پاکستان دوراہرئے پر، حکومت،اپوزیشن اوراسٹیبلشمنٹ کی اپروچ مختلف؟
Spread the love

پاکستان دوراہرئے پر،

پاکستان اسوقت بدترین بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف ملکی معیشت تباہی کے

دہانے پر، مہنگائی و بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف

روپے کی قدر مسلسل کم اور ڈالر کی بڑھتی جا رہی ہے جس کے باعث بغیر کوئی

قرضہ لئے قرضوں کا کوہِ ہمالیہ مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے، وہ وقت دُور نہیں جب

پاکستان کا جمع ہونیوالا سارا ریونیو قرضوں کی قسطوں اور سود کی مد میں جانا

شروع ہو جائیگا اور ہمیں دفاع، ترقیاتی کاموں اور حکومت چلانے کیلئے بھی

مزید قرضہ لینا پڑیگا۔ سفارتی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان جس قدر اب تنہا

ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔ امریکہ اور چین تو ایک طرف سعودی عرب اور

خلیجی ریاستوں جیسے دوست ملک بھی ہم پر اعتبار و بھروسہ کرنے کیلئے تیار

نہیں، سب سے اہم بات یہ ہے اسوقت ریاست کی ترجیحات وہ ہیں جو بحران کو حل

کرنے کیلئے ضروری ہیں اور نہ ہی حکومتی ترجیحات اس بحران پر قابو پانے

کی ہیں۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

پاکستان کے معاشی و خارجہ پالیسی کے مسائل جن بنیادی چیزوں کیساتھ جڑے

ہوئے ہیں ہم اس کیلئے کوئی طویل مدتی پالیسی بنانے میں مسلسل ناکام رہے ہیں۔

اسوقت خارجی محاذ پر پاکستان کیلئے جو سب سے بڑا امتحان ہے، وہ امریکہ اور

چین میں سے کسی ایک کا انتخاب ہے۔ اگرچہ چین پاکستان کا بہت قریبی اور خیر

خواہ ملک رہا ہے، جس نے نہ صرف ہر مشکل وقت میں مدد کی، بلکہ اپنے روڈ

اینڈ بیلٹ منصوبہ کے تحت پاکستانی علاقے میں، سی پیک شروع کر کے ہمارے

ہاں بھاری سرمایہ کاری کی، جس سے ہمارے توانائی و انفراسٹرکچر کے مسائل

حل ہوئے، مگر موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سی پیک منصوبوں کی وہ رفتار

نہیں رہی، جو اس سے پہلی حکومت میں تھی۔ سی پیک منصوبوں پر کام میں

تعطل آنے، اور پراجیکٹ بروقت مکمل نہ ہونے کے باعث چینی کمپنیوں کی

سرمایہ کاری بھی پاکستان میں پھنس گئی، جس کے باعث پاکستان اور چین کے

تعلقات میں ایک دراڑ آئی۔

=-،-= افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ ہم سے کیا چاہتا ہے

دوسری طرف امریکہ ہے جس کیساتھ آزادی کے فوراً بعد سے ہمارے اچھے

تعلقات رہے ہیں۔ پہلے سرد جنگ اور اس کے بعد افغان جنگ کے باعث امریکہ

کو پاکستان کی اشد ضرورت تھی اور اپنی اسی ضرورت کے باعث وہ پاکستان کی

کئی غلطیوں کو بھی نظر انداز کرتا رہا۔ سرد جنگ کے خاتمے اور افغانستان سے

امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اب امریکہ کو پاکستان کی اس طرح ضرورت

نہیں رہی جس طرح پہلے تھی۔ پہلے تو پاکستان امریکہ اور چین کو ساتھ ساتھ

چلاتا رہا۔ مگر اب یہ ممکن نہیں رہا، کیونکہ سرد جنگ کے خاتمے اور افغانستان

سے انخلاء کے بعد اب امریکہ چین کیساتھ سرد جنگ کو نہ صرف کھلی جنگ

میں تبدیل کرنے جا رہا ہے، بلکہ وہ ساﺅتھ چائنہ کے سمندر میں موجود کشیدگی

کو اب جنوبی ایشیا اور یورپ تک پھیلانا چاہتا ہے جس کیلئے اس نے چین کے

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے یورپی یونین کیساتھ مل کر اپنے

منصوبے کا اعلان کیا ہے، اور اس مقصد کیلئے وہ پاکستان سے بھی چاہے گا کہ

وہ چینی منصوبے سی پیک کو وہ اہمیت نہ دے جو اس سے پہلے دی جا رہی ہے۔

=-،-= عالمی سفارتکاری کا اصول اپنے مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرنا

دنیا بھر میں سفارتکاری کا جو اصول کارفرما ہے اس کے تحت ہر ملک اپنے مفاد

کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے امریکہ نے پاکستان کیساتھ سٹرٹیجک

شراکت داری کے بجائے بھارت کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر بنا لیا ہے، اور بھارت کو

چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کیلئے اس کی ہرممکن مدد کر رہا ہے۔ امریکہ

پہلے چین کیساتھ گڑ بڑ صرف ساﺅتھ چائنہ سی میں کر رہا تھا، مگر اب گوادر کی

وجہ سے امریکہ اور چین کی جنگ کا میدان پاکستان بنے گا۔ چین نے کبھی ہمارے

سامنے لکیر نہیں کھینچی، مگر امریکہ کے ارادے بتا رہے ہیں، کہ وہ بہت جلد

پاکستان کے سامنے سی پیک اور چین کے حوالے سے لکیر کھینچ دیگا۔ یوں چین

کیساتھ جا کر امریکہ کو ناراض کرنے پر پاکستان کو قیمت ادا کرنا پڑیگی اور

امریکہ کیساتھ جا کر چین کو ناراض کرنے کی قیمت تو بہت بڑی ہے۔

=-،-= امریکہ یا چین میں ایک کا انتخاب، مشکلات کو دعوت دینا

پاکستان اب ایک دوراہے پر کھڑا ہے کہ وہ چین کیساتھ جائے یا امریکہ کی طرف

ہاتھ بڑھائے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سمیت دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور

یورپی ممالک سب پر امریکہ کا اثرو رسوخ ہے، اور امریکہ کو ناراض کرکے

پاکستان کیساتھ وہ کوئی معاہدہ کریں گے، اور نہ ہی مدد۔ اسلئے نہ چاہنے کے

باوجود بھی پاکستان کو امریکہ کیساتھ تعلقات رکھنا پڑیں گے، جبکہ چین کیساتھ

تعلقات کی سطح کم کرنے کی صورت میں پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا

پڑیگا۔ اسوقت پاکستانی ریاست کو جس دوسرے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ملک

میں انتہا پسندی، دہشتگردی اور افغانستان کا مسئلہ ہے، جو ایک طرح سے آپس

میں جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد طالبان کی موجودہ

پالیسی کی موجودگی میں طالبان کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا مشکل ہے جس

کے باعث افغانستان کی معیشت درست نہیں ہو سکتی۔

=-،-= افغانستان کے حالات کا پاکستان پر اثر تو ہونا ہی ہے

افغانستان کے معاشی حالات اگر خراب ہوتے ہیں تو اسکا اثر پاکستان پر بھی

پڑیگا۔ پاکستان کی ریاست نے ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کو روکنے کیلئے

افغان طالبان کی مدد سے کالعدم تحریک ِطالبان کیساتھ بھی مذاکرات شروع کئے

مگر ابھی تک ان مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔ کالعدم

تحریک ِطالبان پاکستان اور افغان طالبان نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے اس

طرح جڑے ہوئے ہیں، کہ پاکستان کی ریاست اگر اب ٹی ٹی پی کیخلاف آپریشن

کرتی ہے تو افغان طالبان کیساتھ بھی اس کے تعلقات خراب ہو نگے۔

=-،-= جیو سٹرٹیجک کی بجائے جیو اکنامکس ترجیح ، مگر کیسے؟

تیسرا بڑا مسئلہ بھارت سمیت علاقائی ممالک جن میں وسط ایشیائی ریاستیں، روس

اور مسلم ممالک کیساتھ شامل ہیں، کیساتھ تعلقات بہتر بنانا ہے۔ پاکستان بھارت اس

وقت تک معاشی طورپر ترقی نہیں کر سکتے جب تک ان کے آپس کے تعلقات

نارمل نہیں ہوتے۔ ماضی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اداورِ حکومت میں

جب بھارت کیساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ کوششیں انکے گلے

کا طوق بن گئیں۔ مگر اب تعلقات کو بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ پاکستان جن

معاشی حالات کا شکار ہے، انکا تقاضا ہے ریاست جیو سٹرٹیجک کی بجائے جیو

اکنامکس کو اپنی ترجیح بنائے۔ معیشت اور خطے کے حالات کا تقاضا ہے بھارت

کیساتھ تعلقات کے حوالے سے فیصلے کئے جائیں۔ اس کا فیصلہ بھی اسٹیبلشمنٹ

نے کرنا ہے-

=-،-= ٹی ایل پی کے بعد دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کا موقف

جہاں تک ملک کے اندر انتہا پسندی کا تعلق ہے جب سے حکومت نے ٹی ایل پی

کیساتھ مذاکرات شروع کئے ہیں، اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں، دوسری

مذہبی تنظیموں کی طرف سے بھی یہ مطالبات آنا شروع ہو گئے ہیں، کہ اگر

تحریک ِلبیک کیساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں، جس نے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا

تو انکا کیا قصور ہے، اور انہیں مین سٹریم میں کیوں نہیں آنے دیا جا رہا؟-

=-،-= سفارتی تنہائی، انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ہمارا متحدہ ہونا لازمی

امریکہ، چین کو دیکھیں تو اس میں بھی مرکز پاکستان و خاص طور پر بلوچستان

ہے۔ بھارت، چین، امریکہ، سعودی عرب، ترکی اور ایران کیساتھ تعلقات کا فیصلہ

کرنا ہو، یا انتہا پسندی کے سامنے بند باندھنا ہو، ان تمام فیصلوں کا وقت آ گیا ہے۔

یہ تمام مسائل ریاست کے مسائل ہیں، جن سے پوری قوم متحد ہو کر ہی نمٹ سکتی

ہے۔ مگر ان تمام مسائل کو حکومت اپنے مسائل ہی نہیں سمجھتی، بلکہ حکومت

نے احتساب کے نام پر قوم کو مزید تقسیم کیا۔ حکومت کی خواہش صرف یہ ہے کہ

باقی تمام جماعتیں منظر سے ہٹا دی جائیں، اور صرف حکمران جماعت ہی میدان

میں رہے، یہ تو کسی صورت ممکن نہیں۔

=-،-= اسوقت ریاست اور حکومت ایک پیج پر، نہ عوام کی کوئی اہمیت

موجودہ گھمبیر مسائل سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کا متحد ہونا ضروری ہے۔ مگر

اسوقت حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا بھر سے مذاکرات کیلئے تو تیار ہے، مگر

اپوزیشن جماعتوں کیساتھ بات کرنے کو تیار نہیں۔ حالانکہ موجودہ ملکی و عالمی

صورت میں پوری قوم، ریاست اور حکومت کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے،

لیکن ہمارے ہاں اسوقت ریاست اور حکومت ایک پیج پر ہے اور نہ ہی حکومت و

اپوزیشن مل بیٹھنے کو تیار ہیں۔ جب کہ عوام کو ہمارے یہاں بھیڑ بکریوں سے

زیادہ اہمیت ہی حاصل نہیں، جو لمحہ فکریہ ہی نہیں، عہد حاضر میں خود کو ناکام

کرنے کے مترادف ہے، جو مملکت خداداد پاکستان کیلئے کسی طور درست نہیں-

پاکستان دوراہرئے پر، ، پاکستان دوراہرئے پر، ، پاکستان دوراہرئے پر،

پاکستان دوراہرئے پر، ، پاکستان دوراہرئے پر، ، پاکستان دوراہرئے پر،

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: