0

پانی ٹیکس حکم پرعملدرآمد کیا جائے، سپریم کورٹ

Spread the love

سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی پر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان ریمارکس دیئے ہیں معاملے پر عدالت کے آرڈر کا نفاذ چاہتے ہیں ، عدالتی حکم کی روشنی میں پانی ٹیکس پر کام شروع کیا جائے، سندھ حکومت نے ایک لیٹر زیر زمین پانی پر ایک روپیہ ٹیکس کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا،نوٹیفکیشن منرل واٹر کمپنیوں کےلئے تھا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی پر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیا ل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ سماعت کے آغاز پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کمیشن سربراہ ڈاکٹر احسن صدیقی سے مکالمہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے ہمارا آرڈر دیکھا ہے۔جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہاہم اس آرڈر کا نفاذ چاہتے ہیں۔ کمیشن سربراہ ڈاکٹر احسن صدیقی نے کہا ہم نے چاروں صوبوں کو خطوط لکھے ہیں۔کمیشن سربراہ ڈاکٹر احسن صدیقی نے کہاسوائے چیف سیکرٹری پنجاب کے کسی نے جواب نہیں دیا۔ جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا باقی تینوں صوبے دو دن میں اپنے نمائندے نامزد کریں۔ یہ بنیا د ی حق اور رفاہ عامہ کا کام ہے۔ ہم چاہتے ہیں کمیٹی کے تمام ارکان مل کر کام کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سندھ حکومت نے ایک لیٹر زیر زمین پانی پر ایک روپیہ ٹیکس کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، وہ نوٹیفکیشن منرل واٹر کمپنیوں کےلئے تھا، کیا پیسے جمع ہونے شروع ہوئے ہیں۔ صوبائی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز نے کہا باقی صوبوں نے بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاعدالتی حکم کے تحت 30 دن کے اندر پانی کے میٹر لگنے تھے ۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاپنجاب حکومت نے پیسے جمع کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ احسن صد یقی نے کہاصنعتوں کے زیر زمین پانی کے استعمال پر پانی ٹیکس کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ لاہور میں ایک فائیو سٹار ہوٹل روزانہ 24 لاکھ لیٹر پانی استعمال کرتا ہے۔ ایل ڈی اے پانی ٹیکس کے حوالے سے تعاون نہیں کر رہی۔ صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہمارے ساتھ تعاون کے احکامات جاری کئے جائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا حکومت پنجاب نے اب تک کتنے پانی میٹر اور نگرانی کیمرے لگائے ہیں ،اس پر تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔
جسٹس فیصل عرب نے کہاصنعتوں پر پانی ٹیکس کی بجائے اگر پراڈکٹ پر ڈیوٹی لگا دی جائے تو بہتر ہو سکتا ہے ، اس سے صوبائی حکومتوں کو میٹر بھی نہیں لگانے پڑیں گے۔احسن صدیقی نے کہامارچ کے آخر تک شوگر ملوں کےلئے فارمولا طے کر یں گے۔ وکیل قرشی انڈسٹری نے کہا سیلز ٹیکس کی طرح پانی ٹیکس لگایا جائے۔احسن صدیقی نے کہا اگر پراڈکٹ پر ٹیکس لگائیں گے تو پانی کے ضیاع کا پتہ نہیں چلے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا میرا خیال ہے میٹرنگ بھی لازمی ہے ۔ منرل واٹر اور مشروبات کے حوالے سے کام تو مکمل کر لیں ۔ ڈی جی ماحولیات نے بتایا ہمیں منرل واٹر اور مشروبات کے حوالے سے ڈیٹا چاہیے۔ جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا ایسی صنعتیں جن کا خا م مال پانی ہے ان کا ڈیٹا پہلے جمع ہونا چاہیے۔ احسن صدیقی نے کہا ہم اپریل تک کام مکمل کر لیں گے۔
جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا ہم آپ کو اپریل تک وقت نہیں دینا چاہ رہے، حکومتی اداروں کی کارکردگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے درمیان تعاون کا فقدان ہے۔ اگلی تاریخ پر پانی ٹیکس جمع ہونے کی رپورٹ ملنی چاہیے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سب سے زیادہ توجہ منرل واٹر اور مشروبات کی صنعت پر دینے کی ضرورت ہے۔ احسن صدیقی صاحب آپ بتائیں گے پانی پر میٹر اور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگے یا نہیں،پانی کی کوالٹی چیک کرنے کےلئے لیب ہیں یا نہیں، اس پر بھی آپ نے رپورٹ دینی ہے۔احسن صدیقی نے کہا 50 فیصد صنعتوں میں پلانٹ لگوا دیئے ہیں۔ ڈی جی ماحولیا ت نے کہا صنعتوں کی لیب میں کام کرنےوالے لوگ مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں۔ نمائندہ وفاقی دارالحکومت کہاصنعتوں کے کچھ معاملات پر تحفظات ہیں۔ جسٹس عمر عطا ءبندیال نے کہا ہم نے پانی بچاتے بچاتے اور روزگار ختم نہیں کرنالیکن آگاہی پھیلانا چاہیے۔ پانی ٹریٹمنٹ پلا نٹ تو لگنے چاہئیں۔احسن صدیقی نے کہا صنعتوں کو زیادہ خرچے سے ہم بچائیں گے۔ بعد ازاں سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

Leave a Reply