0

ٹیکسوں کی تعداد میں کمی47سے کم کر کے 16کردی گئی،نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ون ونڈو

Spread the love

وفاقی حکومت نے ملک میںکاروباری طبقے کیلئے ٹیکسوں کی تعداد 47سے کم کر کے 16کردی ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے کہا ہے کہکاروباری طبقے کیلئے آن لائن ٹیکس ادائیگی کی سہولت میسر کر دی، ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں، پانچ سال میں آسان کاروبار سے متعلق پاکستان کو136ویں نمبر سے ٹاپ 50ممالک میں لانا ٹارگٹ ہے، نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن اب ون ونڈو کے ذریعے ہوسکے گی، ۔بدھ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داد نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری لانے کیلئے کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان کی رینکنگ کو بہتر کرنا ہے، آسان کاروبار سے متعلق پاکستان 136ویں نمبر پر ہے، وزیراعظم نے پاکستان کی رینکنگ بہتر کرنے کا ہدف دیا ہے، پاکستانی مصنوعات کا معیار بڑھانا اور قیمتیں مناسب رکھنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق بھی آسانی پیدا کررہے ہیں، اب ون ونڈو کے ذریعے کمپنی کی رجسٹریشن ہوا کرے گی، پورٹل بنایا ہے جہاں کمپنی کو تمام سہولیات ایک جگہ ملیں گی، کاروباری طبقے کے لیے ٹیکسوں کی تعداد 47سے 16کردی ہے، ہماری ٹیم نے صوبوں کے ساتھ مل کر ٹیکسوں سے متعلق کام کیا۔ مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کو ان کی رقم 15دن میں اسٹیٹ بنک سے ریفنڈ ہو جائیگی۔ہوٹلنگ ،ریزارٹ اور سیاحت میں وزیراعظم خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ ٹریکٹر اور موٹر سائیکلوں کی برآمد شروع ہونے والی ہے۔وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ بجلی کنکشن اور لوڈشیڈنگ کے اوقات سے متعلق شکایات ہیں، وزارت توانائی کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جارہے ہیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور دیگر تفصیلات ویب سائٹ پر فراہم کریں گے۔عبدالرزاق داد نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک کے انڈکس میں بہتری کے لیے پرامید ہیں، ہر وہ اقدام کرنا چاہتے ہیں جس سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں معاونت ہو۔خطے کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کی کھپت کی صلاحیت موجود ہے،ہمیں پاکستانی مصنوعات کا معیار بڑھانا اور قیمتیں مناسب رکھنا ہونگی،ٹریکٹر اور موٹر سائیکلوں کی برآمد شروع ہونے والی ہے۔اس موقع پر چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار جنوبی ایشیا کو دیکھ رہے ہیں، ہم ٹیکنالوجی پاکستان میں لانے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں،پیداوار بڑھانے کیلئے ٹیکنالوجی پر توجہ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں آسان کاروبار سے متعلق پاکستان کو136ویں نمبر سے ٹاپ 50ممالک میں لانے کا ٹارگٹ ہے،کاروباری افراد کیلئے ٹیکس نظام آسان بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں، کاروباری طبقے کے لیے ٹیکسوں کی تعداد 47سے 16کردی ہے یہ تعداد بھارت میں اس وقت13ہے،کاروباری افراد آن لائن بھی اپنا ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں۔ہارون شریف کا کہنا تھا کہ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں مشکلات تھیں،جن کو دور کر رہے ہیں، اب ون ونڈو کے ذریعے کمپنی رجسٹر کی جاسکے گی، پنجاب ،ای او بی آئی ، ایس ای سی پی کو ون ونڈو کے ذریعے جوڑا ہے،مارچ تک سندھ بھی اس سسٹم میں آجائے گا۔ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس سے ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت بڑھے۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کو لوڈ شیڈنگ کا شیڈول نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات تھیں اور وہ اپنا بزنس پلان مرتب نہیں کر سکتے تھے۔ بجلی کنکشن اور لوڈشیڈنگ کے اوقات سے متعلق شکایات ہیں، اب وزارت توانائی تاجروں کو ویب سائٹ پر معلومات فراہم کریگی،بجلی کنکشن کیلئے درکار مدت میں50 فیصد کمی کی ہے،پنجاب میں پراپرٹی کی رجسٹریشن کو بھی ون ونڈو کردیا ہے،ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے گی،بارڈر پرٹرکوں کی کلیئرنس کے عمل کو بھی بہتر کیا جارہا ہے،آسان کاروبار کیلئے چاروں صوبوں میں خصوصی یونٹ قائم کیے جائینگے،خصوصی یونٹس کاروباری افراد کو 24گھنٹے خدمات فراہم کرینگے،پاکستانی سفارتخانہ بزنس ویزہ 24گھنٹے میں فراہم کر دیتا ہے،سرمایہ کاروں کی آسانی کیلئے بزنس ویزہ بھی آن لائن کر دیا گیا ہے،ہمسایہ ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں،سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور کوریا بھی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں،کچھ ملک پاکستان میں فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply