Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan 0

پشاور جلوسِ جشنِ میلاد روٹ کی ربیع الاوّل میں کھدائی، چہ معنی دارد–؟

Spread the love

پشاور جلوسِ جشنِ میلاد

گھنٹہ گھر پشاور

صوبہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور جو تاریخی اعتبار سے دنیا بھی میں

اہمیت کا حامل شہر ہے، قدیم زمانے میں جہاں شہر پشاور تجارت کے حوالے

سے خطے کا تجارتی مرکز تھا اور آج بھی ہے، تجارتی قافلے جب شہر کا رخ

کرتے تو کئی ہفتے یہاں قیام کرتے، شہر میں میلے کا سماں ہوتا، لوگ تجارتی

سامان کی خرید و فروخت کرتے، سیاسی لحاظ سے بھی یہ شہر کافی زرخیز ہے

کئی نامور شخصیات اس کے دامن میں پروان چڑھیں، گذشتہ تین، چار دہائیوں

یہاں برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے شہر کی بحالی کے حوالے سے اربوں

روپے کے ترقیاتی کام کرائے، سڑکیں اور پُل بنوائیں، لیکن ہر بار یہ شہر بحالی

کی بجائے سیاست کی نظر ہوتا رہا، موجودہ حکومت میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا

ہے کہ اندرون شہر سیاست کے نام پر شہریوں کی عزتِ نفس مجروح کرنے کا

سلسلہ بدستور جاری ہے، مخالفین کی طرف سے بار بار حکومتی رٹ کو چیلنج

کیا جا رہا ہے، جبکہ برسرارِ اقتدار حکمراں جماعت کی مسلسل ٹال مٹول اور

چشم پوشی اختیار کرنیکی مصلحت پسندی عوام کیلئے باعث عذاب ہے، حالانکہ

ماضی میں ایسی ہی پالیسی کے باعث 3 قیمتی انسانی جانیں لقمہ اجل بن چکی

ہیں-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں مارچ 2015ء میں شہر کا

دل کہلانے والے گھنٹہ گھر میں 60 سالہ قبضہ مافیا کو شکست دیتے ہوئے

1955ء سے قائم تجاوزات کا خاتمہ ممکن بنایا گیا، اس سے دو ماہ قبل جنوری

میں جب حکومت کی جانب سے تجاوزات کیخلاف آپریشن شروع کیا گیا تو

تاجروں کو پیشگی نوٹسز دئیے گئے تھے، لیکن تاجروں میں شامل سازشی ٹولہ

جو کہ قبضہ مافیا کے سرغنہ کی بھرپور مدد سے تجاوزات کا حامی تھا، نے

متاثرہ تاجروں کی مزاحمت کو خونی رنگ دیدیا، حالات خرابی کا باعث کچھ یوں

بنے کہ مزاحمت کاروں نے شاول پر فائرنگ کی تو ڈرائیور گھبرا گیا اور غلطی

سے تین افراد لقمہ اجل بن گئے، اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت نے شرانگیزی

سے بچنے کیلئے مرنے والوں کے لواحقین کو 10/10 لاکھ روپے دینے کا اعلان

کیا، تاہم اسوقت کے مرکزی تنظیم تاجران کے جنرل سیکرٹری حاجی شوکت علی

نے حکومتی امداد کو مسترد کیا، لیکن بعد ازاں معاملہ طے پا گیا، یہ بات الگ

ہے کہ اس امداد میں ایک تاجر رہنماء کی طرف سے کرپشن کی کوشش سامنے

آئی، وہ تاجر رہنما اور گھنٹہ گھر کی مافیا دونوں ایک ہی سیاست جماعت کے

درینہ کارکن ہیں-

2015 میں تجاوزات آپریشن کے دوران تین افراد کی ہلاکت کے بعد لوگ جائے وقوعہ پر موجود ہیں
=-،-= سٹرک کُھدائی پرویز خٹک دور میں پیش آئے سانحہ کا تسلسل

پشاور شہر کے دل میں مبینہ طور پر سازش کے تحت تہرے قتل کی پوشیدہ

واردات کے بعد بھی مافیا کی ہوس اور پی ٹی آئی حکومت کی مخالفت سے جی

نہیں بھرا اور وقتاً فوقتاً سیاسی چالوں جن کا نقصان براہ راست شہریوں کو پہنچتا

رہا، لیکن اب کی بار تو انتہا ہی کر دی گئی سرکار دو عالم حضرت محمد صلی

اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد کے ماہ مقدس ربیع الاوّل میں ایسی غلیظ ترین

سیاست کا آغاز کیا گیا کہ عقل دنگ رہ گئی اور پُر امن شہریوں کا خوں کھول

اٹھا، کیونکہ اس کا نشانہ شہری اور بالخصوص عاشقانِ رسول (ص) کو بنانے

کی مکروہ حرکت کی گئی، اور وہ حرکت یہ تھی کہ ماہ ربیع الاوّل کے ایام میں

جشن میلاد مصطفیٰ کے جلوس کے راستے کو تعمیر کے نام پر کھود کر ناقابل

استعمال بنا دیا گیا- یہ کھدائی اور تھوڑ پھوڑ اے این پی کو ترقیاتی کاموں کیلئے

جاری کردہ فنڈز سے ہوئی- دو ربیع الاوّل کو سڑک کی کھدائی شروع کی گئی

اور جگہ جگہ پر کھڈے بنا دیئے گئے، جس میں پانی کے پائپ زد میں آ کر ٹوٹ

گئے جس سے گھنٹہ گھرتا کریم پورا تک کا علاقہ جھیل کی شکل اختیار کر گیا-

Exif_JPEG_420
=-،-= سٹرک کُھدائی، ٹف ٹائلز چوری پر اے این پی زیرِ عتاب

اہل علاقہ، خریداری کیلئے دوسرے علاقوں سے آنیوالے عوام نے پی ٹی آئی پر

لعن تعن شروع کردی جو وقتی طور پر مخالفین کی خوشی کا باعث بنی لیکن جلد

ہی ان کی یہ خوشی ان کے گلے پڑ گئی، کیونکہ پی ٹی آئی کارکنوں نے سماجی

رابطوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا گروپس میں پیغامات اور اپنے احتجاج

کی ویڈیوز وائرل کرکے حقائق پر سے پردہ اٹھا دیا، جس پر مبینہ سازش میں

ملوث عناصر کو منہ چھپا کر بھاگنا پڑا، تاہم جشن میلاد کے جلوس سے ایک

روز قبل گیارہ ربیع الاوّل کو ادارہ تبلیغ الاسلام کے سربراہ سابق وزیر اور پی

پی پی کے سینئر رہنما سید ظاہر شاہ نے ہنگامی بنیادوں پر عارضی کام کراتے

ہوئے گھنٹہ گھر تا کریم پورا روڈ کو جلوس کے گزرنے کے قابل بنایا، ورنہ

حکومت اور انتظامیہ کو جہاں جلوس کا قدیمی روٹ بدلنا پڑتا،سکیورٹی و دیگر

انتظامات الگ سے کرنا پڑتے وہیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے شدید تنقید کا بھی سامنا

رہتا- تاہم اس قبیح فعل کی حقیقت آشکار ہونے پر اے این پی ہدف تنقید بن گئی،

ابھی یہ معاملہ تھمنے نا پایا تھا کہ مذکورہ سڑک سے استعمال شدہ پرانی

ٹف ٹائلز چوری ہونے کے انکشاف نے شہریوں میں عوامی نیشنل پارٹی اور اس

کے کارکنوں کا رہا سہا امیج تباہ کرکے رکھ دیا-

=-،-= حالیہ سازش کی تحقیقات، حکومت کا ہوش کے ناخن لینا ضروری

جشن میلاد مصطفیٰ جلوس سے قبل ہی شہریوں، تاجر طبقوں اور پی ٹی آئی کے

کارکنوں کے جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ حکومت کے ہر اچھے کام میں

رکاوٹ بننے والے اس نام نہاد تاجر طبقے اور اس کے سرغنہ کیخلاف سانحہ

2015ء اور موجودہ سازشوں کی مد میں مقدمات درج کر کے اعلیٰ سطحی

تحقیقات کرائی جائیں، شہر کے دل میں گندگی اور شہریوں کیلئے مختلف مسائل

کا سبب بننے والی مچھلی منڈیوں کی باہر منتقلی یقینی بنائی جائے، لیکن تاحال

حکومت اور انتظامیہ نے چُپ سادھ رکھی ہے- مختلف حلقوں کے مطالبات اپنی

جگہ لیکن موجودہ حکومت کو اب ہوش کے ناخن لینا ہونگے، کیونکہ ماضی اور

حال کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ

بااثر مافیا سیاسی انتقام میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے-

=-،-= تم رات میں قتل کرو گے، ہم تمہیں اخبار کی سرخیوں میں ملیں گے

ماضی کے سانحات اور موجودہ سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت کو

ایسے عناصر کیخلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کام کرنا ہو گا- قابل ذکر یہ بات

بھی ہے کہ راقم تحریر سمیت دیگر اہل قلم کو سانحہ 2015ء کے بعد اس واقعہ

پر بھی آواز حق بلند کرنے پر ایک بار پھر نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی

ہے، لیکن اس ضمن میں ہر مافیا کو پہلے کی طرح ہمارا آج بھی یہی جواب ہے

کہ تم رات کی سیاہی میں قتل کرو گے، تو ہم تمہیں صبح کے وقت اخبار کی

سرخیوں میں ملیں گے-

پشاور جلوسِ جشنِ میلاد ، پشاور جلوسِ جشنِ میلاد ، پشاور جلوسِ جشنِ میلاد

پشاور جلوسِ جشنِ میلاد ، پشاور جلوسِ جشنِ میلاد ، پشاور جلوسِ جشنِ میلاد

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply