Pakistan film industry

پاکستان فلم انڈسٹری کا مستقبل تاریک، سنیما گھر بنے قصہ دلنشیں، شاپنگ سنٹرز اور شادی ہالز

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) پاکستان فلم انڈسٹری

پاکستان میں روایتی سنیماء گھر ماضی کا قصہ بننے لگے، جبکہ ماضی کی فلم

نگری لاہور میں چند روایتی سنیما ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اسوقت صوبہ پنجاب کے

دارالحکومت لاہور میں جو روایتی سنیماء گھر فعال ہیں ان میں میٹروپول، اوڈین،

ملک تھیٹر، پاکستان ٹاکیز اورکیپیٹل نمایاں ہیں، جبکہ باقی سنیما گھر تھیٹرز،شاپنگ

سنٹرز اور شادی ہالز میں تبدیل ہوچکے ہیں جن میں رتن، امپیریل، ایمپائر، انگولا،

صنم، نغمہ، مبارک، محفل، کراﺅن، تاج، شمع، ریکس، روالی، فردوس، الممتاز،

گیلیکسی، لیرک، وینس، شیش محل، ناز، نگینہ، شالیمار، ترنم، سٹی، نگار، رٹز،

سنگیت، تاج, پلازہ اور انگوری شامل ہیں۔ ان سنیماﺅں میں غریب اور مڈل کلاس

شہری فلمیں دیکھنے آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : لکھاری معاشرے کے سلگتے مسائل اجاگر کریں، قوی خان

پاکستان میں دوسری طرف گزشتہ چند سالوں کے دوران نئے اور جدید سینماء

گھروں کی تعمیرات میں اضافہ بھی ہوا ہے، فلم انڈسٹری کے ریوائیول کیساتھ

ہی نئے سنیماء گھروں کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے سرمایہ کاروں نے

سنیماء گھروں میں سرمایہ کاری شروع کی ہوئی تھی۔ ملک میں بالی ووڈ کی

فلموں کی بندش کے بعد رہی سہی کسر کرونا وائرس نے پوری کردی اور سنیما

انڈسٹری ایک بار پھر بدترین بحران کا شکار ہوگئی۔ جس کے باعث کئی ماہ سے

پاکستانی سنیماﺅں میں کسی بھی فلم کی نمائش نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں : عفت عمر نے شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری پر سوال اٹھادیا
————————————————————————————-

بالی ووڈ کی فلموں کی نمائش کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں میں جدید

طرز کے ملٹی پلکس سنیماء گھر تیار کئے گئے اور بعد میں چھوٹے شہروں میں

بھی سنیماء بنائے جا رہے تھے۔ پورے ملک میں سنیماء گھروں کی تعمیرات میں

زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا تھا جبکہ کچھ پرانے روایتی سینماء گھروں کو

بھی جدید طرز پر بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ اس سلسلے میں پرنس

اور شبستان سنیماءکو تزین و آرائش کے بعد جدید بنایا گیا تھا۔

رہی سہی کسرکورونا نے پوری کردی، سنیما انڈسٹری پھر بحران کا شکار

سیکڑوں کی تعداد میں قائم پاکستان میں سنیماء گھروں کی تعداد نا ہونے کے

برابر رہ گئی تھی جس کی وجہ لالی ووڈ کی فلموں کا نا بننا تھا جبکہ متعدد

سینماء مالکان نے سنیماء گھروں کو فروخت کرکے رہائشی عمارتیں یا شاپنگ

سنٹر بنا دیا تھا۔ اب جبکہ پاکستان میں نئے سرے سے لالی ووڈ انڈسٹری کا

دوبارہ جنم ہوا اور فلمیں باکس آفس پراچھا بزنس کرنا شروع ہوئیں تو سنیما

انڈسٹری میں سرمایہ کاری تیز ہونے لگی۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں بالی

ووڈ کی فلموں کی نمائش کو قرار دیا گیا جبکہ لالی ووڈ کی فلمیں پاکستان میں

اچھا بزنس کرتی دکھائی دے رہی تھیں تو

ایسے حالات میں سنیماء ایک منافع بخش کاروبار بنتا جارہا تھا

لیکن اچانک پاک بھارت تعلقات میں خرابی کے باعث پاکستان میں سنیما انڈسٹری زبردست دھچکا لگا۔ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد، مری، گوجرانوالہ، گجرات، حیدرآباد، لاڑکانہ، راولپنڈی میں جدید طرز کے سنیماء گھروں کی تعمیرات مکمل ہو کر فلموں کی نمائش جارہی تھی جبکہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں بھی نئے ملٹی پلکس سینماء گھر نمائش کے لئے کھولے گئے تھے۔عوامی حلقوں سمیت فلم انڈسٹری کی شخصیات نے نئے سنیماء گھروں کی تعمیر کو فلم انڈسٹری کے مستقبل کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جتنے زیادہ سنیماء گھر ہوں گے پاکستانی فلموں کو اتنا ہی زیادہ بزنس ملے گا۔

ہدایتکار، پروڈیوسر، اداکار اور اداکارائیں پریشان

ہدایتکار سید نور،احسن خان اور سٹار میکر جرار رضوی نے کہا تھا کہ نئے سنیماء گھروں کی تعمیر سے فلموں کے باکس آفس پر اچھا رسپانس مل رہا تھا۔ اداکارہ ،ماڈل اور پرفارمر میگھا نے کہا تھا نئے سینماء گھر پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے سود مند ثابت ہورہے تھے۔ سینئر اداکارہ عذرا آفتاب، ادکارہ و ماڈل مایا سونو خان، ثناء، نیلم منیرخان، مایا علی، فلک اور رزکمالی نے کہا تھا نئے سنیماء گھر پاکستان فلم انڈسٹری کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرہے تھے۔ سینئر اداکارہ وماڈل صائمہ نوراوراداکارہ ،ماڈل نے کہا تھا پاکستان میں معیاری فلم سازی ہورہی تھی ملک میں جتنے زیادہ سنیماء گھر ہوتے ہماری فلمیں اور فلم پر سرمایہ کاری کرنیوالے دونوں ترقی کرتے۔

فلم انڈسٹری کی ترقی نئے سینماء گھروں کی تعمیر سے فروغ پا سکتی تھی

معروف فلم پروڈیوسر چوہدری اعجاز کامران، میاں راشد فرزند، پرویز کلیم، سید فیصل بخاری، پروڈیوسر یار محمد شمسی صابری، سید جہانزیب علی اور یامین ملک نے کہا تھا کہ پاکستان فلم انڈسٹری کی ترقی پر نئے سینماء گھروں کی تعمیر براہ راست اثر کررہی تھی اور پاکستانی فلموں کے فروغ ملنے کیساتھ نئے نئے سرمایہ دار بھی فلموں پر سرمایہ کاری کررہے تھے،

بالی ووڈ فلموں کی بندش کے بعد رہی سہی کسر کرونا وائرس نے پوری کردی

اسوقت ہر شخص پریشان ہے۔ سینئر اداکارو ڈائریکٹر سہراب افگن، اشرف خان، راشد محمود، خالد بٹ، آغا عباس، آغا حیدر، عباس باجوہ اور ظفر عباس کھچی کا کہنا تھا نئے سنیماء وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں، سنیماﺅں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی فلمیں کم وقت میں اپنا بجٹ نکالنے کی پوزیشن میں آئیں گی۔ سنیماء گھروں پر سرمایہ کاری کرنیوالوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

پاکستان فلم انڈسٹری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply