پاکستان کی امن کوششیں کامیاب ،طالبان امریکہ کے درمیان قطر میں تاریخی معاہدے پر دستخط

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوحہ ، اسلام آباد ، کابل (مانیٹرنگ ڈیسک ) 2001ء میں نیو یارک میں ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر

حملے کے بعد شروع ہونے والی افغان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتی

کوششوں کے بعد امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔ قطر کے دارالحکومت

دوحہ میں ہونے والے اس امن معاہدے میں طالبان کی جانب سے ملا عبد الغنی برادر جبکہ امریکی

نمائندہ خصوصی برائے امن زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے۔دوحہ میں ہونے والی اس تقریب میں

پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی۔ 50 ممالک کے نمائندوں کی شرکت کی،

معاہدے پر دستخط کے پیِشِ نظر طالبان کا 31 رکنی وفد بھی قطر کے دارالحکومت میں موجود تھا۔

حیران کن طور پر طالبان کی قید میں 3 سال رہنے والے آسٹریلین یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی

ویکس بھی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے دوحہ میں موجود تھے۔معاہدے تقریب سے خطاب

کرتے ہوئے افغان طالبان کے نمائندہ ملا عبد الغنی برادر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کیلئے

پاکستان کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں۔ کامیاب معاہدے پرتمام فریقوں کومبارکباد دیتا ہوں۔ان

کا کہنا تھا کہ چین ،روس اور انڈو نیشیا سمیت تمام ان ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے امن عمل

کو سپورٹ کیا۔ ہم اس معاہدے کو نبھانے کے پابند ہیں ،سیاسی طاقت کی حیثیت سے ہم تمام ہمسایہ

ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا

کہ قطر حکومت نے معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے کردارادا کیا، امن معاہدہ مرحلہ وارمذاکرات

کے نیتجے میں ممکن ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ قطر سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار

ماحول فراہم کرنا فریقین سمیت عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ہماری حکومت نے معاہدے

کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کیا جس سے افغانستان میں 19 سالہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن

کی راہ ہموار ہوگی۔قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ مرحلہ وار مذاکرات کے نتیجے میں

ممکن ہوا جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر تمام فریقین کا کردار قابل تعریف ہے۔امریکی وزیر

خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ افغان عوام معاہدے پرخوشیاں منارہے ہیں، طالبان کے معاہدے پر

عمل درآمد کو مانیٹر کرتے رہیں گے۔ طالبان تب مذاکرات کے لئے تیار ہوئے جب انہیں یقین ہوا لگا

کہ لڑائی کے ذریعہ برتری ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ افغان اورامریکی فورسز نے امن کے لیے

ملکرکام کیا۔ تاریخی مذاکرات کی میزبانی پرامیرقطرکے شکرگزارہیں۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا

کہ امن کے لیے زلمے خلیل زاد کا کردارقابل تعریف ہے۔ طالبان کے ساتھ دہائیوں کے بعد اپنے

اختلافات ختم کررہے ہیں۔دوسری طرف افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی سفارتکاروں کے

ساتھ امن معاہدے سے قبل طالبان نے اپنے حامیوں کو ہر قسم کے حملے کرنے سے روک دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم حکم دیتے ہیں کہ قوم

کی خوشیوں کے لیے ہر قسم کے حملوں سے باز رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ

ہمیں امید ہے کہ امریکا مذاکرات اور امن معاہدے کے دوران اپنے وعدے پر قائم رہے گا لیکن

غیرملکی افواج کے طیارے طالبان کے علاقوں پر پرواز کرع رہے ہیں جو اشتعال انگیزی پر مبنی

اقدام ہے۔معاہدے سے قبل امریکا اور افغان حکومت کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ

طالبان نے معاہدے پر عمل کیا تو امریکا اور اتحادی 14 ماہ تک افغانستان سے تمام افواج نکال لیں

گے۔مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا معاہدہ کے 135 دنوں کے اندر فوجیوں کی تعداد 8600

تک کم کرے گا، فوجیوں کا انخلا طالبان کے معاہدے پر عمل در آمد سے مشروط ہوگا، افغان حکومت

سلامتی کونسل کے ساتھ مل 29 مئی تک طالبان کے نمائندوں کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے

گی۔دریں اثنا پاکستان کا کہنا ہے کہ پر امن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری

رکھیں گے۔ امن معاہدے نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی کہ افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے لیے

پاکستان نے سہولت کاری کیلیے اپنی ذمہ داریاں ادا کی۔عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن،

مستحکم، متحد، جمہوری و خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان افغانستان میں دیرپا

امن، استحکام اور ترقی کے لیے افغان عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔، وزیراعظم نے تسلسل کے

ساتھ افغانستان کے لیے سیاسی حل کو ہی واحد راستہ قرار دیا۔دوسری طرف امریکا کا کہنا ہے کہ

افغان طالبان نے وعدوں پر عمل نہیں کیا تو معاہدے کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں

کرینگے۔امریکا طالبان امن معاہدے کے بعد امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ اگر افغان

طالبان امن و امان کی ضمانتوں اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے وعدے پر عمل درآمد نہیں

کرتے تو ہم اس تاریخی معاہدے کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔خبر رساں

ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں موجود مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ اگر طالبان اپنے وعدوں پر

پورا نہیں اترتے تو وہ اپنے ہم وطن افغانوں کے ساتھ بیٹھنے اور اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ

کرنے کا موقع کھو دیں گے۔ کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فغانستان کے صدر

اشرف غنی نے امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے کے حوالے سے کہا

ہے کہ تمام فریقین اس معاہدے کی پاسداری کریں گے۔کابل میں چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ اور دیگر

حکام کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ نائن الیون کے سانحے

نے ہمیں یکجا کیااور مشترکہ قربانیوں سے باہمی طور پر منسلک ہوئے۔اشرف غنی نے کہا کہ ہم

افغان حکومت اور عالمی برادری طالبان کے ساتھ تنازع کا حل چاہتے ہیں، ہم امن قائم کرنے کے لیے

سیاسی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ہم نے مقابلہ کیا ہے اور ہماری معیشت میں صلاحیت ہے، اسی

طرح ہماری ریاست کے پاس بھی صلاحیت ہے۔انہوںنے کہاکہ اتفاق رائے کے لیے جرگہ اور دیگر

راستے اپنائے گئے اور ہم ایک اسٹیک ہولڈر سوسائٹی بن گئے، ہمارے نتیجہ خیز گفتگو باہمی

رابطوں اور آئین اور آزادی اور قومی شناخت میں بدل گئے۔افغان صدر نے کہا کہ 2018 کی تاریخی

جنگ بندی کے دوران ہمارے معاشرے نے شان دار مستقبل کے جانب عملی مظاہرہ کیا اور ہزاروں

طالبان جنگجووں کے ساتھ بغیر کسی ناخوش گوار واقعے کے مذاکرات ہوئے۔افغانستان میں امن کے

قیام کے لیے گزشتہ برسوں میں ہونے والی کوششوں کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے علما

امن کے چمپئن ہیں، ہمارے علما نے 2018 کی جنگ بندی کے لیے راستہ بنایا، امن اور جنگ بندی

پر زور دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا اور طالبان نے اس کو تسلیم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مستحکم ملک اور

ہمارے مستقبل کے لیے امن ضروری ہے اور 40 سال کی کشیدگی کا خاتمہ ہمارے معاشرے کا بنیادی

مقصد ہے اور امن عمل ہے اس مقصد کے لیے ضروری ہے۔اشرف غنی نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ

امن پر قومی اتفاق رائے ہوگی، یہ عزم پانچ سال کی مشاورت، علما، خواتین اور نوجوان کی جانب

سے دی گئی امید سے پیدا ہوا ہے، 2019 کا لویہ جرگہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو قومی سطح پر یکجا کیا

اور امن کی امید دلائی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply