پاکستان محسن اعظم سے بھی محروم، ڈاکٹر قدیر خالق حقیقی سے جا ملے

پاکستان محسن اعظم سے بھی محروم، ڈاکٹر قدیر خالق حقیقی سے جا ملے

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) پاکستان محسن اعظم

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحٌ کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے محسن

اعظم اور وطن عزیز کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے والے اپٹمی پروگرام کے خالق

ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی پاکستانی قوم کو داغ مفارقت دے کر خالق حقیقی سے جا

ملے، وہ پاکستان کی واحد شخصیت ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈ ملے، انہیں 2 بار

نشانِ امتیاز سے نوازا گیا، جبکہ ہلالِ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔ انتقال کے وقت ڈاکٹر

عبدالقدیر خان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔

=-= پاکستان بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ہفتہ و اتوار کی درمیانی شب پھیپھڑوں کے عارضہ کے سبب اچانک انکی طبعیت

خراب ہوئی جس پر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، آئی سی یو میں

ڈاکٹروں کی جان توڑ کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اتوار کے روز

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ فیصل مسجد کے احاطے میں ادا کی گئی اور

انہیں پورے سرکاری اعزاز کیساتھ اسلام آ باد کے ایچ ایٹ قبرستان میں سپرد خاک

کر دیا گیا، سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات میں نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر

محمد الغزالی نے پڑھائی، جنازے کے وقت اسلام آباد میں تیز بارش کے باعث

عوام کو جنازہ گاہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم عوام کی بڑی تعداد

اپنے قومی ہیرو کو الوداع کہنے کیلئے فیصل مسجد پہنچی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا، نماز جنازہ سے قبل انہیں پاک فوج کے

دستے کی جانب سے سلامی بھی دی گئی۔ جبکہ کچھ شہروں میں غائبانہ نماز

جنازہ بھی ادا کی گئی-

=-،-= بھوپال میں پیدائش سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق بننے تک

ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936ء میں بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور تقسیم

ہند کے بعد 1947ء میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ ڈاکٹر

خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ

کی اسناد حاصل کیں، بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکے کرنے اور جوہری

طاقت بننے کے بعد 31 مئی 1976ء کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو

کی درخواست پر ڈاکٹر قدیر پاکستان آ گئے اور انجینیرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں

شمولیت اختیار کی، اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاء الحق نے

تبدیل کر کے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں

یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

=-،-= بیک وقت 13 گولڈ میڈلز کے حامل ، 150 سے زائد مضامین کے مصنف

مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا،

بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونیوالے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر

قدیر خان نے ہی کی تھی۔ ڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا کہ پاکستان

کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنیوالے

حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم

بنایا، بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنیوالے غوری میزائل

سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنیوالے متعدد میزائل تیار کرنے میں

بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی ادارے نے 25 کلو میٹر تک مار کرنیوالے ملٹی بیرل

راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ

کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کیلئے جدید دفاعی آلات

کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کیلئے متعدد آلات بھی بنائے۔ ڈاکٹر قدیر

خان کو بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی

تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں، انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے

ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی۔ چودہ اگست 1996ء میں صدر

فاروق لغاری نے انکو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا، جبکہ

1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا۔

=-،-= ہالینڈ سے ایٹمی معلومات کی چوری کے الزام میں باعزت بری ہوئے

ڈاکٹر قدیر خان نے سیچٹ کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی و

دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کئی تنازعات کا شکار

ہوئے، پہلے ان پر ہالینڈ سے ایٹمی معلومات چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا، تاہم

وہ باعزت بری ہوئے،

=-،-= صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، عسکری قیادت کا خراج عقیدت

صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزراء، آرمی چیف،

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس نے ڈاکٹر عبدالقدیر

خان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، اپنے الگ الگ تعزیتی

پیغامات میں انہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر شدید

افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ملک کیلئے انکی خدمات کبھی

نہیں بھولے گی۔ ملک کو جوہری طاقت بنانے پر پوری قوم ان سے محبت کرتی

ہے، ان کی خدمات نے بڑے جوہری پڑوسی ملک کی جارحیت سے ملک کو

محفوظ بنایا، پاکستانی قوم کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حیثیت قومی ہیرو کی ہے،

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رحلت پر پوری قوم افسردہ ہے۔ ان کی خدمات ان گنت ہیں،

خدا انہیں غریق رحمت کرے اور اہلحانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ الہٰی آمین

=-،-= ڈاکٹر قدیر کا انتقال قومی نقصان، حکومت سوگ کا اعلان کرے، شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے محسن

پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے انتقال پر رنج و غم اور افسوس کا

اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان کے جوہری پروگرام کے معمار کی وفات ایک

قومی صدمہ ہے، حکومت قومی سوگ کا اعلان کرے، ڈاکٹر عبد القدیر خان

پاکستان کے دفاع و سلامتی کی ایک قابلِ فخر تاریخ اور جدوجہد کا نام تھا، انکی

تمام زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں صرف ہوئی، پاکستان اور

قوم ہمیشہ انکی احسان مند رہیں گے۔ انکی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی

ہے، اسلام اور پاکستان ہی انکا مطمع نظر رہے، انہوں نے پاکستان اور اس کے

مفادات کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں، انہوں نے مادی مفادات کے بجائے پاکستان کے

لئے کام کرنا پسند کیا۔ اللہ تعالی پاکستان کیلئے ان کی خدمات کو توشہ آخرت بنا

دے۔ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے۔

=-،-= پاکستانی قوم ہمیشہ ڈاکٹر قدیر کی مقروض رہے گی، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا پاکستانی قوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان

خان کی ہمیشہ مقروض رہے گی، جبکہ انکی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ چیئرمین

پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر گہرے دکھ و

افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان کا ایک عظیم محب وطن فرزند ہم سے

بچھڑ گیا، جس ہر پاکستانی سوگوار ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کے اس

جوہری پروگرام کو پایہ تکمیل پر پہنچایا، جس کی بنیاد قائدِ عوام نے رکھی تھی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے، جن کے کہنے پر

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو گئے-

=-،-= ڈاکٹر قدیر قوم کے حقیقی ہیرو تھے، سراج الحق، فضل الرحمن

امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن

نے کہا ملک و قوم محسن پاکستان سے محروم ہو گئے ہیں، قوم کے حقیقی ہیرو

تھے، وہ اپنے کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکا کہنا تھا اللہ تعالی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

پاکستان محسن اعظم ، پاکستان محسن اعظم ، پاکستان محسن اعظم

پاکستان محسن اعظم ، پاکستان محسن اعظم ، پاکستان محسن اعظم

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply