imran khan

داعش سے چھٹکار ے کیلئے طالبان بہترین آپشن، پاکستان اب امریکہ کا اتحادی نہیں رہا،عمران خان

Spread the love

پاکستان اتحادی نہیں رہا

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے افغانستان میں افغانوں کو

مختلف قسم کے مسائل کا سامناہے ،صورت حال پر قابو پانے کے لیے طالبان کو موثر اقدامات اٹھانا

ہوں گے، افغانستان میں مضبوط طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں سے نمٹ سکتی ہے، داعش سے

چھٹکارا پانے کیلئے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں، دنیا کو افغانستان کے ساتھ ہر صورت بات

چیت کرنی چاہیے، افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوئی تو اثرات بہت دورتک جائیں گے ، طالبان نے

خواتین کی تعلیم سے انکار نہیں کیا بلکہ شرعی طریقے سے حصول کی بات کی، پاکستان چاہتا ہے

دنیا کے دیگر ممالک افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑیں،امریکیوں کو افغانستان کی اصل صورتحال سے

گمراہ رکھا گیا، امریکا نے اشرف غنی حکومت اور سیکیورٹی فورسز پر بھاری سرمایہ کاری کی،

کابل میں کرپٹ حکومت کی وجہ سے ہی طالبان کو شہرت ملی، 3 لاکھ افغان فوجیوں نے لڑے بغیر

ہتھیار ڈالے، امریکا کو افغانستا ن کی صورتحال سے دھچکہ لگا،پاکستان اب امریکہ کا اتحادی نہیں

رہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے، مقبوضہ کشمیر

میں اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے، اب وہاں باہر سے لوگوں کو کشمیر میں آباد کررہے ہیں،ہم

محض یہ بات کررہے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق دیا جائے، پاکستان اور بھارت نیوکلیئر

فلیش پوائنٹ ہیں ، دونوں کے درمیان 3جنگیں ہوچکی ہیں، بھارت نے پاکستان پر جو الزامات لگائے

ان کے ثبوت فراہم نہیں کیے، ہمیں ثبوت فراہم کئے جائیں ہم خود انہیں سزا دیں گے، بھارت نے

پاکستان پر حملہ کیا پاکستان نے بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ پیر کو مڈل ایسٹ آئی کو

خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کے

راستے بحر ہند اورپاکستان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، افغانستان ایک اہم ملک ہے، امریکہ یا

چین کیلئے ہی نہیں اقتصادی رابطہ پورے خطے کی ضرورت ہے ہماری بھی یہی خواہش ہے۔ انہوں

نے کہا کہ 20 سالہ خانہ جنگی نے افغانستان میں تباہی مچا دی ہے، حکومت کا صرف شہروں کی حد

تک کنٹرول تھا، دیہی علاقہ تو پہلے ہی طالبان کے زیر اثر تھا،اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے،

طالبان نے حکومت سنبھال لی ہے،جب آپ 20 سال بعد اقتدار میں آتے ہیں جیسا کہ میں بائیس سال بعد

اقتدار میں آیا تو آپ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، طالبان نے قربانیاں دی ہیں، وہ چاہتے

ہیں کہ انہیں حکومت میں جگہ ملے، اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آنے

والی حکومت ایک شمولیتی حکومت ہو جہاں انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے، افغانستان کی سر

زمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دی جائے، افغانستان کیلئے یہ بہت نازک لمحہ ہے،دنیا کو

افغانستان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے،دنیا اگر ایسے افغانستان کو دور کرے گی تو تحریک طالبان

میں بھی سخت گیر لوگ موجود ہیں،موجودہ افغانستان بڑی آسانی سے 20سال پرانے یعنی 2000ء

والے طالبان کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے، ایسا ہوا تو بہت تباہی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 20سال میں

امریکہ اور نیٹو فورسز نے 2000ارب ڈالر کا خرچہ کیا، لاکھوں لوگوں کی جان گئی، اگر ایسا بحران

دوبارہ پیدا ہوتا ہے تو افراتفری پیدا ہو گی، افغانستان آئی ایس ایس جیسے دہشت گردوں کیلئے ایک

زرخیز زمین بن جائے گی جو ہم سب کیلئے پریشانی کا باعث بنے گی خاص طور پر پاکستان کیلئے،

سب کچھ ضائع ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایس ایس سے چھٹکارا پانے کیلئے

طالبان واحد بہترین آپشن ہیں،انہیں تنہا کرنا یا پابندیاں لگانا افراتفری کے علاوہ بہت بڑے انسانی

بحران کو جنم دے گا، افغانستان کی آدھی آبادی خطہ خربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے،

،افغانستان میں افراتفری سے پاکستان زیادہ متاثر ہو گاکیونکہ پاکستان افغانستان کا ہمسائیہ ہے۔ انہوں

نے کہا کہ ہمارے سیکیورٹی کے سربراہان کی بات چیت ہوئی ہے، ہمارے وزیرخارجہ کا بھی

امریکی وزیرخارجہ سے رابطہ ہے، میری اپنی بات نہیں ہوئی تاہم امریکہ سے رابطے میں ہیں،ہم یہ

ساری باتیں امریکہ کے ساتھ کر چکے ہیں،امریکہ صدمے کی کیفیت میں ہے اسے یقین ہی نہیں آرہا ،

امریکہ کو واضح طور پر گمراہ کیا گیا تھا،انہیں بتایا گیا تھا کہ وہاں جمہوریت لائی جائے گی، خواتین

کی آزادی ہو گی لیکن اب افغان ایک قوم بن رہے ہیں،اسی لئے 3لاکھ افغان فوج نے بغیر لڑے ہتھیار

ڈال دیئے جس کی امریکہ کو سمجھ نہیں آئی،میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی

حل نہیں جو عراق میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے،امریکہ افغانستان کی تاریخ سے واقف نہیں، سابق

آرمی چیف جنرل کیانی نے بھی سابق امریکی صدر باراک اوباما کو یہی بات کہی تھی کہ افغانستان کا

کوئی فوجی حل نہیں نکل سکتا،افغانستان میں ہمیشہ غیر ملکیوں کی پشت پناہی کیلئے حکومت بنی،

1989 کے مقابلے میں اس بار اقتدار پر امن طریقے سے منتقل ہوا،تحریک طالبان افغانستان میں مقبول

تحریک ہے،خاص طور پر دیہی علاقوں میں اسی وجہ سے افغان فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیئے

تھے۔، پاکستان اورچین کے مضبوط تعلقات ہیں ہم دیوالیہ ہونے والے تھے جب چین نے ہماری مدد

کی، ہمیشہ مشکل میں کام آنے والے دوست کو یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے

حوالے سے من چاہی چیخ و پکار غیر اخلاقی ہے، چین اور بھارت ہمارے ہمسائے ہیں، کشمیر میں 9

لاکھ فوجیوں نے 8لاکھ کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید کیا ہوا ہے، اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہو

چکے ہیں،اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی بھارت پر تنقید نہیں کرتا، بھارت میں مسلمان اور دوسری

اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ سب کو نظر نہیں آتا، شام، عراق اور کشمیر میں مسلمان مر رہے

ہیں،دنیا کو اس کا نوٹس لینا چاہیے،کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے، اقوام متحدہ کی زیر نگرانی

کشمیر کی عوام کو استصواب رائے کے ذریعے فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے گی کہ وہ آیا

بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی

حیثیت کوختم کیا جو انہیں حق خود ارادیت تک حاصل تھی،9لاکھ فوجی بھیج کر کشمیر میں کرفیو

نافذکیا گیا ہے کشمیریوں کے پاس آپشن ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت

میں، اگر وہ خودمختار ریاست کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو بھی یہ ان کا حق ہے۔ وزیراعظم

عمران خان نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے کسی بھی عرب ملک نے دباؤ نہیں ڈالا۔ انہوں

نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا میں سمجھتا ہوں صدر میکرون کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہاں

مسلم آبادی کے ساتھ کیسے چلنا ہے، ناموس رسالت کے معاملے میں بڑا ردعمل آتا ہے ، عام آبادی پر

حملہ ہوتا ہے یا پولیس مساجد پر حملہ کر دے گی ایسی صورتحال سے نکلنے کیلئے آپس میں اتفاق

رائے سے کام لینا ہو گا،سب کو مل جل کر رہنا چاہیے۔۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضور ؐ

کے روزمرہ زندگی کے اصولوں کو اجاگر کیا جائے۔وزیرِ اعظم عمران خان کی صدارت میں عشرہِ

رحمت العالمین اور 12 ربیع الاول کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو

عشرہِ رحمت العالمین کے حوالے سے بنائے گئے لائحہِ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں

وفاقی وزراء فواد احمد چودھری، نور الحق قادری، معاونینِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل اور ارسلان

خالد نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عشرہ رحمت العالمین ؐ میں نوجوانوں اور

بچوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے زیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں صنعتی ترقی

کو تیز کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،بیرونی سرمایہ کاری بڑھتی ہوئی آبادی کے

لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت

خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں چینی سرمایہ کاروں کی سہولت کے حوالے سے اجلاس ہوا

جس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں کل 27 SEZs میں سے 05 SEZs (سندھ میں دھابیجی ،

کے پی کے میں رشکئی ، بلوچستان میں بوستان ، پنجاب میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی ، اور

بلوچستان میں گوادر) پر کام تیزی سے جاری ہے۔ مزید برآں ممکنہ چینی سرمایہ کاروں کے تمام

مسائل کو ایک چھت تلے حل کرنے کے لیے ان میں سے ہر ایک SEZs میں ایک مؤثر ون ونڈو

آپریشن سہولت اور CPEC اتھارٹی میں ایک سہولت مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اتحادی نہیں رہا

پاکستان اتحادی نہیں رہا

پاکستان اتحادی نہیں رہا

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply