پاکستان کو ایک اور امتحان کا سامنا، شدید ٹڈی دل حملوں کی ہولناک وارننگ 94

ٹڈی دل خطرہ ،اقوام متحدہ کاپاکستان کیلئے انسدادی کرائسز اپیل کا ارادہ

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) ٹڈی دل خطرہ

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن پاکستان میں صحرائی ٹڈی دل

کے حالیہ حملوں پر قابو پانے کی کو ششوں میں توسیع کیلئے آئندہ ہفتوں میں

کرائسز اپیل کا آغاز کرنے کا ارادہ کررہی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف اے او

کے ڈائر یکٹر جنرل کیو ڈونگیو کی جانب سے جاری پروگریس رپورٹ کے

’ٹڈی دل کا خطرہ برقرار، 8 ہفتےسنگین، خاتمے کیلئے عملہ نہ ہی ادویات موجود

مطابق اپیل کے نظرثانی شدہ ورژن کی ضرورت پڑگئی ہے کیونکہ ٹڈی دل ا فریقہ

کے ساحلی خطے کیساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کیلئے خطرہ بن رہے ہیں۔رواں

سال کے آغاز میں ایف اے او نے براعظم افریقہ کے دس ممالک کیلئے کرائسز

اپیل کا کامیاب آغاز کیا تھا جہاں ٹڈی دل کے حملے بہت زیادہ خطرناک تھے اور

ایف اے او نے افریقہ کے متاثرہ ممالک میں ٹڈی دل کے جھنڈ پر قابو پانے کیلئے

13کروڑ ڈالر متحرک کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال

پاکستان کیلئے بھی اسی طرح سنگین ہوسکتی ہے جہاں 38فیصد علاقہ(بلوچستان

میں، 60فیصد سندھ میں 25اور پنجاب میں 15فیصد)ٹڈی دل کے جھنڈ کی افزائش

نسل کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو ان کے ملک کے

دوسرے حصوں میں جانے کا کافی خطرہ موجود ہے۔پودوں، مٹی کی قسم اور

دیگر عوامل کی بنیاد پر 437،900مربع کلومیٹر کے علاقے میں سے

161،720مربع کلومیٹر علاقے میں ٹڈی دل کے حملوں کا زیادہ شبہ قرار دیا گیا

ہے۔غیر محفوظ علاقوں میں سے مجموعی طور پر 124،299مربع کلومیٹر علاقے

کا دورہ کیا گیا ہے اور 8ہزار 843مربع کلومیٹر کو ٹڈی دل سے پاک کیا جاچکا

ہے۔ایف اے او کی جانب سے پاکستان میں صحرائی ٹڈی دل کی صورتحال سے

متعلق تیار کی گئی، رپورٹ کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں موسم بہار میں افزائش

نسل پانیوالے جھنڈ بلوچستان کے حصوں کا رخ کریں گے جہاں سے بڑے جھنڈ

مئی کے اواخر اور جون میں ایران کا رخ کریں گے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ

وہ جھنڈ جن کا پتہ نہیں لگایا گیا یا علاج نہیں کیا گیا تو پھر ان کے وادی سندھ

عبور کرکے تھرپارکر، نارا اور چولستان کے صحرائی علاقوں میں پہنچنے کے

امکانات ہیں جب مون سون کی بارشیں بھی تباہی پھیلارہی ہونگی۔نیشنل ڈیزاسٹر

اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی سے جاری حالیہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ

فار انٹر نیشنل ڈیویلپمنٹ نے پاکستان میں ٹڈی دل پر قابو پانے کیلئے 60لاکھ یورو

دینے کا وعدہ کیا ہے۔یہ رقم ایف اے او کے ذریعے خرچ کی جا ئیگی جو 50الٹرا

لو والیوم مسٹ مائیکرون ایئر اسپریز، 100ای لوکسٹ ڈیوائسز اور محکمہ برائے

تحفظ نباتات کو ٹڈی دل سے متعلق سروے اور ان پر قا بو پانے کیلئے 10گاڑیاں

دیگا۔اپریل میں چین نے ٹڈی دل پر قابو پانے میں معاون پیکج فراہم کیا تھا جس میں

3لاکھ لیٹر یو ایل او 50 وہیکل مانٹیڈ اسپریئرز شامل تھیں۔

ٹڈی دل خطرہ

Leave a Reply