تحریک لبیک حکومت مذاکرات

کالعدم ٹی ایل پی کا اسلام آباد کی جانب مارچ جاری، جی ٹی روڈ پر خندقیں کھود دی گئیں

Spread the love

ٹی ایل پی مارچ

لاہور،اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی نے حکومتی ٹیم

کیساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا،جبکہ ذرائع کا کہنا ہے حکومت کی ٹیم اور کالعدم ٹی ایل پی

کے سربراہ سعد رضوی کے مابین ہونیوالے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا جبکہ دوسرا دور جار

ی ہے،قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھاکہ

کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی سے جیل میں مذاکرات کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر

داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت اہم اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب سیف سٹی اتھارٹی آفس میں ہوئے

اجلاس میں وفاقی و صوبائی وزراء بھی شریک ہوئے، اجلاس میں نور الحق قادری ،علی امین گنڈہ

پور، صوبائی وزیر قانون راجا بشارت ،آئی جی پنجاب اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ شیخ

رشید کو کالعدم تنظیم ٹی ایل پی مارچ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اور اجلاس میں فیصلہ کیا گیا

کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی آج کوٹ لکھپت جیل جائے گی، کمیٹی میں ایک وفاقی وزیر اور ایک

صوبائی شامل ہونگے،جہاں وہ سعد رضوی سے مذاکرات کرینگے ۔واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ

شیخ رشید کی زیر صدارت اجلاس وزیراعظم عمران خان کی دورہ سعودی عرب کیلئے روانہ ہونے

قبل ہدایات کی روشنی میں منعقد ہوا،وزیر اعظم نے ہدایت کی تھی کہ وزیرداخلہ شیخ رشید، وفاقی

وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور صوبائی وزیرقانون راجا بشارت پر مشتمل حکومتی ٹیم کالعدم

تحریک لبیک پاکستان کی قیادت سے مذکرات کرکے معاملات کو حل کرے۔ اجلاس میں امن و امان

کی صورتحال، کالعدم تنظیم کے احتجاج کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر وزیر داخلہ

اور شرکاء کو امن و امان کی صورتحال اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی حکمت عملی بارے

تفصیلی بریفنگ دی گئی اورمستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تمام متعلقہ اداروں سے رائے لی

گئی۔اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید کو کالعدم تنظیم کے اسلام آباد کی طرف مارچ کے حوالے سے

بریفنگ دی گئی۔وزیر قانون راجہ بشارت نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا مظاہرین کی سینئر قیادت میں

4افراد سے رابطے ہوئے ہیں، تین روز میں چار بار مذاکرات ہوچکے ہیں۔ادھرمیڈیا رپورٹ کے

مطابق کالعدم جماعت کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کیلئے وزارت داخلہ نے ہنگامی اقدامات شروع

کر دیئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کو احتجاجیوں سے محفوظ رکھنے کیلئے دیگر صوبوں سے بھاری

نفری طلب کرلی گئی۔ پنجاب، آزادکشمیر اور خیبر پختوانخوا سے پولیس کے 30ہزار جوان مانگے

گئے ہیں۔ تینوں صوبوں کو نفری کیساتھ دنگا فساد سے نمٹنے کا سامان بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی

گئی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے نفری اسلام آباد پہنچانے کیلئے سیکرٹریز کو مراسلے بھجوا دئیے۔

دوسری جانب نور الحق قادری نے علماء کرام سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور کہا حکومت مذاکرات

کے ذریعے معاملات حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین

ترجیح ہے۔دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور میں کالعدم جماعت کی طرف سے احتجاج کے

بعد ٹریفک معمول پر آ گئی ہے۔ تاہم مارچ کو دریائے چناب کے قریب روکنے کیلئے جی ٹی روڈ پر

خندقیں کھودی گئی ہیں ، ہائی وے پولیس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گوجرانوالہ میں دریائے چناب

کے قریب مارچ کو روکنے کیلئے گھڑے کھود دیئے گئے ہیں، جی ٹی روڈ ٹول پلازہ پر 12فٹ

چوڑی اور 12فٹ گہری خندقیں بنائی گئی ہیں، مارچ کو روکنے کیلئے اسلام آباد سے لاہور اور لاہور

اسلام آباد جانے والا مین جی ٹی روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔دوسری طرف جی ٹی

روڈ پر گھڑے کھودے جانے سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، گھڑے کھودنے سے

گوجرانوالہ شہر کا گجرات کا رابطہ کٹ گیاہے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق صوبائی

دارالحکومت لاہور شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں

ہے،ادھر کالعدم تنظیم کے کارکنوں کااسلام آبادکی طرف مارچ جبکہ پولیس کی جانب سے رکاوٹیں

کھڑی کر کے مارچ کے شرکاء کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں ،مختلف مقامات

پر تصادم کے نتیجے میں پولیس افسران ، اہلکاروں اور کالعدم تنظیم کے کارکنوں کے زخمی ہونے

کی اطلاعات ہیں ،جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ،محکمہ داخلہ کی جانب سے

مارچ کے روٹ اوراطراف کے علاقو ں میں موبائل سروس بند رکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے

شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناہے ۔ کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے گزشتہ روز دوبارہ لاہورسے

اسلام آبادکی طرف مارچ شروع کیا توپولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جس

سے جی ٹی روڈ میدان جنگ بنا رہا۔پولیس کے مطابق کالعدم تنظیم کے کارکنوں کی جانب سے شدید

پتھرا ؤسے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ اوز سمیت 50 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس کی متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ،بتایا گیا ہے

کہ مشتعل مظاہرین پولیس کی طرف سے لگائی رکاوٹیں ہٹاکر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ ایدھی رضا کارو ں

کے مطابق گزشتہ روز بھی پولیس اہلکاروں اور کالعدم تنظیم کے کارکنوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال

منتقل کرنے کاسلسلہ جاری رہا ۔ لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں کالعدم جماعت کی جانب سے

احتجاج کیا جارہا ہے جس کے پیش نظر تینوں شہروں میں کئی راستے بند ہیں جبکہ کالعدم تنظیم کے

احتجاج کے باعث پنجاب کے کئی شہروں میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔صوبائی محکمہ

داخلہ کے مطابق شیخوپورہ، گوجرنوالہ اور گجرات میں انٹرنیٹ سروس تاحکم ثانی معطل رہے گی۔

اس کے علاوہ کالا شاہ کاکو، مرید کے،کامونکی، گوجرانوالہ، وزیر آباد اور گجرات میں بھی انٹرنیٹ

سروس کو بند کردیا گیا ہے۔محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ریلی جس جس ضلع سے گزرے گی وہاں

انٹرنیٹ سروس معطل کی جائے گی۔

ٹی ایل پی مارچ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply