پاک افغان دوستی کا نیا باب شروع کرنے پر اتفاق

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)

پاکستا ن اور افغانستان نے عوام کے مفاد اور خطہ میں امن، استحکام اور

خوشحالی کے فروغ کیلئے باہمی اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی پاک افغان دوستی

اور تعاون کے نئے باب کے آغاز پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے افغانستان میں

پائیدار امن سے دونوں ممالک کیلئے شاندار اقتصادی ثمرات حاصل ہونگے جبکہ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستان افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی

سالمیت کا احترام کرتا ہے، پاکستان ایک پرامن، مستحکم، جمہوری اور خوشحال

افغانستان سے پختہ وابستگی رکھتا ہے اور افغانستان کے ساتھ سیاسی، تجارتی،

اقتصادی اور عوامی سطح پر مضبوط تر تعلقات کا خواہاں ہے۔ جمعرات کو

افغان صدر نے یہاں وزیراعظم ہائوس میں وزیراعظم عمران خان سے ون آن

ملاقات کی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات کئے۔ انہوں نے دوطرفہ

تعلقات کے تمام تر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے بعد جاری

اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ’’پرامن

ہمسائیگی‘‘ کے اپنے وژن کے تحت پاک افغان تعلقات میں معیاری تبدیلی لانے

کیلئے پرعزم ہے۔ دونوں رہنمائوں نے پاک افغان روابط کے پیش بین وژن کی

تشکیل کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ ذمہ داری کے

تحت افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ افغان

قیادت اور افغان عوام کی حمایت کا حامل امن کا عمل افغانستان میں عشروں

پرانے تنازعہ کے خاتمہ کا واحد موزوں حل ہے۔ اس ضمن میں پاکستان نے ہمیشہ

نتیجہ خیز مکالمہ کی حمایت کی ہے۔ پاکستان اس نازک موڑ پر افغان عوام کے

شانہ بشانہ کھڑا ہونے پر یقین رکھتا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تجارت کو

وسعت دینے، راہداری تجارت کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کیلئے مل کر

کام کرنے اور رابطہ کاری کیلئے کاوشوں کو تقویت دینے کے عزم کا بھی اعادہ

کیا جبکہ اس امر کا ادراک کیا گیا کہ سنٹر ل ایشیاء اور سائوتھ ایشیاء (کاسا۔

1000) بجلی ٹرانسمیشن لائن، ترکمانستان افغانستان پاکستان بھارت (تاپی) گیس

پائپ لائن جیسے بڑے توانائی منصوبوں کی جلد تکمیل سے متعلقہ ممالک کو

طویل المدتی اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ تجارت، بنیادی ڈھانچہ اور توانائی

امریکہ افغانستان سے مکمل انخلا کیلئے تیار

رابطہ کو تقویت دینے کے مزید راستے تلاش کئے جائیں گے۔ افغانستان پاکستان

راہداری تجارت رابطہ اتھارٹی (اے پی ٹی ٹی سی اے) اور مشترکہ اقتصادی

کمیشن سمیت موجودہ نظاموں سے بھرپور استفادہ کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ

راہداری اور دوطرفہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں اور باہمی طور

پر مفید اقتصادی و تجارتی روابط کے نئے امکانات تلاش کئے جا سکیں۔ علاقائی

امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم نے جنوبی ایشیاء میں امن، ترقی اور

خوشحالی کیلئے اپنے وژن کا اظہار کیا۔

قبل ازیں نور خان ایئر بیس آمد پر افغان صدر اشرف غنی کو 21 توپوں کی

سلامی پیش کی گئی۔ وزیراعظم ہائوس میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی

جہاں انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا صدر اشرف غنی ایک بڑے وفد کے ساتھ

پاکستان تشریف لائے ہیں جس میں اہم وزراء ان کے ہمراہ ہیں۔ ان کی وزیراعظم

عمران خان سے علیحدگی میں بھی ملاقات ہوئی اور وفود کی سطح پر بھی بات

ہوئی۔ خوش آئند بات یہ ہے ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہم ماضی پر ایک دوسرے کو

