ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کے باعث حکومتی شٹ ڈاﺅن پر سنجیدہ امریکی حلقے پریشان

Spread the love

امریکہ کے سیاسی مبصرین اس امر پر سخت پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ ناقص رویے کے باعث حکومت کے عارضی شٹ ڈاﺅ ن سے پیدا ہونےوالا بحران مسلسل جاری ہے جو دسویں دن میں داخل ہوگیاہے ۔اسوقت صورتحال یہ ہے نیا مالی سال یکم اکتوبر 2018 شرو ع ہو چکا ہے جو ستمبر 2019تک مکمل ہو گا، حکومت کے مختلف محکموں کے اخراجات کے تمام بل ا بھی تک منظور نہیں ہوسکے ۔کل بارہ بلز میں سے نو منظور ہوچکے ہیں جو توانائی ،پانی ،محنت اور صحت ہیومن سروسز کے شعبوں کے متعلق ہیں جو تین بل منظور نہیں ہوسکے ان میں تجارت دفا ع اور سائنس کے شعبے شامل ہیں۔صدر ٹر مپ ان بلوں پر دستخط کر نے کو تیا ر نہیں کیونکہ وہ محکمہ ا نصاف کو سزا دینا چاہتے ہیں جس نے رابر ٹ میولر کو خصوصی تفتیش کار مقرر کر رکھا ہے جو گزشتہ صداررتی انتخابات میں ٹر مپ کے حق میں خصو صی مداخلت کی تحقیقات میں مصروف میں جس سے صدر ٹرمپ بہت پریشان ہیں ،دوسری وجہ یہ ہے صدر میکسیکو بارڈر پر دیوار کی تعمیر کےلئے فنڈز جوان بلوں میں شامل ہیں جس کی منظوری کانگریس دینے کیلئے تیار نہیں،جن محکموں کے بجٹ منظور نہیں ہوسکے ان کا کام چلانے کیلئے تھوڑی تھوڑی مدت کی عارضی فنڈنگ فراہم کی جارہی ہے ،آخری مرتبہ 21دسمبر کی رات عارضی فنڈ فراہم کرنے کی تاریخ گزر جانے کے بعد ان محکموں کےلئے فنڈز موجود نہ ہونے کے باعث ان کا عارضی شٹ ڈاﺅن ہوگیا تھا جو اس وقت تک جاری ہے ،صدر ٹرمپ نے کرسمس پیغام میں اور اس کے بعد بھی کانگریس کے ڈیمو کرٹیک ارکان سے اپیل کی تھی وہ چھٹیوںسے واپس آئیں اور باقی ماندہ بلوں پر سمجھوتے پر بات چیت کر یں تاکہ انہیں منظور کیا جاسکے ،اس پر سینٹ اور ارکان نمائند گا ن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی لیڈروں نینسی پلوسی اور چک شمر نے ایک مشترکہ بیان میں صدر ٹرمپ کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ صحت کے بل کو روک کر شہریو ں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، سینٹ کے ریپبلکن ار کان جس کو مسترد کر رہے ہیں اسے وہ پہلے منظور کر چکے ہیں جو ان کی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے، صدر ٹرمپ اور ڈیمو کریٹس ایک دوسرے کو نقصان کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جس کے فوری ختم ہونے کا امکا ن نظر نہیں آرہا ۔

Leave a Reply