jtn jaiza2

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) کا مسقتبل کیسا—–؟

Spread the love

اسلام آباد (جتن تجزیاتی رپورٹ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ

مسلم لیگ ن نے حکومت مخالف تحریک میں مزید سخت موقف اپنانے کے فیصلے

اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے مصالحتی فارمولا کی

مزید حمایت نہ کرنے کے عندیہ سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں اختلافات

کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ن لیگ نے یہ فیصلہ چیئرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ

انتخاب میں شکست کے بعد کیا۔ آج پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ن لیگ

لچک نہیں سخت موقف اپنانے سمیت لانگ مارچ کیلئے اسمبلیوں سے استعفوں کا

آپشن استعمال کرنے اور حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کیلئے فوری انتخابات کی

تجاویز دے گی۔ اس ضمن میں جمعیت علماء اسلام، اے این پی اور دیگر چھوٹی

جماعتوں نے بھی ن لیگ کو حمایت کا عندیہ دیا ہے،

=–= مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا موقف

ذرائع کے مطابق ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے پی ڈی ایم کی قیادت سے

چیئرمین سینیٹ کیخلاف فوری تحریک عدم اعتماد لانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے،

مریم نواز کہہ چکی ہیں سینیٹ الیکشن میں ن لیگ کا ٹکٹ چلا، جبکہ پی ڈی ایم

سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس کی حمایت کی ہے، دوسری طرف پیپلزپارٹی

نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف فوری تحریک عدم اعتماد لانے کی مخالفت کرتے

ہوئے موقف اختیار کیا ہے عدم اعتماد کی تحریک لانے سے پہلے چیئرمین سینیٹ

کیخلاف ہر قسم کے آئینی و قانونی آپشنز کو استعمال کیا جائے۔ سینیٹ الیکشن میں

پیپلز پارٹی ابھی پٹیشن میں نہیں گئی، اگر سپریم کورٹ نے حکومت کیخلاف

فیصلہ دیا تو بہت ہنگامہ ہو گا۔ تبدیلی آ سکتی ہے۔

=–= نواز شریف پہلے ہی پی ڈی ایم میں طے شدہ معاہدہ سے بھاگ چکے
————————————————————————————-

ویسے بھی پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن میں پہلے بھی ایک اختلاف سامنے آ چکا ہے

جب پی ڈی ایم میں طے پا گیا تھا کہ پنجاب میں عمران نیازی حکومت کو ٹف ٹائم

دینے کیلئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پرویز الہیٰ کو پیشکشن کی جائے گی، اس

ضمن میں آصف علی زرداری نے بات بھی کی، مولانا فضل الرحمن آمادہ ہو گئے

مگر نواز شریف معاہدے سے بھاگ گئے کیونکہ وہ جاتنے تھے پرویز الہٰی اچھے

کھلاڑی اور کام کرنا جانتے ہیں- آج کا پاکستان ڈیموکرٹیک مومنٹ کا سربراہی

اجلاس حکومت یا خود اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کیلئے دھماکہ خیز ہو سکتا

ہے- اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے موقف پر ڈٹی رہیں تو اپوزیشن

اتحاد کا خاتمہ، لچک کا مظاہرہ کیا گیا تو حکومت کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں-

=–= ملک کی موجودہ مجموعی مشکلات کی ذمہ دار مسلم لیگ ن، ماضی گواہ

ماضی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ موجودہ ملکی سیاسی، معاشی

اور جمہوری مشکلات سے لبریز حالات کی زیادہ تر ذمہ دار مسلم لیگ ن ہی ہے

ورنہ میثاق جمہوریت کے تحت پیپلز پارٹی خود اور مسلم لیگ ن سمیت ملک کی

دیگر تمام سیاسی جماعتوں اور جمہوریت کو طاقتور، پارلیمنٹ کی بالادستی کو

یقینی بنانے کیلئے 2008ء میں ہی نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کو کنٹرول کرنے فارمولا

پیش کر چکی بلکہ اس پر عملی اقدامات بھی اٹھا چکی ہے لیکن مسلم لیگ ن کی

قیادت پیچھے ہٹ گئی، اقتدار کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار بن گئی، مگر ایک

زرداری سب پر بھاری نے دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنا اتحادی بنائے رکھا اور

پیپلز پارٹی کی پانچ سال حکومت قائم رکھ کر ملکی تاریخ میں اپنی سیاست کا لوہا

منوایا-

=–= پی ڈی ایم کا مستقبل کا انحصار فضل الرحمن کی بصیرت پر منحصر

ملک کی موجودہ مجموعی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو پیپلز پارٹی سے

زیادہ ذمہ داری مسلم لیگ ن کی بنتی ہے کہ وہ اپنی نہیں حریف ہی سہی پیپلز

پارٹی کی حکمت عملی کو مقدم رکھے، ایسے میں سربراہ جے یو آئی فضل

الرحمن بھی عمران خان نیازی کی مخالفت اور انہیں چلتا کرنے کیلئے جلد بازی کا

مظاہرہ کرکے مسلم لیگ ن کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں اور تجاویز کی حمایت

سے نہ صرف گریز کریں بلکہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے 2008ء تا 2018ء

تک کے عشرے کے حالات کو مد نظر رکھ کر پی ڈی ایم کی حقیقی کامیابی کی

بنیاد رکھیں-

=-= یہ بھی ضرور پڑھیں: ایک دوسرے کے دست و گریباں سیاسی جماعتوں کا دوہرا معیار
=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ

Leave a Reply