ٹیکنالوجی ہماری تابع ہوتی نہ کہ ہم مگر پاکستان میں سب الٹا

Spread the love

کراچی(جے ٹی این آن لائن) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں کنٹینیوڈ میڈیکل

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام طالبعلموں میں موبائل اور انٹر نیٹ کے استعمال

کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کیلئے منعقدہ سے خطاب کرتے ہوئے معروف

ماہر نفسیات ڈاکٹر اقبال خان آفریدی نے کہا آج کی نسل کے تمام مسائل کا حل

اسلامی تعلیمات کی بجاآوری میں پوشیدہ ہے ۔اسلام زندگی کے کے ہر معاملے میں

میانہ روی کا درس دیتا ہے ۔ یہ ہی اصول انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے بھی

اختیار کرنا چاہیئے ۔ آج کل بچے رات گئے تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں

گم رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں متعدد نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جن

میں ڈپریشن سب سے عام ہے ۔ ڈپریشن سے بچے رہنے کے لیے ضروری ہے

رات کو زیادہ سے زیادہ رات ساڑھے دس بجے تک سوجایا جائے اور صبح

سویرے اٹھا جائے ۔ رات کی پرسکون نیند اور دن میں بیس منٹ کی ورزش انسان

کو بہت سی بیماریوں سے دور رکھتی ہے ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے

آئرلینڈ میں نفسیات داں کے طور پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر عرفان علی سید

کا کہنا تھا فی زمانہ جدید ٹیکنالوجی نے ہم سب کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے

جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی ہماری تابع ہوتی نہ کہ ہم اس کے ۔انہوں نے

اس موقع پر گیجٹس کے استعمال کے بد اثرات کے حوالے سے پریزنٹیشن بھی دی

جس میں مختلف مثالوں کے ذریعے نوجوانوں کو انٹرنیٹ کی دنیا سے بلاضرورت

قرب حاصل کرنے کے نقصانات بتائے ۔

Leave a Reply