پشاور اندرون شہر آتشزدگی، سرکاری اہلکاروں کی غفلت، قیمت چکائی عوام نے

پشاور اندرون شہر آتشزدگی، سرکاری اہلکاروں کی غفلت، قیمت چکائی عوام نے

Spread the love

پشاور( خصوصی رپورٹ، عمران رشید سے ) پشاور اندرون شہر آتشزدگی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اندرون شہر مینا بازار میں خوفناک

آتشزدگی سے گارمنٹس کی پانچ دکانیں جل کر خاکسترہو گئیں ،جس سے نقصان کا

ابتدائی تخمینہ دو کروڑ سے زائد لگایا جا رہا ہے ،فائر بریگیڈ کا عملہ 30 منٹ

تاخیر سے پہنچا اور 2 گھنٹوں کی تگ ودو کے بعد آگ پر قابو پایا۔

=-،-= خیبرپختونخوا سے مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،= )

اس دوران تاجر اور واپڈا عملہ بھی آپس میں گتھم گھتا ہو گیا، 21 گھنٹے مسلسل بجلی

کی فراہمی معطل رہی، شہری گرمی میں بلبلا اٹھے، ٹیوب ویلز بھی بند رہنے سے

آدھے شہر میں کربلا کی یاد تازہ ہو گئی ۔اہلیان اندرون شہر نے پوری رات جاگ کر

گزاری، بالآخر منگل کی صبح چار بجے بجلی بحال کردی گئی۔

=-،-= شہریوں کا ارباب اخیتار سے واقعہ کی انکوائری، کارروائی کا مطالبہ

شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں نے وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزیر پانی و بجلی،

وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے واقعہ کا

فوری نوٹس لینے سمیت اعلیٰ سطح انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے غفلت و سستی کے

مرتکب افراد کیخلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا جبکہ اس ضمن میں

وزیراعظم سیٹیزن پورٹل میں شکایت درج کرنے کا عندیہ بھی دیدیا۔

32

تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح سات بجے کے قریب پشاور اندرون شہر کے

تجارتی اور خواتین کی خریداری کے لحاظ سے معروف و مصروف ترین مرکز مینا

بازار میں حاجی ظہور احمد صد یقی مارکیٹ میں گیس لیکج کے باعث آگ بھڑک اٹھی

جس نے دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ کے گراونڈ فلور میں موجود ہوزری، گارمنٹس

کی دکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،تاہم فائر بریگیڈ ، ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک آگ

نے مزید چار دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ کے شعلے اس قدر بلند تھے کہ

اوپر سے گزرنے والی بجلی کی مین سپلائی تار بھی اس کی زد میں آکر جل گئے ۔

5

آگ کی زد میں آنیوالی دکانوں کے مالکان نے اپنے ہونےوالے نقصان کا تخمینہ لگاتے

ہوئے بتایا آتشزدگی کے نتیجے میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سامان جل کر

کوئلہ بن گیاہے۔

1

آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد بازار کلاں کے تاجروں اور پیسکو عملے کے

متضاد بیانات سامنے آئے، پہلے تو دوپہر کے وقت دونوں کے مابین شدید جھڑپ ہوئی

اور ایک دوسرے پر مکے گھونسوں کی بھرمار کرڈالی، تاہم تاجروں کیساتھ گرمی کے

ستائے ہوئے مقامی افراد اور راہگیر کے جم غفیر ہونے کی وجہ سے واپڈا عملہ ان

کے مقابلے میں پست رہا تو پولیس نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے دیگر تاجر برادری کی

مداخلت پر دونوں میں راضی نامہ کروا دیا۔

=-= واپڈا عملہ بجلی کے تار کاٹ کر چلتا بنا، شہری

مقامی تاجروں نے الزام لگایا کہ واپڈا سپرٹینڈنٹ اور دیگر عملہ موقع سے مین لائن

کاٹ کر چلتے بنے اور پھر کام کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے جبکہ شہریوں

اور دیگر تاجروں کی شکایات اور منتوں سماجتوں کے بعد رات نو بجے آئے اور

بجلی کے تار نہ ہونے کا بہانہ کرکے مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی سے کام لیتے رہے۔

=-،-= کام میں تاخیر کا سبب بازار بند کرنے سے انکار، واپڈا عملہ

دوسری جانب پیسکو واپڈا ذرائع نے بتایا وہ آتشزدگی ختم ہونے کے بعد آئے اور کام

شروع کرنا چاہا تو تاجروں سے دو گھنٹے کےلئے بازار بند رکھنے کا کہا تاکہ ہ فوری

طور پر کام شروع کیا جاسکے جس پر بازار کلاں اور بعض مینا بازار کے تاجر ان

کےساتھ گتھم گتھا ہوگئے ، اہلکاروں کی بے عزتی کی ، زدو کوب کیا ، جب تک

معمول کے مطابق بازار بند نہ ہوا انہیں کام سے روکے رکھا۔

4
واضح رہے واقعے میں کون کتنا گنہگار ہے اس بحث میں پڑے بغیر دیکھا جائے تو

دونوں کے مابین تنازعے کی وجہ سے مینا بازار، کوچی بازار، بازار کلاں، گھنٹہ

گھر، ریتی بازار، رامپورہ گیٹ اور ان سے متصل درجنوں علاقوں محلوں میں بجلی

کی فراہمی مسلسل 21 گھنٹوں تک معطل رہی جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

پشاور میں گرمی کی شدت 42 درجہ حرارت رہی ،ایسی صورتحال میں شہریوں کو

ایک بڑا عذاب یہ جھیلنا پڑا کہ ٹیوب ویلز نہ چلنے کے باعث وہ پانی کی بوند بوند کو

ترستے اور شدید گرمی میں بلبلاتے رہے، تقریبا نصف اندرون شہر میں کربلا کی

یاد تازہ کردی گئی ،سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومت کے سامنے جائز مطالبہ تو

رکھ دیا، دیکھنا یہ ہے انصاف کے نام پر قائم موجودہ حکومت انصاف کے تقاضے

پورے کرتی ہے یا پھر رات گئی بات گئی کی پالیسی پر عمل کرتی ہے۔

پشاور اندرون شہر آتشزدگی ، پشاور اندرون شہر آتشزدگی ، پشاور اندرون شہر آتشزدگی ، پشاور اندرون شہر آتشزدگی ،

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply