pakistani girls 188

پاکستانی لڑکیوں کی سمگلنگ کی تحقیقات کا معاملہ سرد خانے کی نذر کیوں؟

Spread the love

اسلام آباد(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) پاکستانی لڑکیاں سمگلنگ تحقیقات

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (یف آئی اے) کے سینئر افسران نے انکشاف کیا ہے کہ چینی باشندوں کیخلاف پاکستانی لڑکیوں کی سمگلنگ کی تحقیقات وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے دباﺅ پر سرد خانے کی نذر ہوئیں گئی ہیں۔ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے چینی باشندوں کے خلاف تحقیقات اور گرفتاریاں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے شدید دباﺅکے تحت بند کردی گئی ہیں- مزید پڑھیں

خارجہ و داخلہ وزارتوں کے دباﺅ پر چینی باشندوں کیخلاف کارروائی ٹھپ

ایف آئی اے کے سینیئر افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ملک میں جو مختلف زونز میں درخواستیں موصول ہوئیں جن میں خواتین نے بتایا ہمیں چینی باشندے خود کو مسلمان ظاہر کرکے شادی کرکے لے گئے- وہاں جاکر جسم فروشی پر مجبور کیا گیا جبکہ کچھ خواتین نے تو یہاں تک بتایا کہ شادی کے چند دن کے بعد انکے چینی شوہروں نے پاکستان ہی میں ان سے جسم فروشی جیسے غلیظ کام شروع کروا دئیے تھے جبکہ بڑی مشکل سے انہوں نے بھاگ کر جان بچائی ہے۔

چھاپوں، گرفتاریوں پر چینی حکومت کا وزیراعظم ہاﺅس، چینی ایمبیسی کا داخلہ و خارجہ وزارتوں سے سخت اظہار ناراضگی

معتبر ذرائع کے مطابق جب ایف آئی اے نے تحقیقات کرکے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر چینی باشندوں کو گرفتار کیا اور میڈیا میں معاملہ بھرپور طریقے سے ہائی لائٹ ہونا شروع ہوا تو اس کے بعد ایف آئی اے پر شدید دباﺅ آیا کہ آپ معاملے کی تحقیقات بند کردیں جبکہ وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے موقف اختیار کیا کہ چینی حکومت نے وزیراعظم ہاﺅس کو جبکہ چینی ایمبیسی نے وزارت خارجہ اور داخلہ دونوں سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نے چینی باشندوں کے خلاف اس طرح کاروائیاں جاری رکھیں تو سی پیک خطرے میں پڑ جائے گا جس کے بعد مجبوراً وفاقی تحقیقاتی ادارے کے لاہور اور اسلام آباد زونز میں تمام درخواستوں پر کاروائی روک دی گئی۔

اعلی حکام کی حکم پر لاہور اور اسلام آباد زونز میں تمام درخواستوں پر کاروائی روک دی، سینئر افسران کا انکشاف

پنجاب زون نے اس دوران موصول شدہ درخواستوں سے جو اعداد و شمار رپورٹ میں مرتب کیے ہیں وہ چونکا دینے والی انکوائری رپورٹ کے مطابق لگ بھگ 600 لڑکیوں کو چینی باشندوں نے شادی کے ذریعے چائنہ سمگل کیا ان میں سے کچھ تو چینی لوگوں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ باقی عورتوں کا فل حال کوئی سراغ نہ مل پایا۔ سینئر ذرائع نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں مزید پتا چلا ہے کہ یا تو چائنہ سمگل کی گئی عورتوں سے جسم فروشی کروائی جارہی ہے یا انکے جسم کے قیمتی اعضا نکال کر بیچ دئیے گئے ہیں اور انکے باقی ماندہ اجسام کو ختم کردیا گیا ہے۔

شادیاں عین اسلامی طریقے سے ہوئیں، بعد میں شوہروں نے جسم فروشی پر مجبورکیا، متاثرہ لڑکیاں

واضح رہے معتبر افسران نے بتایا اپریل دوہزار انیس میں جب ہم نے اسلام آباد کے پوش علاقوں سے چینی باشندوں کو گرفتار کیا تو اسی وقت ہی ہمارے اوپر دباﺅ آنا شروع ہوگیا تھا- لیکن جب معاملہ میڈیا پر رپورٹ ہونا شروع ہوا تو ہمارے اوپر مزید دباﺅ آیا اور ہمیں مجبوراً تحقیات سرد خانے میں ڈالنا پڑیں۔ اس حوالے سے اس رپورٹر کی چند متاثرہ عورتوں سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ چینی باشندون نے کچھ لوکل مرد حضرات کے ذریعے ہمارے رشتے کی بات کی اور اس کے بعد ہمیں اتنے سبز باغ دکھائے کہ ہمارے والدین نے ہمارے رشتے طے کردئیے جبکہ اسلامی قوانین کے تحت نکاح بھی ہوئے، رخصتی بھی ہوئی- لیکن چند دن کے بعد معاملہ عیاں ہوگیا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہوگیا ہے اور ہمیں پہلے غیر محسوس طریقے سے اور پھر زبردستی جسم فروشی پر مجبور کیا گیا- ہم بڑی مشکل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں-

ایک شادی کرانے کے پانچ لاکھ روپے لیتا تھا، گرفتار دلال کا اعتراف

ایف آئی اے نے شادیاں کرانے والے دلال کو بھی گرفتار کیا ہوا ہے جس سے ہمارے رپورٹر کی بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میں ایک شادی کرانے کے پانچ لاکھ روپے چینی لوگوں سے لیتا تھا جبکہ اس نے دس شادیاں کروا رکھی ہیں- اس سارے معاملے کو جب میڈیا نے بڑے لیول پر ہائی لائٹ کیا تو اس کے بعد چینی حکومت نے براہ راست وزیراعظم ہاﺅس سے بات کی- جبکہ چینی ایمبیسی نے وزارت خارجہ اور داخلہ پر شدید دباﺅ ڈالا اور تحقیقات کو رکوا دیا- تمام درخواستوں کو سرد خانے کی نظر کردیا گیا لیکن یہ سارا معاملہ سوشل میڈیا پر دفعہ پھر آگیا ہے جبکہ ایف آئی اے کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے سارا پول کھول کر رکھ دیاہے۔

پاکستانی لڑکیاں سمگلنگ تحقیقات

Leave a Reply