پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت جیسے تعلقات چاہتا ہے، وزیراعظم عمران خان

پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت جیسے تعلقات چاہتا ہے، وزیراعظم عمران خان

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز ) پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے تعاون کو ناکافی

سمجھا، برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں، نائن الیون کے بعد پاکستان نے

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، امریکا سمجھتا تھا امداد کے

بدلے پاکستان اس کی ایما پر کام کرے گا، افغانستان کیلئے پاک امریکا مقاصد ایک

سے ہیں، افغانستان کے مسائل کا صرف سیاسی حل ہے، ورنہ سول وار کا خدشہ

ہے، افغانستان میں سول وار سے پاکستان متاثر ہو گا جو امریکا اور پاکستان کے

حق میں نہیں، پاکستان صرف افغان عوام کی منتخب کردہ حکومت کو تسلیم کریگا،

اگر طالبان کابل پر قابض ہو گئے تو پاکستان افغانستان سے ملحقہ اپنی سرحد بند

کر دے گا۔ ہم چاہتے ہیں امریکی انخلا سے پہلے افغانستان کا سیاسی حل نکلے۔

افغان حکومت کیساتھ مستقل رابطے میں ہیں، ہم نہیں چاہتے ایک بار پھر لاکھوں

افغان مہاجرین پاکستان آ جائیں۔ طالبان کو کہہ رہے ہیں وہ طاقت کے زور پر کابل

فتح نہ کریں۔ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک بھارت سے معمول کے تعلقات بحال نہیں

ہو سکتے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

امریکی جریدے ” نیویارک ٹائمز “ کو انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا پاکستان کا

اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے مقابلہ میں امریکہ سے زیادہ قریبی تعلق رہا ہے، نائن

الیون کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کیساتھ شمولیت

اختیار کی، اب امریکہ افغانستان سے واپس جا رہا ہے پاکستان ایک مہذب تعلق کا

خواہاں ہے، جیسا کہ قوموں کے مابین ہوتا ہے، ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی

تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان ایسے تعلقات کا خواہاں ہے جیسے امریکہ

اور برطانیہ یا امریکہ اور بھارت کے مابین اس وقت قائم ہیں، بدقسمتی سے دہشت

گردی کے خلاف جنگ کے دوران یہ تعلق برابری کا نہیں تھا، پاکستان نے امریکہ

کیلئے جو کچھ کیا اس کی اسے بھاری جانی و مالی قیمت چکانا پڑی۔ دہشت گردی

کے خلاف جنگ کی وجہ سے خود کش حملے اور ملک میں جگہ جگہ بم دھماکے

ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا ہم مستقبل میں ایسا تعلق چاہتے ہیں جس کی بنیاد اعتماد

اور مشترکہ مقاصد پر ہو اور اس وقت ایسا ہی ہے یعنی افغانستان میں ہمارے

مقاصد آج بالکل ایک جیسے ہیں۔

=-.-= پاکستان دو بڑی منڈیوں چین بھارت کے درمیان واقع اہم ملک

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ریاستوں کے مابین تعلق

مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوتا ہے، پاکستان زیادہ تر نوجوان آبادی پر مشتمل 22

کروڑ لوگوں کا ملک ہے جو کہ مستقبل کیلئے ایک لحاظ سے تزویراتی مقام کا

حامل ہے، اگر ہمارا بھارت کے ساتھ تعلق کسی مرحلہ پر بہتر ہوتا ہے جس کیلئے

میں پرامید ہوں، لہٰذا پاکستان کے ایک طرف سب بڑی مارکیٹوں میں سے ایک

مارکیٹ موجود ہے اور دوسری جانب چین ہے، اس طرح ہمارے اطراف میں دو

بڑی منڈیاں واقع ہیں اور پھر راہداریاں بھی موجود ہیں جن سے استفادہ کیا جا سکتا

ہے، اس طرح پاکستان اقتصا دی لحاظ سے مستقبل میں اہم تزویراتی مقام کا حامل

ہے۔

=-.-= امید ہے امریکہ افغانستان کو جلتا نہیں دیکھنا چاہتا

وزیراعظم نے کہا افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد مجھے نہیں معلوم پاکستان

اور امریکہ کے مابین فوجی تعلقات کس نوعیت کے ہوں گے، تاہم اس وقت یہ

تعلقات افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل مسئلہ کے سیاسی حل کے مشترکہ

مقصد کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں کیونکہ پاکستان افغانستان میں خونی خانہ

جنگی نہیں چاہتا اور مجھے یقین ہے امریکہ بھی افغانستان میں ایک یا دو کھرب

ڈالر خرچ کرنے کے بعد نہیں چاہتا کہ یہ ملک شعلوں میں جلتا رہے۔ پاکستان ان

تین ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے 1996ء کے بعد طالبان کو تسلیم کیا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

افغانستان سے امریکی انخلا کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد طالبان پر ہمارا اثر و

رسوخ کم ہو گیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہی امریکی انخلاء کی تاریخ کا

اعلان ہوا طالبان نے فتح کا دعویٰ کر دیا، وہ سوچ رہے ہیں انہوں نے جنگ جیت

لی، لہٰذا اب وہ خود کو مضبوط سمجھتے ہیں اور ان پر ہمارا اثر و رسوخ کم ہو گیا

ہے۔ طالبان بات چیت پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے، ہم نے اپنے اثر و رسوخ سے ان

کو امریکہ سے بات چیت پر آمادہ کیا اور افغان حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے ان

پر دباﺅ ڈالا اور یہ بہت مشکل کام تھا۔ پاکستان طالبان پر زور دیتا رہا ہے وہ فوجی

فتح کا راستہ اختیار نہ کریں یہ ممکن نہیں، اگر وہ اپنی پوری قوت استعمال کرکے

فوجی فتح کے حصول کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے ایک طویل خانہ جنگی

چھڑ سکتی ہے اور افغانستان کے بعد جو ملک اس صورتحال سے سب زیادہ متاثر

ہو گا وہ پاکستان ہے کیونکہ پاکستان میں افغانستان سے بھی زیادہ پشتون آباد ہیں

اور طالبان چونکہ بنیادی طور پر ایک پشتون تحریک ہے تو اس کے دو اثرات

مرتب ہوں گے۔

=-.-= پاکستان کا معاشی استحکام پُرامن افغانستان کے بغیر ناممکن

وزیراعظم نے کہا مستقبل کیلئے ہمارا وژن اپنی معیشت کو اٹھانا اور افغانستان کے

ذریعے وسط ایشیا تک تجارت کو فروغ دینا ہے، ہم نے وسط ایشیائی ریاستوں کے

ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کیلئے معاہدے کئے ہیں تاہم ہم وسط ایشیائی ریاستو ں تک

رسائی صرف افغانستان کے ذریعے ہی حاصل کر سکتے ہیں اور افغانستان میں

خانہ جنگی کی صورت میں یہ سب بیکار ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان

کے چین کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، چین پاکستان کا ایک اچھا دوست ہے، چین

نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے

دوران پاکستان کا ساتھ دیا ۔

پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت ، پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت ، پاکستان امریکہ کیساتھ بھارت

Leave a Reply