ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز کی عدم دلچسپی، گذشتہ ہفتے کاٹن مارکیٹ مندی کا شکار

ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز کی عدم دلچسپی، گذشتہ ہفتے کاٹن مارکیٹ مندی کا شکار

Spread the love

کراچی (جے ٹی این آن لائن بزنس نیوز) ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز

مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ٹیکسٹائل و اسپنگ ملزکی جانب

سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی اور جنرز کے پاس صرف 40 لاکھ

گانٹھوں کا سٹاک رہ جانے کی وجہ سے کاروبار کا حجم بہت ہی کم رہا، کوئی اکا

دکا سودا ہو جاتا ہے، باقی کاروبار بالکل کم ہوگیا ہے۔ بہرحال روئی کے بھاؤ میں

استحکام رہا، زیادہ تر لوگ اب آئندہ سیزن کی کپاس کے لیے کوششیں کر رہے ہیں

پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے بھی اس کی اویرنس دی جا رہی ہے اور حکومتی

ادارے بھی سرگرم عمل ہیں، صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 10200 تا

10500 روپے جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 11000 روپے 11300

روپے، کوئی ادھار کا کام ہو جائے یا بلوچی کاٹن کا تو اس کا بھاؤ 12500 تا

13000 روپے ہو جاتا ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی سپاٹ ریٹ کمیٹی نے

سپاٹ ریٹ فی من 11300 روپے کے بھاؤ پر مستحکم رکھا۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا بین الاقوامی کاٹن

مارکیٹوں میں اتارچڑھاؤ کا رجحان ہے، نیویارک کاٹن مارکیٹ میں روئی کا بھاؤ

مستحکم کہا جا سکتا ہے، جو کبھی اوپر چلا تو کبھی نیچے آ جاتا ہے تاہم مجموعی

طور پر مستحکم ہے، USDA کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں پچھلے ہفتے کی

نسبت 17 فیصد برآمد کم ہوئی، اس دفعہ صرف 63 ہزار 700 گانٹھوں کے برآمدی

سودے ہوئے، جس میں پاکستان 16 ہزار 200 گانٹھیں لے کر سرفہرست رہا اور

بنگلہ دیش 15 ہزار 800 گانٹھیں لے کر دوسرے نمبر پر رہا- بھارت سے موصولہ

اطلاعات کے مطابق وہاں کرونا کی دوسری لہر کی وجہ سے کئی جگہ لاک ڈاؤن

ہونے کے سبب روئی کی کھپت میں 8 فیصد کمی واقع ہوئی اور ہپت گٹھ کر 3

کروڑ 3 لاکھ گانٹھوں کی رہ گئی-

=-= قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

گزشتہ سال بھارت میں روئی کی ہپت 3 کروڑ 30 لاکھ گانٹھوں کی تھی، بھارت

میں سینٹرل ٹیکسٹائل کمیٹی برائے پروڈکشن اینڈ کنزمشن نے بتایا امسال کاٹن کی

ایکسپورٹ بھی کم ہو گی، گزشتہ سال بھارت میں کپاس کا کلوزنگ سٹاک 98 لاکھ

گانٹھوں کا تھا، اس دفعہ ستمبر 2021ء کو بڑھ کر 1 کروڑ 18 لاکھ گانٹھوں کا ہو

جائے گا، اس سال بھارت میں روئی کی پیداوار جو گزشتہ سال تین کروڑ 71 لاکھ

گانٹھوں کی تھی وہ 11 لاکھ گانٹھیں کم ہو کر تین لاکھ 60 ہزار گانٹھیں رہنے کی

توقع ہے، امسال بھارت میں کسانوں کی طویل ہرتال کی وجہ سے کپاس کی بوائی

اندازے سے کم ہوئی ہے، اس وجہ سے بھارت میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی

کے بھاؤ میں تقریبا 700 فی کینڈی اضافہ دیکھا گیا۔

=-= امسال ٹیکسٹائل ملز زیادہ روئی امپورٹ کرنے میں محتاط رہیں گی

برازیل وسطی ایشیا اور ارجنٹینا وغیرہ میں روئی کا بھاؤ مستحکم رہا حالانکہ

برازیل وغیرہ میں نئی فصل کی روئی آنا شروع ہو جائے گی۔ علاوہ ازیں امسال

بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں خصوصی طور پر امریکہ میں روئی کے بھاؤ

گزشتہ سال کے نسبت زیادہ ہونے کی وجہ سے مقامی ٹیکسٹائل ملز زیادہ مقدار

میں روئی امپورٹ کرنے میں محتاط رہیں گے۔ ملک میں امسال روئی کی بوائی

زریں سندھ میں خاصی ہو رہی ہے اور صوبہ پنجاب میں بھی کچھ علاقوں میں

کپاس کی بوائی شروع ہو چکی ہے ،سندھ کے زریں علاقوں سے پھٹی مئی کے

آخر میں آنا شروع ہو جائے گی اور ایک آدھ سانگڑ کی فیکٹری ہو سکتا ہے، مئی

کے آخر میں یا جون کے شروع میں جزوی طور پر چلنے کی توقع کی جا رہی

ہے۔

=–= حکومت کی مافیا کیخلاف کارروائی سے پیداوار میں اضافہ متوقع

حکومت کی طرف سے بھی امسال جعلی بیج اور ناقص ادویات کے خلاف مہم

چلائی ہوئی ہے اور کئی مافیا کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اگر یہ حکومت کی کوشش

جاری رہی تو ہو سکتا ہے کہ اگلے سیزن کی کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے

گا۔ پی سی جی اے کی جانب سے کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہر ایک علاقوں

میں اور جننگ فیکٹریوں میں ان علاقوں کے کپاس کے کاشتکاروں کی میٹنگیں کی

جا رہی ہیں، انہیں آگاہی دی جا رہی ہے اور ترغیب دی جارہی ہے کہ امسال زیادہ

سے زیادہ کپاس کی بوائی کی جائے تاکہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں کچھ حد

تک اضافہ لایا جا سکے یہ ٹاسک فورس جو PCGA نے بنائی ہوئی ہے ان کے

ساتھ سبسڈی دینے کیلئے زرعی بینک کے افسران بھی جارہے ہیں اور کسان کارڈ

دینے کیلئے ان کی معاونت کررہے ہیں۔

ٹیکسٹائل و اسپنگ ملز

Leave a Reply