ٹوکیو اولمپکس، چینی، ازبک اور ترکی خواتین کھلاڑی، دلچسپ واقعات

ٹوکیو اولمپکس، چینی، ازبک اور ترکی خواتین کھلاڑی، دلچسپ واقعات

Spread the love

ٹوکیو(جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) ٹوکیو اولمپکس خواتین کھلاڑی

ٹوکیو اولمپکس میں چینی کھلاڑی سے شادی کے سوالات پر بحث چھڑ گئی،

ازبکستان سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ جمناسٹ اوکسانا نے اولمپکس میں نئی

تاریخ رقم کر دی، ترک والی بال کھلاڑی زہرہ گونیش اولمپکس میں اپنی ٹیم کو

جیت تو نہ دلا سکیں لیکن انہوں نے دنیا بھر میں پرستاروں کے دل جیت لیے، اور

ان کا نام ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-

=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق چین کیلئے گولڈ میڈل حاصل کرنے والی گونگ لیڑاؤ سے

سرکاری میڈیا کی جانب سے پوچھا گیا کہ وہ شادی کب کریں گی اور بچے کب پیدا

کریں گی۔ شاٹ پٹ کھلاڑی کو مردانہ خاتون کہہ کر بھی پکارا گیا۔ اس کے علاوہ

انٹرویو کے دوران ذاتی زندگی کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے جن کی

سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں سوشل میڈیا

پر یہ موضوع اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ کر رہا ہے کہ کیا کسی خاتون کے

بارے میں صرف شادی کے حوالے سے ہی بات کی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا

صارفین نے اس طرح کے سوالات کو جنس کی بنیاد پر تفریق کرنیوالا رویہ قرار

دیا ہے۔ انٹرویو کا آغاز ہونے سے پہلے ٹوکیو اولمپکس سے متعلق ایک کلپ چلایا

گیا جس میں چینی میڈیا کی صحافی نے کہا تھا کہ گونگ کے اس غیر معمولی

لمحے سے قبل میں اس گمان میں تھی کہ وہ شاید ایک مرد ہیں۔

=–= ایسی ہی مزید دلچسپ و عجیب خبریں =–= پڑھیں =–=

سوشل میڈیا پر انٹرویو میں استعمال ہونے والے الفاظ اور سوالات پر سرکاری ٹی

وی کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ گونگ سے پوچھے جانے

والے سوالات تفریق پر مبنی اور گونگ کی جسامت کا مذاق اڑانے والے تھے۔

متعدد صارفین نے گونگ کے لیے حمایتی پیغامات لکھ کر ان کا حوصلہ بڑھانے

کی کوشش کی ہے۔ایک پیغام میں ایک صارف نے لکھا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اس

کی شادی نہیں ہو رہی ہے۔ بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے کا کوئی مرد ہے ہی نہیں۔

جب ہم خواتین کی بات کرتے ہیں تو صرف ان کی خوبصورتی یا شادی کی بات

نہیں، بلکہ ان کی کامیابیوں اور خوابوں کی بات بھی ہونی چاہیے۔ پیغامات کا جواب

دیتے ہوئے گونگ نے لکھا یہ پیغام میرے احساسات کی عکاسی کرتا ہے، بہت

شکریہ!۔

=-،-= 46 سالہ ازبک جمناسٹ اوکسانا مسلسل 8 اولمپکس کھیلنے والی پہلی خاتون

ازبکستان سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ جمناسٹ اوکسانا نے اولمپکس میں نئی

تاریخ رقم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ازبکستان کی 46 سالہ جمناسٹ اوکسانا نے

1992 سے لیکر ٹوکیو اولمپکس تک مسلسل 8 اولمپکس میں شرکت کرکے نئی

تاریخ رقم کر دی۔ ان کا یہ ریکارڈ اب کسی ایتھلیٹ کے لیے توڑنا ناممکن دکھائی

دے رہا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس ان کے کیرئیر کا آٹھواں اولمپکس ہے وہ سب سے

زیادہ اولمپکس میں شرکت کرنے کی تاریخ رقم کر چکی ہیں۔ 2012ء میں ان کا

ارادہ جمناسٹک ورلڈ سے ریٹائر ہونے کا تھا تاہم پھر انہیں لگا کہ وہ ابھی مزید

اپنی پرفارمنس کا مظاہرہ کرسکتی ہیں تو پھر سے ایکشن میں آگئیں۔ دلچسپ بات

یہ ہے کہ اوکسانا نے اپنا پہلا گولڈ میڈل اس وقت جیتا جب امریکہ کی ایتھیلیٹ

سائمن بائلز نے اپنا پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا تھا۔ اوکسانا کی خاصیت ان کی فل

ٹوئیسٹنگ ڈبل لے آؤٹ جمناسٹک ہے جو انہوں نے 1991ء کی ورلڈ چمپئن شپ

میں استعمال کیا تھا اور25 سال بعد ایساہی کچھ سائمن بائلز کرتی نظر آرہی ہیں۔ یاد

رہے کہ بیجینگ اولمپکس میں ازبک جمناسٹ نے سلور میڈل حاصل کیا تھا۔

=-،-= ترک والی بال پلیئر کے چرچے، شادی کے پیغامات ملنے لگے

ترک والی بال کھلاڑی زہرہ گونیش اولمپکس میں اپنی ٹیم کو جیت تو نہ دلا سکیں

لیکن انہوں نے دنیا بھر میں پرستاروں کے دل جیت لیے، ان کا نام ٹویٹر پر ٹاپ

ٹرینڈ بن چکا ہے۔ ان کے کھیل کے ساتھ ساتھ خوبصورتی کے بھی چرچے ہیں۔

انہیں سوشل میڈیا پر شادی کے پیغامات بھی دیے جارہے ہیں۔ 22 سالہ زہرہ نے

2018ء میں پہلی مرتبہ ترکی کی طرف سے بین الاقوامی والی بال میچ کھیلا تھا۔

وہ سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں اور انسٹاگرام پر ہی 10 لاکھ سے زائد چاہنے

والے رکھتی ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس خواتین کھلاڑی ، ٹوکیو اولمپکس خواتین کھلاڑی، ٹوکیو اولمپکس خواتین کھلاڑی

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply