192

500 کرپٹ لوگوں کو جیل یاترا کی خواہش اور ہمارے شیخو جی

Spread the love

( تحریر: ابو رجا حیدر) پانچ سو کرپٹ

وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورۂ چین کے موقع پر میزبان ملک کی سرزمین

پر اس خواہش کا اظہار کیا کاش وہ بھی اپنے ملک کے پانچ سو کرپٹ لوگوں کو

جیل بھیج سکتے جیسے چین کے صدر شی چن پنگ نے وزارتی سطح کے 400

افراد کو سزائیں دیکر جیل بھجوایا، ہمارے نظام میں کرپشن روکنا ایک مشکل

اور پیچیدہ عمل ہے اس لئے دشواریاں پیش آرہی ہیں مگر حکومت اس پر کام کر

رہی ہے، پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی جبکہ سرخ

فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چائنا کونسل کے

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا

اب پاکستان چین سے سیکھ رہا ہے۔

وزیراعظم کے دِل میں کرپشن ختم کرنے کی خواہش تو ہر وقت موجزن رہتی ہے

اور وہ دِل سے چاہتے ہیں ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر سکیں لیکن عملی جامہ

پہنانے تک کے سفر میں بہت سے فاصلے حائل ہیں، اُنہیں اقتدار میں آئے ہوئے

تیرہ ماہ سے زیادہ ہو گئے، اب تک ایک بھی کرپٹ شخص کو کرپشن کے الزام

میں سزا نہیں دیجا سکی، جس کسی کو سزا ہوئی اس کے محرکات دوسرے تھے،

کہا جاتا تھا پاکستان میں12 ارب روپے روزانہ کے حساب سے کرپشن ہوتی رہی

ہے، لیکن ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے تو ملک میں صادق اور امین

لوگوں کی حکومت کے پھریرے لہرا رہے ہیں، یہ کرپشن بھی بند ہو چکی ہے،

کرپشن سے بچا ہوا یہ روپیہ کہاں گیا کسی کو کچھ علم نہیں، کیا یہ کسی کرپٹ

گینگ کے ہتھے چڑھ گیا، جو لوگ کرپشن کے میگا کیسز میں گرفتار ہیں، انہیں

بھی سزا نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ریلیف کب…..؟

وزیراعظم اگر پانچ سو کرپٹ لوگوں کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے

ادارے موجود ہیں اُن کے ذریعے کرپٹ لوگوں کو پکڑیں، اُن کیخلاف قانون کے

تحت مقدمات قائم، کرپشن کے ثبوت حاصل کریں اور قانون کے تحت سزا دلوائیں

ثبوت ایسے ٹھوس ہونے چاہئیں کہ اوّل تو یہ بری نہ ہو سکیں اور اگر کسی

قانونی سقم کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو اعلیٰ عدالت میں یہ کمی دور کر کے

ملزم کو سزا دلائی جائے- عدالتوں میں اکثر ایسے ملزم بری ہو جاتے ہیں جن

کے خلاف بڑے بڑے الزامات ہوتے ہیں لیکن ثبوت کوئی نہیں ہوتا،اِس لئے فاضل

جج صاحبان ایسے مقدمات میں ریمارکس دیتے ہیں کہ پولیس نے مقدمہ کی تفتیش

کرتے ہوئے عقل استعمال نہیں کی، اس طرح ماتحت عدالتوں کیخلاف بھی کبھی

کبھار ایسے ہی ریمارکس سننے کو ملتے ہیں کہ عدالت نے جھوٹی گواہیوں پر

اعتماد کر کے غلط سزا دیدی اِس لئے ملزم بری ہو جاتے ہیں، کرپشن تو کرپشن

ہم نے قتل تک کے ملزم باعزت بری ہوتے دیکھے ہیں جنہیں ’’چشم دید گواہوں‘‘

کی شہادت کی بنیاد پر پھانسی کی سزا ہو گئی مگر اعلیٰ عدالت نے ایسی شہادتوں

پر اعتبار نہیں کیا، اِس لئے اگر وزیراعظم 500 لوگوں کو گرفتار کرنیکی خواہش

پوری کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُسوقت تک خواب ہی رہے گی جب تک کرپٹ لوگ

تلاش نہیں کئے جاتے اور پھر اُن کیخلاف جائز اور درست مقدمات نہیں بنائے

جاتے، فرضی کہانیاں گھڑنے اور ان کی بنیاد پر تقریریں کرنے سے کچھ حاصل

نہیں ہوگا، بالفرض اگر وزیراعظم کی خواہش پر بھی ایسے 500 لوگوں کو کسی

طرح پکڑ لیا گیا تو بھی اُنہیں سزا دلوانے کیلئے مروجہ قانونی عمل سے گزرنا

ہو گا صرف گرفتاری یا گرفتار شدگان کے میڈیا ٹرائل سے نہ تو کسی کو سزا ہو

سکتی ہے اور نہ عدالتیں ایسی کسی مہم جوئی کو مانتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کپتان صاحب اوور کم رنز زیادہ، ایسے نہیں چلےگا

اس ضمن میں سوال یہ ہے کیا وزیراعظم کے ذہن میں کوئی ایسا خاکہ ہے جسے

کام میں لا کر وہ ان 500 کرپٹس کو گرفتار کرا سکیں، کیونکہ پاکستان میں ایک

آئین نافذ ہے جس کے تحت قانون سازی ہوتی ہے، قانونی عدالتیں ہیں جہاں سے

ملزموں کو سزا و جزا دینے کا عمل جاری ہے- چین میں بے شک 400 لوگوں

کو جیل میں ڈالا گیا لیکن کیا وہاں کرپشن ختم ہو گئی؟ اس کا جواب بھی تلاش

کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی وہاں ایک پارٹی کی حکومت ہے جسے

کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہوتا، البتہ اس کے اندر سے چیلنج ابھرتے رہتے

ہیں، ثقافتی انقلاب اور چار کے ٹولے کی بغاوت ایسے ہی چیلنج تھے۔

شیخو جی کا وزیراعظم کی خواہش پر تبصرہ

ہمارے شیخو جی اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ یوں فرماتے

ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کے لاحاصل ایجنڈے کو فی

الحال ایک سائیڈ پر رکھیں اور جیسے انہوں نے فرمایا کہ پہلے چین نے ہم سے

سیکھا اور اب وہ چین سے سیکھ رہے ہیں تو اسی پر عمل کرتے ہوئے ملک میں

بے قابو ہوئی مہنگائی، ناجائز منافع خوری کو ختم کرنے پر اپنی توجہ مرکوز

کریں تاکہ نچلی سطح پر عالم مجبوری میں جڑیں پکڑنے والی کرپشن و لا

قانونیت کو روکا جا سکے ورنہ آئے روز میڈیا پر ہمارے معاشرے میں جنم لینے

والے واقعات کسی تباہ کن طوفان سے کم نہیں، جن پانچ سو افراد کو وزیراعظم

عمران خان مملکت خداداد میں کرپٹ سمجھتے ہیں اور انہیں منطقی انجام تک

پہنچانے کے خواہاں اس کیلئے انہیں عوامی طاقت کی ضرورت ہے جس سے وہ

خود اور ان کی پارٹی دن بدن محروم ہوتے جارہے ہیں اور یہ کسی بھی طور

درست نہیں-

پانچ سو کرپٹ

Leave a Reply