پاکستان کی جمہوریت میں مزید دودرجے تنزلی،دنیا بھر میں 112ویں نمبر پر آگیا

Spread the love

مؤقر جریدے اکانومسٹ کے انٹیلیجنس یونٹ نے دنیا بھر میں جمہوریت کی صورت حال سے متعلق اپنا گیارہواں عالمی انڈکس جاری کر دیا ہے،جمہوریت سے متعلق عالمی انڈکس میں پاکستان دو درجے تنزلی کے بعد 112 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتخابی عمل میں شرکت میں اضافہ ہوا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 2018ء میں دنیا بھر میں مجموعی طور پر سیاسی عمل میں شرکت کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیاسی عمل میں شرکت میں اضافہ اس لیے بھی حیران کن ہے کیوں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں عام انسانوں کا جمہوریت پر اعتماد کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔انڈکس میں عالمی سطح پر حکومتوں کو چار حصوں، مکمل جمہوریت، تقریبا جمہوریت، نیم جمہوریت اور مطلق العنانیت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جمہوریت کی صورت حال پرکھنے کے لیے چھ اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن میں انتخابی عمل، حکومتی عمل داری، سیاست میں شرکت، سیاسی کلچر اور شہری آزادی شامل ہیں۔ ورلڈ انڈکس کے مطابق دنیا بھر کے صرف بیس ممالک ایسے ہیں، جہاں مکمل جمہوریت ہے اور ان ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا محض ساڑھے چار فیصد بنتی ہے۔ دوسری طرف دنیا کی قریب پینتالیس فیصد آبادی ایسے 55 ممالک میں آباد ہے، جہاں کے حکومتی نظاموں کو ناقص ہونے کے باوجود تقریبا جمہوریت کے قریب کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ 39 ممالک ایسے ہیں، جہاں انتخابی عمل شفاف نہیں جب کہ سول سوسائٹی اور قانون کی عمل داری بھی کافی کمزور ہے۔ ان ممالک کو ’نیم جمہوریت‘ والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔دنیا کی ایک تہائی آبادی کو مطلق العنان حکومتوں کا سامنا ہے، ایسے ممالک کی تعداد52بنتی ہے، جہاں جمہوریت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ایسے ممالک کی فہرست میں چین بھی شامل ہے۔اس انڈکس میں ناروے سر فہرست ہے جب کہ امریکا کو اس برس بھی مکمل جمہوریت والے ممالک کی فہرست کے بجائے تقریبا جمہوری ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی درجہ بندی میں امریکا 21 ویں جب کہ برطانیہ 14 ویں نمبر پر ہے۔ جرمنی اس فہرست میں تیرہویں نمبر پر ہے۔ جمہوریت کی صورت حال میں سب سے زیادہ بہتری کوسٹا ریکا میں دیکھی گئی، جسے تقریباجمہوری ممالک کی لسٹ سے نکال کر مکمل جمہوریت والی ریاستوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔اس برس کے عالمی انڈکس میں پاکستان 4.17 کے مجموعی اسکور کے ساتھ 112ویں نمبر پر رہا۔ گزشتہ انڈکس میں 4.26 کے مجموعی اسکور کے ساتھ پاکستان 110 ویں نمبر پر تھا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت 41 ویں نمبر پر ہے۔ لیکن بھارت میں بھی 2016ء کے مقابلے میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے کیوں کہ تب بھارت 32 ویں نمبر پر تھا۔ گزشتہ برس کے عام انتخابات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں میں سن 2013 کے انتخابات کی نسبت واضح اضافہ دیکھا گیا۔پاکستان کے انتخابی عمل اور تکثیریت کو دس میں سے چھ پوائنٹس دیے گئے لیکن سیاسی نظام میں عوامی شرکت کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی عام انتخابات کے برس میں بھی مایوس کن حد تک کم رہی ہے۔

Leave a Reply