مورد الزام نہ ٹھہرائیں بلکہ آگے بڑھیں۔ اب جو مسئلہ درپیش ہے وہ امن و

استحکام کا ہے ہم نے واضح کیا امن ہم دونوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان قیام امن

کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان کا اصلاحاتی ایجنڈا اس وقت تک آگے

نہیں بڑھ سکتا جب تک خطے میں قیام امن نہ ہو۔ ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت باہمی

دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان کی انسٹیٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں

جو گفتگو ہوئی وہ بھی انتہائی مثبت رہی، وہ آج لاہور بھی جائیں گے اور

کاروباری کمیونٹی سے ملیں گے۔ ہمارے پچھلے کچھ عرصے میں جو مذاکرات

ہوئے جو کافی سود مند رہے ہم دونوں نے خصوصی میکانزم اے پیکس پر پانچ

مشترکہ پہلوؤں کو دوبارہ ریویو کیا۔ بھوربن میں بھی افغان قیادت نے بڑی تعداد

میں شرکت کی وہاں بھی ہماری گفتگو بہت سودمند رہی، یہ اس بات کا مظہر ہے

کہ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کو بھلا کر مشترکہ

ایجنڈے پر مل کر آگے بڑھیں گے۔ ہم نے طورخم بارڈر کو کھلا رکھنے کا فیصلہ

کیا ہے تاکہ چیزوں کی ترسیل ہو سکے۔ ویزہ میں بھی ہم نے آسانی کا فیصلہ کیا

ہے ہم نے تجارتی امور پر بھی بات چیت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ افغان

طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں دوحہ پراسسس کے تحت زلمے خلیل زاد کے

ساتھ ان کی نشستیں ہوئی ہیں اب افغان قیادت چاہتی ہے طالبان ان کے ساتھ

کابل،طالبان نے2 امریکی اہلکاروں کو قتل کر دیا،حملوں میں26 افغان اہلکار مارے گئے

مذاکرات کے لیے بیٹھیں اس میں کچھ مسائل تھے جو کافی حد تک کم ہوئے ہیں۔

افغان گیس پائپ لائن منصوبے کو سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ یہ صرف پاکستان اور

افغانستان کے لئے بلکہ پورے خطے کے لئے اہم ہے۔ دونوں ممالک متفق ہیں ان

کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو۔ افغان مہاجرین کی ہم مرحلہ

وار باوقار واپسی چاہتے ہیں۔ آج کی نشستوں سے ہمیں دونوں طرف سے آگے

بڑھنے کیلئے آمادگی نظر آئی۔ ہمارے علم میں ہے ہم دونوں ممالک کے مابین جو

تعلق بڑھ رہا ہے اس میں کچھ عناصر اسے خراب کرنے کی کوشش کریں ہمیں

باخبر رہنا ہوگا

اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے افغان صدر اشرف غنی نے

ملاقات کی جس میں افغان مفاہمتی عمل اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔

ملاقات میں صدر اشرف غنی نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا

جبکہ معیشت اور عوامی رابطوں میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی۔ دونوں

ملکوں میں مواصلات، توانائی، ثقافت، عوامی روابط اور امن و اخوت کیلئے

وضع کردہ حکمت عملی کو عوام کی بہتری اور بہبود کیلئے بروئے کار لانے پر

اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کی طرف سے افغان

صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا افغانستان اور پاکستان کے مابین دیرینہ

طالبان کا ہلمند بیس پر حملہ، 23 افغان فوجی ہلاک،جوابی کارروائی میں 20جنگجو مار ے گئے،حکام کا دعویٰ

جغرافیائی و تاریخی تعلقات ہیں، افغان عوام نے بے پناہ مصائب اورمشکلات کا

سامنا کیا ہے، افغانستان میں پائیدارامن، استحکام اور خوشحالی پاکستان کے اپنے

مفاد میں ہے، پاکستان نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر ہمیشہ زوردیتا رہا ہے

اور افغان امن عمل کے لئے کھلے دل اور نیک نیتی سے مصالحانہ کردار ادا

کرتا رہے گا۔ اشرف غنی کے دورہ سے دونوں ممالک مزید قریب آئیں گے،

دورے سے دو طرفہ تعلقات کے استحکام میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply