Prof. Inyat Ali Khan

طنز و مزاح کا ایک اور باب بند، نامور شاعر و ادیب پروفیسر عنایت علی خان سپرد خاک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی (جے ٹی این آن لائن شوبز نیوز) پروفیسر عنایت علی خان

طنز و مزاح کے نامور شاعر و ادیب پروفیسرعنایت علی خان کو سپردخاک کر

دیا گیا۔ نمازجنازہ بعد نماز ظہر مسجد کائنات عائشہ ماڈل کالونی میں ادا کی گئی،

جس میں ادب سے وابستہ افراد، مرحوم کے عزیز و اقارب اور شہریوں کی

ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، انہیں جناح ٹرمینل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا، احمد فراز کی برسی
———————————————————————

تفصیلات کے مطابق شہرہ آفاق نعت کے خالق، چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے
والی بے شمار نظموں کے شاعر پروفیسر عنایت علی خان ٹونکی اتوارکی صبح

کراچی میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ انکی عمر85 برس تھی اور وہ کئی

ماہ سے علیل تھے۔

پروفیسر مرحوم 1935 میں ہندوستان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے

قیامِ پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے 1948 میں سندھ کے شہر حیدرآباد ہجرت کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی و ثانوی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔ 1962 میں انہوں نے ماسٹرز میں یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پروفیسر عنایت علی خان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔

والد اور والدہ دونوں ہی ادب اور شاعری کا ذوق رکھتے تھے

آپکے والد اور والدہ دونوں ہی ادب اور شاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ بلکہ پروفیسر عنایت علی خان کے والد ہدایت اللہ خان ناظر ٹونکی باقاعدہ مزاح نگار تھے۔ پروفیسر عنایت علی خان نے اردو کی درسی کتب برائے مدارس صوبہ سندھ مقابلہ کی بنیاد پر لکھیں اور چھ کتابوں پر انعام حاصل کیا۔

مرحوم کا قلمی نام عنایت تھا

ان کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں، جن میں ازراہِ عنایت، عنایات اور عنایتیں کیا کیا، عنایت نامہ اس کے بعد کلیات عنایت شامل ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ دو کتابیں بچوں کی نظموں اور کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ وہ چالیس سال سے زائد درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ مرحوم کی نظم بول میری مچھلی، کئی مزاحیہ قطعات زبان زد عام ہوئے۔

حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ، لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر

یہ مشہور شعر بھی انہی کا ہے۔ ان کی شاعری کے موضوعات میں طبقاتی منافرت، سماجی مسائل نمایاں رہے ۔ وہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح کی صورت میں سماج و معاشرے کے سنجیدہ اور دکھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔ طنز و مزاح کی تاریخ میں آپکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا-

انتقال پر ادبی، سیاسی، سماجی حلقوں کا اظہار افسوس و تعزیت

برصغیر پاک و ہند کے مقبول ترین مزاح نگار اور برجستگی میں اپنی مثال آپ پروفیسر کی وفات پر جہاں ادبی حلقے غم زدہ ہیں وہیں ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے پروفیسر عنایت علی خان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرنے سمیت دعا کی کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply