پشاور، مدرسے میں خوفناک دھماکہ، 8 افراد جاں بحق

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور مدرسے میں دھماکہ

پشاور (خصوصی رپورٹ/ عمران رشید سے)پشاور تھانہ یکہ توت کی حدود رنگ روڈ کے قریب واقع علاقے دیر کالونی میں واقع دینی مدرسے میں دھماکہ کے نتیجے میں اٹھ ترجمہ شہید جب کہ سو سے زائد طلباء بری طرح جھلس کر زخمی ہوگئے ۔
زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے تقریبا 40 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا، تاہم ہسپتال ذرائع کے مطابق 10 زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے
دھماکہ میں شدید زخمی ہونیوالے افراد کے جسم جلے ہوئے ہیں اور ان کے جسم میں چھرے بھی موجود ہیں
بیشتر زخمیوں کو برن یونٹ اور ای این ٹی وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔

پشاور میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والا مدرسہ دارالعلوم زبیریہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ مدرسہ مولانا سمیع الحق کے مدرسے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے وابستہ ہے۔

دھماکا منگل کی صبح تقریبا ساڑھے آٹھ بجے کے قریب دیر کالونی میں واقع اسپین جماعت و مدرسے کے حال میں اس وقت ہوا جس وقت مولانا رحیم اللہ دینی درس دے رہے تھے مدرسے میں دوسرا پیریڈ شروع ہونے والا تھا جبکہ حال میں تقریبا بارہ سو طلباء جن میں بچے بھی شامل ہیں موجود تھے کہ اچانک ہال میں بیٹھے ہوئے طلباء کے درمیان میں ایک خوفناک دھماکہ ہوا دھماکے کے باعث حال کے ایک حصہ میں آگ لگ گئی اور منبر کی دیوار کا کچھ حصہ گر گیا کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور حال میں ہر طرف سے سیاہ دھویں کے بادل چھا گئے تاہم طلباء کو درس دینے والے مولانا رحیم اللہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے.
اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فوری طور پر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔


پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں تقریبا 72 زخمیوں کو لایا گیا جب کہ دیگر زخمی نصیر اللہ بابر ہسپتال, کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی منتقل کیے گئے
زخمیوں کی تعداد 112 بتائی جارہی ہے جبکہ شہید ہونے والے طلبہ جن کی عمریں بیس سے تیس برس کے درمیان ہیں کی لاشیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں شہداء میں ایک بچے کے شہید ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ محمد علی خان اور ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مشکوک شخص ہال میں داخل ہوا جس نے دھماکا خیز مواد سے بھرے بیگ کو حال کے درمیان میں بیٹھے طلبہ میں رکھ کر خود چلا گیا اور بعدازاں موقع ملتے ہی نامعلوم عسکریت پسندوں نے ریموٹ کنٹرول کے زریعے بارودی مواد کو دھماکے سے اڑا دیا
پولیس نے مزید بتایا کہ واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت ہی منظم طریقے سے دھماکا کیا گیا ہے تاہم واقعہ سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکہ میں 4 سے 5 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے۔

دوسری طرف انسپیکٹر جنرل پولیس آف خیبر پختوا ثناءاللہ عباسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ تھا
امن دشمنوں کے وار کو روکنے کے لئے صوبے میں سکیورٹی نظام میں پہلے سے بہتری کیے ہوئے تھے جہاں تھرٹ تھا انہیں سیکیورٹی فراہم کی گئی تاہم مدرسے سے متعلق مخصوص تھریٹ نہیں تھا انہوں نے کہا کہ دیر اور باجوڑ میں بھی کچھ لوگ پکڑے گئے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پشاور مدرسے میں دھماکے کے حوالے سے ابھی ابتدائی تفتیش جاری ہے جسے ابھی شیئر نہیں کیا جا سکتا تاہم شدت پسندوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا

پشاور 12 ربیع الاول کی آمد سے چند روز پہلے ہی دینی مدرسے میں دہشت گردی کا خوفناک واقعہ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بنا ہوا ہے۔

پشاور کے شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ اٹھی کیا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس عوام کو 12 ربیع اول کے جلسے جلوسوں میں سیکیورٹی فراہم کر پائے گی یا پھر شہری اس روز بھی جلوس میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔

باریو نے نمائندہ جی ٹی این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پر مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے وہیں پر حالیہ دہشت گردی کی لہر بھی شہریوں کے لیے ایک مرتبہ پھر ایک انجانے خوف کا سبب بن کر سامنے آیا ہے.

تاہم کچھ شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اور پولیس فورس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ پر امید ہیں کہ پشاور میں دوبارہ دہشت گردوں کا راج قائم نہیں ہو پائے گا اور ماضی میں امن و امان کے قیام میں پولیس فورس کی لازوال قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کلچر شوکت یوسفزئی نے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مذہب سے تعلق نہیں ہے۔

پشاور مدرسے میں دھماکہ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply