Newark, FM Shah Mehmood Qurashi Talks With Media

پاکستان بین الافغان مذاکرات کے جلد انعقاد کا خواشمند،مصالحانہ کوششیں جاری رکھیں گے، شاہ محمود قریشی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان بین الافغان مذاکرات

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان

طالبان کے وفد کو افغان امن عمل کو سبوتاڑ کرنے اور ” سپائلرز ” سے متعلقہ

ممکنہ خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام

کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے انٹرا افغان مذاکرات کے جلد انعقاد کا متمنی ہے۔

طالبان کے چیف امن مذاکرات کار ملا عبد الغنی برادرکی سربراہی میں افغان

طالبان کے وفد نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ

ملاقات کی۔ دورانِ ملاقات ‘افغانستان امن عمل میں حالیہ پیشرفت، بین الافغان

مذاکرات کے جلد انعقاد سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت کی

گئی۔ افغان طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ کو طالبان اور امریکہ کے مابین طے

پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

وزیر خارجہ نے افغان طالبان کے وفد کو افغان امن عمل کو سبوتاڑ کرنے اور ”

سپائلرز ” سے متعلق ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کیا۔افغان طالبان کے وفد نے

افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی مسلسل کاوشوں اور پر خلوص معاونت پر وزیر

خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان شروع دن سے

یہی موقف اختیار کیے ہے کہ افغان مسئلے کا دیرپا اور مستقل حل افغانوں کی

سربراہی میں، مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ

پاکستان افغان عمل امن میں اپنا مصالحانہ کردار، مشترکہ ذمہ داری کے تحت ادا

کرتا آ رہا ہے۔ پاکستانی مخلصانہ مصالحانہ کاوشیں 29 فروری کو دوحہ میں طے

پانے والے طالبان امریکا امن معاہدے کی صورت میں بارآور ثابت ہوئیں۔ان کا کہنا

تھا کہ توقع ہے کہ افغان قیادت، افغانستان میں قیام امن کیلئے اس امن معاہدے کی

صورت میں میسر آنے والے نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے گی۔ پاکستان

خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے انٹرا افغان مذاکرات کے

بچوں کیلئے میٹھا زہر، نوجوانوں کو اندر سے کھوکھلا کرنیوالے مشروبات

جلد انعقاد کا متمنی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے

مابین دیرینہ مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے گہرے برادرانہ تعلقات ہیں،

افغانستان میں معاشی مواقعوں کی فراہمی، افغان مہاجرین کی باعزت، جلد واپسی

اور افغانستان کے معاشی استحکام کیلئے عالمی برادری کو اپنی کاوشیں بروئے

کار لانے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان،افغان امن عمل

سمیت خطے میں دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے اپنی مصالحانہ

کوششیں جاری رکھے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان طالبان وفد کے ساتھ

تیسری نشست ہوئی، طالبان دوحہ معاہدے پر مکمل کاربند ہیں، افغانستان کے عوام

کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اہم افغان عوام کے لئے نیک ارادے رکھتے ہیں،

افغانستان میں پائیدار امن پاکستان کی دیرینہ خواہش ہے، لاکھوں افغان مہاجرین کی

میزبانی کا طالبان وفد نے اعتراف کیا ہے۔ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ افغان وفد

کے ساتھ بہت مثبت ، تعمیری اور دوستانہ ماحول میں بات چیت ہوئی ہے۔ افغان

طالبان وفد کے پاکستان کے بارے میں بہت مثبت خیالات ہیں، پاکستان نے جس

انداز سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی طالبان وفد اس کا معترف ہے۔ شاہ

محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا

فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ مذاکرات میں اکتوبر 2019سے لے کر ابتک کے حالات

کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پرامید ہوں کہ افغانستان میں پائیدار امن کا راستہ نکل سکتا

ہے۔ طالبان دوحہ معاہدے پر مکمل کاربند ہیں۔

پاکستان بین الافغان مذاکرات

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply