پاکستان میں مزید مہنگائی بڑھنے،شرح ترقی کم،بڑھتے قرضوں سے معیشت غیر محفوظ رہنے کا خدشہ،عالمی بینک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی بینک نے پاکستان میں مزید مہنگائی کا خدشہ

ظاہر کردیا۔عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں سال پاکستان کی ترقی کی

شرح 3.3 اور 2020ء 2.4جبکہ 2021ء میں 3 فیصد رہنے کی توقع ہے اور ترقی

کی شرح میں کمی کی وجہ سخت مانیٹری پالیسی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیاہے

کہ پاکستان میں ترقی کی شرح میں بہتری پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی

اور عالمی مارکیٹوں میں استحکام کے علاوہ سیاسی اور سکیورٹی خطرات میں

کمی سے مشروط ہے تاہم ادارہ جاتی اصلاحات سے معیشت کی صورتحال میں

بہتری کی امید ہے۔رپورٹ کے مطابق 2020ء میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک

بڑھنے کا خدشہ اور 2021ء میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی توقع ہے،

پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے پاکستان میں کرنسی کی شرح تبادلہ بھی بدلنے

کاامکان ہے۔عالمی بینک کااپنی رپورٹ میں مزید کہنا ہے 2020ء میں کرنٹ

اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ 2021ء میں

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.2 فیصد تک رہے گا،کرنسی کی شرح تبادلہ

میں اضافے سے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات معقول ہونے کی توقع ہے،

2021ء میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ

کے مطابق 2021 ء میں پاکستان کے قرضوں کی شر ح جی ڈی پی کے 80.8

فیصد رہنے کی توقع اور بڑھتے قرضوں کی وجہ سے معیشت غیر محفوظ رہنے

کا خدشہ ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میکرو اکنامک اصلاحات کی وجہ سے

غربت میں کمی رکی رہے گی ، غربت میں کمی رکنے کی دوسری وجہ شرح نمو

میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply