new zara meri bhi suno1

پاکستان جدید تہذیب کا خزانہ، ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہئے، چینی سکالر

Spread the love

بیجنگ (جے ٹی این آن لائن ذرہ میری بھی سنو) پاکستان جدید تہذیب

چینی سکالر پروفیسر ڈوان چھنگ نے کہا ہے پاکستان جدید تہذیب کا خزانہ ہے،

سی پیک کے ذریعہ تعلیمی تبادلے کے مواقع کی قدر کرتے ہیں، پاکستانی عوام نے

اپنے تاریخی نوادرات کا احترام اور تحفظ کیا، ہمیں ان سے سبق سیکھنا چاہئے،

چینی سکالرز نے مغربی تاریخ کے بارے میں بہت ساری تحقیق کی ہے، پھر بھی

ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ماضی کو بمشکل ہی جانتے ہیں، سی پیک اقتصادی

راہداری سے زیادہ ثقافتی تبادلے اور لوگوں سے لوگوں کے باہمی تعامل کے بارے

میں ہے۔

=-= ذرا میری بھی سنو عنوان کے تحت پڑھیں مزید ( =-= سٹوریز =-= )

گوادر پرو کے مطابق علم کی حد نہیں، پاک چین مشترکہ کوششوں سے ” گندھارا

کی مسکراہٹ “ کے عنوان سے کتاب کی رونمائی تقریب کا انعقاد ہوا۔ گوادر پرو

کے مطابق پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد

کی جانے والی سرگرمیوں کے ایک حصے کے طور پر بیجنگ میں پاکستانی

سفارت خانے اور پیکنگ یونیورسٹی کے سکول آف فارن اسٹڈیز کے تعاون سے ”

گندھارا کی مسکراہٹ ” ثقافتی ورثے کا دورہ ” کے عنوان سے کتاب کی رونمائی

ہوئی۔ بیجنگ یونیورسٹی کے سکول آف فارن لینگویج کے پروفیسر ڈوان چھنگ

نے گوادر پرو کو بتایا کہ پاکستانی عوام نے جس طرح سے اپنے تاریخی نوادرات

کا احترام اور تحفظ کیا اس نے مجھے بہت متاثر کیا، ہمیں ان سے سبق سیکھنا

چاہئے۔ انہوں نے کہا جیسے ہی ہم نے پشاور میوزیم میں قدم رکھا، ہمیں احساس

ہوا کہ یہ ملک ( پاکستان ) جدید تہذیب کا خزانہ ہے۔ ہم، سکالرز کی حیثیت سے

سی پیک کے ذریعہ تعلیمی تبادلے کے ان مواقع کی قدر کرتے ہیں۔

=-.-= گندھارا کی مسکراہٹ کتاب کی رونمائی احسن اقدام، معین الحق

کتاب ” گندھارا کی مسکراہٹ ” میں پیکنگ اور رینمن یونیورسٹیز کے نامور چینی

سکالرز و ماہرین کی ایک ٹیم نے پروفیسر ڈوان چھنگ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر

چانگ جیامے کی سرپرستی میں گندھارا تہذیب سے متعلق علمی تحقیق اور یہاں پر

کیے جانے والے اپنے دوروں کی تفصیلات و مشاہدات کو بیان کیا ہے۔ تقریب سے

خطاب کرتے ہوئے چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق نے گندھارا کے تہذیبی

رابطے متعارف کرانے پر پیکنگ یونیورسٹی کے سکول آف فارن اسٹڈیز اور

ماہرین کی تعریف کی جو قدیم سلک روٹ پر پاکستان اور چین کے مابین موجود

تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سال چین پاک ثقافتی تعلقات کے قیام کے ستر سالوں کی

تکمیل کا سال ہے، اور اس کتاب کی رونمائی ایک بہترین موقع ہے کہ دو ممالک

کے مشترکہ ورثے کے طور پر منایا جائے۔ انہوں نے پاکستان میں تحقیق اور اس

کے تسلسل میں سفارتخانے کی مکمل مدد کا وعدہ کیا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اس موقع پر پروفیسر ڈوان چھنگ نے کہا کہ چینی سکالرز نے مغربی تاریخ کے

بارے میں بہت ساری تحقیق کی ہے، پھر بھی ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ماضی

کو بمشکل ہی جانتے ہیں۔ دوسری صدی سے محفوظ تاریخی آثار دیکھنے کے لئے

دلکش تھے یہ یقینی طور پر بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ پروفیسر ڈوان کنگ نے کہا

سی پیک اقتصادی راہداری سے زیادہ ثقافتی تبادلے اور لوگوں سے لوگوں کے

باہمی تعامل کے بارے میں ہے۔ سفارتخانہ پاکستان کے وزیر، ڈپٹی ہیڈ آف مشن

احمد فاروق نے گوادر پرو کو بتایا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات دنیا کیلئے رول

ماڈل بن گئے ہیں، مستقبل قریب میں تحقیقی ٹیم مزید تحقیقات کے لئے ضلع سوات

کا رخ کرے گی۔

پاکستان جدید تہذیب

Leave a Reply