحریری درخواستیں دیں کہ

مذکورہ مبینہ ملزمان کاروباری شخصیات سے لوٹ مار کرنے اور قبضہ مافیا

کے سرپرست ہیں، جس پر معلوم ہوا کہ دونوں کیخلاف انکوائری شروع ہیں،

تحریری درخواستوں پر ملزمان نے ردعمل میں انہیں قتل کرانے کی کوشش کی

جب کہ پولیس تحفظ فراہم کر سکی نہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر رہی ہے،

بلکہ ٹال مٹول جاری ہے-

پولیس اپنے افسر کے دفاع میں جُت گئی

مجروحین کے بیانات کے مطابق منگل کے رور تقریباً دوپہر تین بجے کے قریب

انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا، تاہم 30 گھنٹے گزرنے کے باوجود

تاحال نامزد مبینہ ملزمان کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا، پشاور کی کاروباری

شخصیت عمران خان نے مزید بتایا اس دوران ان سے بیان لینے ایمرجنسی پولیس

سمیت تھانہ انچارج اور وقفے وقفے سے پانچ ڈی ایس پیز آ چکے ہیں، اور ان کا

یہی کہنا ہے کہ پولیس ڈی آئی جی کے علاوہ کسی بھی شخص کیخلاف ایف آئی

آر کا اندراج ہو سکتا ہے جبکہ باتوں باتوں میں مجروحین پر دھونس جمانے کی

کوشش بھی کرتے رہے-

=-،-= سفید کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کی پولیس کی کوشش ناکام

لواحقین نے پولیس پر الزام لگایا کہ پولیس چرب زبانی اور چالاقی کا سہارا لیتے

ہوئے سفید کاغذ پر مجروحین کے انگوٹھوں کے نشانات لیکر غائب ہونے کی

کوشش کر رہی تھی. تاہم وہ پولیس سے کاغذ واپس لینے میں کامیاب رہے، انہوں

نے مزید کہا ایسا لگتا ہے کہ پولیس اپنے افسر کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش

میں کسی حد تک بھی جا سکتی ہے، حکومت ہسپتال میں زیر علاج دو مدعی

بھائیوں اور ان کی فیملیز کو تحفظ فراہم کرے۔

سائلین کو جان سے مارنا باقاعدہ رواج بنتا نظر آ رہا ہے

چوری اور سینہ زوری کی تو کئی مثالیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں، لیکن

صوبہ خیبرپختونخوا میں ایک ظالمانہ سلوک پروان چڑھتا نظر آرہا ہے کہ بے

بس اور مجبور متاثرین کو شکایات کے بعد ان کی دادرسی کرنے کی بجائے

ملزمان کے ہاتھوں قتل کرنے کے واقعات سامنے آ ر ہے ہیں، جس کی تازہ مثال

بٹ خیلہ کی رہائشی ہوا کی بہادر بیٹی کو اس کے غیور والد سمیت قتل کر دینا

کچھ اسی طرح کا واقعہ پشاور کی اس کاروباری شخصیت عمران خان اور اس

کے چھوٹے بھائی کامران خان کیساتھ ہونے جا رہا تھا کہ جسے اللّٰہ پاک رکھے

اسے کون چھکے جیسی مثال سامنے آئی اور دونوں بھائی متعدد گولیاں لگنے

کے باوجود زخمی ہوئے، بروقت طبی امداد ملنے پر ان کی زندگیاں بچ گئیں-

پشاور میں کینیڈین شہری ، پشاور میں کینیڈین شہری ، پشاور میں کینیڈین شہری

پشاور میں کینیڈین شہری ، پشاور میں کینیڈین شہری ، پشاور میں کینیڈین شہری

قارئین=کاوش پسند آئے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply