پاکستان امن ، بھارت جنگ کا داعی ، مرعوب ہونے والے نہیں ، میجر جنر ل آصف غفور

Spread the love

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے دشمن کا ایک ڈرون تک ہماری حدود میں نہیں آ سکتا،سرجیکل سٹرائیک تو دور کی بات ہے ، پاکستان کو دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا، بھارت سن لے ایسا وقت آیا تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہونگے لیکن اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو افواج پاکستان ہر وقت تیار ہیں ۔گزشتہ روزایک انٹرویو میںان کا مزید کہنا تھا دہشت گردی کیخلاف جنگ بہت مشکل سفر تھا، پچھلی دو دہائیوں میں مشکل سفر طے کیا اور وہ کامیابیاں حاصل کیں جو دنیا کی کوئی دوسری فوج حاصل نہیں کر سکی ۔ پچھلے دو سال میں 75 ہزار سے زائد خفیہ آپریشن کیے گئے جبکہ آپریشن ردالفساد کے دوران 35 ہزار غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔ افغانستان کیلئے معیشت کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے، افغان مصالحتی عمل میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں بھی ہوگا۔ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے لوگوں نے دہشت گردی کا سامنا کیا اور بہت مشکلات دیکھیںانہیں بہادری پر سلیوٹ پیش کرتا ہوں، آئی ڈی پیز تکلیف میں رہے، اب ان کی بحالی کا وقت ہے۔ بھارت میں آج کل الیکشن کا ماحول ہے، وہاں الیکشن زیادہ تر پاکستان مخالف نعروں پر لڑے جاتے ہیں۔بھارت کیساتھ ستر سال کی تاریخ ہے، اس نے ہمیشہ ڈائیلاگ سے انکار کیا اور جنگیں بھی کر کے دیکھ لیں، جو کام کسی قوم نے نہیں کیا وہ پاکستانی قوم نے کیا، جو کام کسی افواج نے نہیں کیا وہ کام پاکستانی افواج نے کیا، یہ پاکستان کا پوزیٹو امیج ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ ریاست، افواجِ پاکستان اور عوام نے مل کر لڑی ہے۔ آج کے دور میں میڈیا سب سے مضبوط ستون اور اس کا مثبت کردار ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں میڈیا نے بہت ساتھ دیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بہت سارے اکاو¿نٹ بیرون ملک سے چلائے جا رہے ہیں، میڈیا اس حوالے سے عوام کو آگاہی دے، نورین لغاری کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہی قابو کیا گیا تھا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا آرمی جیسا احتساب کا نظام دیگر اداروں میں آدھا بھی آ جائے تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ فوج کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جو قوم کو ترقی کے راستے سے ہٹا دے۔ جمہوریت چلے گی تو پاکستان ترقی کرے گا۔ عسکری قیادت جمہوری استحکام کی خواہش مند ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: