داعش گروپ ہمارا دشمن، ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ، افغان طالبان

پاکستان کی تشویش بجا، اسے حل کرینگے، افغان طالبان

Spread the love

پاکستان کی تشویش بجا

کابل،برلن (جے ٹی این آن لائن نیوز) ترجمان افغان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا ہے ہمسایہ ملک

پاکستان کو جن معاملات پر تشویش ہے،وہ بجا ہیں اور انہیں حل کیا جائیگا، افغا ن سر زمین پاکستان

سمیت کسی ملک کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مختلف مسائل کے حل کیلئے پاکستانی وفد

افغانستان آیا تھا، افغانستان عالمی برادری کیساتھ مل کر اقتصادی سر گرمیو ں میں حصہ لینا چاہتا ہے،

افغانستان سی پیک منصوبے میں شمولیت کا خواہاں ہے، کاسا گیس پائپ لائن منصوبہ بھی پایہ تکمیل

تک پہنچایا جائیگا ، افغان طالبان نے پنجشیر وادی کو فتح کر لیا ہے، افغانستان میں امن کیلئے ہم نے

کوششیں کیں، جرگوں اور مذاکرات سے کامیابی نہ ہوئی تو پنجشیر میں طاقت کا استعمال کیا، علاقے

پر قبضے کے بعد جنگ اب ختم ہوگئی ہے ، پنجشیرکے عوام ہمارے بھائی ہیں، انتقامی کارروائی

نہیں ہوگی، ہم سب ملکر ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کریں گے۔ پیر کو کابل میں پریس

کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا پنجشیر میں جرگے اور بات چیت کے

ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی،دشمن کا آخری گڑھ پنجشیر فتح اوراس پرمکمل

کنٹرول حاصل کرلیا ہے،امارات اسلا میہ افغانستان میں جنگ کا دور ختم ہو گیا، افغان عوام مزید

جنگ نہیں چاہتے۔ طالبان کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا گیا،

پنجشیرمیں جنگ کی وجہ سے جزوی غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑالیکن کوشش کی گئی عام شہریوں

کو نقصان نہ ہو،، پنج شیرمیں بجلی، ٹیلی فون اورانٹرنیٹ بحال کر دیاہے ۔ ملک میں عام شہریوں کے

اسلحہ رکھنے پر پا بندی لگا دی ہے، کابل میں امن ہے تشویش کی کوئی با ت نہیں، قطر اور ترکی کی

مدد سے کابل ایئرپورٹ بحال کر دیا گیا ہے،اندرون ملک پروازوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، بیرون ملک

پروازوں کا سلسلہ بھی جلد شروع کر دیا جائیگا۔امر یکہ نے انخلاء سے پہلے کابل ایئرپورٹ کو شدید

نقصان پہنچایا، بیرونی طاقتیں افغانستان کو آباد نہیں کر سکتیں، افغانستان کے اصل مالک افغان عوام

ہیں، متحدہ عرب امارات سے امداد ی سامان اور ادویات کا بل پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے، عالمی

برادری افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لے،افغانستان میں تجا ر تی سر گرمیاں شروع ہو گئی ہیں،

حکومت سازی کیلئے مشاور ت کا عمل جاری ہے، جلد حکومت کا اعلان کریں گے، انتقامی امور کا

فیصلہ افغان حکومت کرے گی، قومی حکومت کی تشکیل میں تمام فریقین کو شامل کیا جائیگا، عام

معافی کے اعلان کے بعد کوئی انتقامی کارروائی میں گرفتاری نہیں کی گئی۔ امارات اسلامیہ افغانستان

میں خواتین کے حقوق پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، حکومت کے قیام تک تمام شہریوں سے

اپیل ہے وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اﷲ مجاہد نے کہا آئندہ کچھ دنوں

میں نئی افغان حکومت کا اعلان کر دیا جائیگا ۔ افغانستان میں ایک نگران حکومت تشکیل دی جا سکتی

ہے کیونکہ نئی انتظا میہ کا اعلان کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، یہ ایک تجویز ہے ایسا ممکن ہے

کہ اگر ہمارے پاس نگران حکومت ہو تو حکومتی ڈھانچے میں تبدیلیاں اور اصلاحات لانے کی

گنجائش ہو گی ۔ نئی حکومت کے قیام کی تفصیلات اور تاریخ سے جلد آگاہ کر دیا جائیگا کیونکہ اس

میں کچھ تکنیکی مسائل باقی ہیں۔ حکومت میں تمام طبقوں کو نمائندگی دی جائیگی اور انہوں نے افغان

عوام کی جانب سے ملک میں اقتدار کی منتقلی میں مدد کرنے کی امید بھی ظاہر کی،۔ طالبان کی

سکیورٹی فورسز کا یونیفارم متعارف کرایا ہے۔دریں اثنااافغانستان میں تعلیمی اداروں میں تدر یس کا

عمل ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے، تاہم طالبان نے ملک کی جامعات میں مردوں اور خواتین کو

الگ الگ تعلیم دینے کے حوالے سے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک

دستا ویز میں کہا گیا ہے جامعات میں مرد اور خواتین طالبعلموں کو ایک ساتھ نہ بیٹھنے دیا جائے،

انھیں الگ الگ بٹھایا جائے اور ضروری ہو تو اس تقسیم کیلئے پردہ استعمال کیا جائے۔یہ بھی کہا گیا

بہترین صورتحال تو یہ ہونی چاہیے کہ خوا تین کیلئے خاتون اساتذہ ہوں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو

اچھے کردار کے حامل بزرگ مردوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ طا لبا ت کو اس بات کا

بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ عبایہ، چادر اور حجاب یا پھر نقاب کا لازمی استعمال کریں۔دریں اثناء

طالبان کے سیاسی امور کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کی اقوام متحدہ وفد سے ملاقات ہوئی جس

کے دوران باہمی تعا و ن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے اقوام متحدہ کے

وفد نے افغانستان میں درپیش مسائل پر مدد کا وعدہ کیا ہے، انڈر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے دنیا

سے افغانستان کی مزید مدد کی اپیل کی۔ نائب امیر نے اقوام متحدہ مشن کو ہرقسم کی معاونت کی یقین

دہانی کرائی ہے۔ادھر جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے طالبان سے مذاکرات کو ضروری قرار دیتے ہو

ئے کہا ہے کہ طالبان ایک حقیقت ہیں اور اب اقتدار میں ہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے طالبان

رہنماؤں سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا طالبان نے پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے

لہٰذا اب طالبان قیادت سے مذاکرات کرنے چاہئیں، یہ ایک حقیقت ہے کہ اب طالبان اقتدار میں ہیں اور

یہ بات چیت اس وجہ سے ضروری ہے کہ ہمیں نہ صرف افغانستان میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر

نکالنا ہے بلکہ وہاں امدادی کاموں کو بھی جاری رکھنا ہے۔ ہم ان تمام لوگوں کو افغانستان سے نکالنا

چاہتے ہیں جنہوں نے جرمن کمپنیوں اور تنظیموں کیساتھ کام کیا اور اب طالبان کے اقتدار میں آنے

کے بعد وہ ڈرے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی تشویش بجا

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply