corona virus 117

پاکستان میں کرونا کے مزید9مریض

پشاور ، اسلام آباد ، کراچی ،کوئٹہ ، (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک )گلگت بلتستان میں کورونا

وائرس کا نیا کیس سامنے آگیا جبکہ ایران سے آنے 8افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے جن میں

کرونا کی علامات پائی گئی تھیںجس کے بعد پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 28 ہوگئی۔اس

حوالے سے گلگت بلتستان کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر شاہ زمان نے اسکردو کے 14

سالہ لڑکے میں کورونا وائرس کی تصدیق کی اور بتایا کہ متاثر لڑکا اپنی والدہ کے ساتھ 25 فروری

کو ایران سے پاکستان پہنچا تھا۔ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکا 4 اور 5 مارچ کی شب اہل

خانہ کے ہمراہ اسکردو پہنچا تھا، جہاں 6 مارچ کو اس میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں اور

انہیں آئسولیش وارڈ منتقل کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ 6 مارچ کو بھیجی گئی رپورٹ پر اسلام آباد کی

لیبارٹری نے 7 مارچ کو تصدیق کی کہ متاثرہ فرد کا ٹیسٹ مثبت آیا۔کرانا وائرس سے بچاؤ کیلئے

قومی ادارہ صحت کی 3رکنی ٹیم اسکردو پہنچ گئی،قومی ادارہ صحت کی ٹیم نے سیکریٹری صحت

گلگت بلتستان سے ملاقات کی جس میں کرونا وائرس سے متعلق موجودگی صورتحال پر بریفنگ دی

گئی افغان دارالحکومت کابل میں قائم پاکستانی سفارتخانے میں تعینات کلرک میں کرونا وائرس کے

شبے کے باعث ویزا سیکشن بند کر دیا گیا ہے۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ویزا سیکشن کو پہلے کلیئر قرار

دے کر کھولا دیا جائے گا۔سندھ حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھنے کا ذمہ دار

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو ٹھہرادیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت

کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی میں ائیرپورٹس پر اسکریننگ سسٹم درست کام نہیں

کررہا اور ائیرپورٹ حکام بھی اپنا کام درست طریقے سے انجام نہیں دے رہے، سعودی عرب سے

ایک شخصیت آئی ہے جس نے بتایا کہ ائیرپورٹ پر ان کی کوئی اسکریننگ نہیں ہوئی۔انہوں نے الزام

لگایا کہ بد قسمتی سے وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی، اس میں

بہتری کی گنجائش ہے، وفاقی حکومت سسٹم بہتر بنائے، اگر انہیں ہماری ضرورت ہے تو ہم مدد

کرنے کو تیار ہیں۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کورونا کے تمام مریض کراچی ائیرپورٹ سے داخل

ہوئے، ہمیں وہاں نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جب سے سندھ میں کیس رپورٹ

ہوا تب سے وزیراعلیٰ متحرک ہیں لیکن وفاق کی طرف سے ایسا کچھ نظر نہیں آیا، جس طرح سے

وفاق اور صوبے میں رابطے ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہیں۔ترجمان سندھ حکومت نے مزید کہا کہ

ائیرپورٹس ہماری ذمہ داری نہیں لیکن سمجھتے ہیں سب کو کردار ادا کرنے کی ضرروت ہے، سندھ

حکومت متحرک طریقے سے اس معاملے کو ڈیل کررہی ہے، تمام پورٹس کی مانیٹرنگ وفاق کی ذمہ

داری ہے لہٰذا اس میں انہیں پرفارمنس بہتر بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر بہتر طریقے سے

مانیٹرنگ ہوتی تو کیسز کی تعداد نہ بڑھتی۔ ایران سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ، تفتان بارڈر پر

قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ گئی ، ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ

پاکستان میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے کیسز دگنے ہوچکے ہیں 19 کیسز بیرون ملک

سے آئے ہیں،یران سے آنے والے مزید 8مشتبہ مریضوں کو شیخ زاہد ہسپتال میں داخل کر دیا جن میں

کورنا وائرس کی علامات پائی جاتی ہے ڈاکٹر احمد بلوچ نے بتایا کہ تفتان کے راستے ایران سے آنے

والے مزید آٹھ مشتبہ مریضوں کو کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا ہے

جن میں کورونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں۔ ان کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بجھوائے

گئے ہیں ۔ یہ حیرت کی بات نہیں 116 ممالک میں یہ بیماری پھیل چکی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق

وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ کے لئے موبائل لیب بھی تفتان پہنچ گئی جس کو ایک مخصوص جگہ پر
منتقل کیا گیا ہے۔دوسری جانب پاک افغان بارڈر دسویں روز بھی بند ہے، سیکورٹی حکام کا کہنا ہے

کہ باب دوستی سے ہر قسم کی دو طرفہ آمدورفت معطل ہے اور سرحد کے دونوں جانب سیکورٹی

کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ پاک افغان دوطرفہ تجارت، نیٹو سپلائی افغان ٹرانزٹ

ٹریڈ اور سینٹرل ایشیا کے ساتھ بھی تجارت معطل ہے وفاقی حکومت نے بیرون ممالک سے وطن

پہنچنے والے مسافروں کے طبی معائنے کیلیے نئی حکمت عملی اپنالی ہے جسے پیسنجر ٹریسنگ

کانام دیا گیا۔وفاقی حکومت نے وطن پہنچنے والے مسافروں کے طبی معائنے کیلیے نئی حکمت عملی

اپنالی ہے، اس منصوبے کے تحت ایئرپورٹ پر مسافروں سے وصول کی گئی سفری دستاویزات کو

صحت اور سرویلینس کے متعلقہ محکموں کے حوالے کر دیا جائے گا اور یہ متعلقہ محکمے کے

اہلکار واپس آنے والے مسافروں کے شہروں میں ان سے رابطہ کرکے ان کا ’’فالواپ طبی معائنہ‘‘

کر سکیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں