ناراض بلوچوں سے مذاکرات

پاکستان ایٹمی قوت بن سکتاہے توچھوٹی چھوٹی چیزیں کیوں نہیں بناسکتا؟ عمران خان

Spread the love

پاکستان ایٹمی قوت بن

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ کو بڑھانا

ہوگا۔ پاکستان اگر ایٹمی قوت بن سکتا ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزیں کیوں نہیں بنا سکتا؟وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں

تین روزہ آئی سی ای سی نمائش کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی بات ہوتی تھی

لیکن اس پر کبھی عملی کام نہیں ہوا۔ 40 فیصد آبادی کو غربت سے نکالنا میرا وژن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے بڑی

تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ملک کو نیچے کی طرف جاتے دیکھا۔ ملائیشیا جیسے ملک نے

پاکستان کے ماڈل کو فالو کیا۔ ہم پاکستان میں رائج کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ حکمران کرپٹ ہوں تو چند لوگ امیر

لیکن ملک غریب ہو جاتا ہے، قانون کی بالا دستی ہوگی تو تبدیلی آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں گھر بنانے کے لیے

بینک قرض نہیں دیتے تھے۔ ہم کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضے دیں گے۔ نیا پاکستان ہاو¿سنگ سے 40 قسم

کی انڈسٹری چلنا شروع ہو جائے گی۔ کنسٹریکشن انڈسٹری چلنے سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔عمران خان کا کہنا تھا

کہ کنسٹریکشن انڈسٹری کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔ پاکستان میں ہر چیز کو امپورٹ کیا جاتا ہے لیکن کبھی کسی نے

نہیں سوچا کہ ہر چیز کو کیوں درآمد کرتے ہیں، ہر جگہ پر سسٹم رکاوٹ بنتا ہے۔ملک میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر بات کرتے

ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کا کسی نے سوچا ہی نہیں، ہم نے ملک کو آلودگی سے بچانا ہے۔ جن ملکوں میں گرمی

زیادہ ہے وہاں آگ اور کئی جگہوںپر سیلاب آئے ہوئے ہیں۔ بلین ٹری سونامی کا مقصد ملک میں درخت لگا کر ماحول کو بہتر

بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے شہروں کے اندر بہت زیادہ درخت لگانے ہیں۔ لاہور اور پشاور کو سٹی آف گارڈن کہا جاتا

تھا لیکن شہر پھیلتے جا رہے ہیں کسی نے بھی گرین ایریاز کا نہیں سوچا۔ میں نے اب ہر شہر کا ماسٹر پلان بنانے کا کہا

ہے۔ اس کے علاوہ آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔لاہور کی صورتحال پر بات

کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دریائے راوی سیوریج کا ایک نالہ بن چکا ہے۔ راوی سٹی بنانے کا مقصد شہر کو بچانا ہے

کیونکہ اگر یہی حال رہا تو لاہور میں بھی واٹر ٹینکر مافیا آ جائے گا۔وزیراعظم نے بغیر سود قرضوں کی فراہمی اور غربت

کے خاتمے کیلئے وژن پاکستان پروگرام لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو خود مختار بنانے کےلئے غربت میں

کمی اور ملکی آمدنی میں اضافے کےلئے ہر ممکن قدم ا±ٹھائیں گے،ملکی آمدنی نہ ہونے کے باعث بار بار آئی ایم ایف کے

پاس جانا اور شرائط ماننا پڑتی ہیں،،ریکارڈ پیداوار کے باوجود ہمیں گندم درآمد کرنا پڑتی ہے، آج کے ایشین ٹائیگرز 60 کی

دہائی میں پاکستان کی طرف دیکھتے تھے ،اگر بینک قومیائے نہ جاتے تو ہم بہتری کی طرف جاتے ،ہر خاندان کو صحت کارڈ

فراہم کرینگے جس سے وہ کسی بھی ہسپتال سے 10 لاکھ روپے تک علاج مفت کروا سکے گا،،ہم 20 دفعہ آئی ایم ایف کے

پاس گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کسی زمانے میں شوکت خانم کےلئے فنڈز جمع کرنے باہر جاتا تھا تو امیر ترین پاکستانی

ہوتے تھے، پیسہ ان کے پاس ہوتا تھا، تصور نہیں کرسکتے کہ پاکستان کو امداد لینا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں

حکمران طبقہ کرپٹ ہوں وہاں ایسے حالات ہوتے ہیں، وسائل کے باوجود غربت ہوتی ہے اور تھوڑا سا طبقہ امیر ہوتا ہے، تو

اس کو کیسے تبدیل کرنا ہے، یہ میرا ایک بڑا وژن ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آخری بات قانون کی بالادستی ہے، طاقت کی

بالادستی کے بجائے انصاف کرکے بڑی سطح پر تبدیلی آئے گی، نیچے سے لوگوں کو اٹھائیں گے اس کے بڑے طریقے ہیں،

اس کےلئے احساس پروگرام لے کر آئیں گے جو ترقی پذیر ممالک کے لیے مثال بنے گی، ایسا کام کر رہے ہیں جو پاکستان

کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم 9 تاریخ کو بڑے دھوم دھام سے اس پروگرام کا افتتاح کرینگے، اس

پروگرام میں وہ 40 فیصد طبقہ جو نیچے ہے اس کے ہر خاندان کے ایک فرد کو ٹیکنیکل تعلیم دی جائےگی، خاص کر آئی ٹی

کے شعبے میں جلدی تربیت حاصل کرکے پیسے کمانا شروع کر سکتے ہیں، اگر شہر میں ہیں تو دکان اور کوئی کاروبار اور

دیہات میں ہیں کسان کےلئے سود کے بغیر قرضہ ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ کم لاگت پر گھر دیا جائےگا اور ان خاندانوں

کو مائیکرو فنانس کے ذریعے ہم ان کو پیسے دیں گے، ان کے پاس گھر بنانے کےلئے پیسے نہیں ہوتے ہیں، جس کی وجہ

سے کچی آبادیاں بن جاتی ہیں، کراچی تقریباً 40 فیصد کچی آبادی بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالے سے قانون

نکالنے کےلئے بڑی جدوجہد کی، جب تک قانون نہیں ہوگا کہ اگر کوئی قسط نہیں دیتا تو بینک ایکشن نہیں لے سکے گا تو وہ

قرضے نہیں دیں گے، اسی لیے پاکستان میں ہاو¿س فنانسنگ کا تصور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صفر اعشاریہ 2

فیصد گھروں کےلئے قرضے دیئے جاتے ہیں، بھارت میں 10 اور ملائیشیا میں 30 فیصد، یورپ اور امریکا میں 80 فیصد

قرضے دیئے جاتے ہیں، اس قانون کے تحت پاکستان میں پہلی دفعہ موقع ملے گا کہ وہ بینک سے قرضے لے کر گھر بنا

سکے اور حکومت بھی ان کو سبسڈی دے رہی ہے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ اب میری توجہ ہوگی کہ ملک میں برآمدات کیسے

بڑھانی ہیں اور درآمدات کا متبادل کیسے تیار کرنا ہے، کیونکہ جب پاکستان میں زیادہ ڈالر نہیں آئیں گے اور ملک میں خسارہ

رہے گا تو آگے نہیں بڑھے گا، اگر ملک کو آگے بڑھنا ہے، دولت میں اضافہ کرنا ہے تو برآمدات میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

پاکستان ایٹمی قوت بن

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply